خوف

Asma Tariq

06 جنوری 2019

خوف

تحریر:اسماء طارق۔۔۔کتنے مضبوط چہروں کے پیچھے کتنے نازک لوگ ہوا کرتے ہیں، پتھر دکھنے والوں کے دل کس قدر معصوم ہوتے ہیں یہ کون جانے. وہ معصوم سا ڈرا ہوا سہما ہوا بچہ ہر ایک کے اندر موجود ہوتا ہے. بس فرق اتنا ہے کہ کچھ اسکو ہروقت ساتھ لیے پھرتے ہیں جس وجہ سے وہ بچہ ڈر اور خوف کا شکار ہو کر رونا شروع کر دیتا ہے اور اس کا مالک اس سے پریشان ہو کر واویلا کرنا شروع کر دیتا ہے اور اب ان کو ہر پل خوف زدہ کرتا ہے وہ ہر لمحہ دنیا سے ڈرتے رہتے ہیں-اور کچھ کر نہیں پاتے. اور دوسری طرف وہ لوگ ہیں جنہوں نے بے خوفی کا نقاب اوڑھ رکھا ہوا ہے، ایسا نہیں ہے کہ ان کے اندر یہ معصوم ڈرا ہوا بچہ نہیں ہے بلکہ ہو سکتا ہے وہ انہیں بہت ڈراتا ہو مگر وہ اسے ہر جگہ اٹھائے نہیں پھرتے ، وہ ہر بار اسکے واویلے پر اسے تھپکی دے کر چپ کر ا دیتے ہیں اور یہی ہوتے ہیں اصلی لوگ ، جو دنیا میں جینا سیکھ جاتے ہیں ، اپنی ذات کے وقار اور بقا کے ساتھ، خوف سے آزاد انسان ابھی تک نہیں جنما ہے ۔ ہم سب خوف کی کسی نہ کسی شکل کے

حصار میں ہوتے ہی ہیں ، یہ خوف کبھی باہری دنیا کا ہوتا ہے اور کبھی خود ہمارے اندرون کا پیدا کیا ہوا، لیکن عجیب بات تو یہ ہے کہ ہر کوئی یہاں ڈرا ہوا ہے ایک دوسرے سے مگر ڈرانے کے عمل سے باز نہیں آتا ہے. ہم سب ایک دوسرے سے ڈرتے ہیں اور اس سے بچنے کے

خفاظتی اقدام کرتے ہیں مگر اس سب کے باوجود ہم دوسروں کو خوف ذرہ کرنے کے عمل سے باز نہیں آتے، شاید جب ہم ڈرا رہے ہوتے ہیں تو دراصل ڈر رہے ہوتے. ہم اس معاشرے میں رہتے ہیں جہاں مر مر کر جیا جاتا ہے، ہم روز جینے کے لئے ایک دوسرے کو مارتے ہیں اور افسوس کہ کوئی بھی اس عمل سے باز نہیں آتا ہے. ہم ایک کھٹے ہوئے معاشرے کی پیداوار ہیں، جہاں زور ہمارا دم کهوٹتا ہے، کہیں

ہوا کا کوئی سراخ نہیں ملتا.اب ہم اس ماحول کے اتنے عادی ہو چکے ہیں کہ ہمیں اگر کوئی سراخ دکھائی بھی دے تو ہم اس کو بند کرنے لگ جاتے ہیں.اور اس اندھیرے میں ہم بھاگ رہے ہیں اور بس بھاگ رہے ہیں، اور ایک دوسرے یہ آگے نکل جانے کے لئے ایک دوسرے کو ٹکریں مار رہے ہیں. اور سمجھتے ہیں کہ وہی کامیاب ہے جو دوسروں کو پیچھے چھوڑ گیا ہے۔

 55