Add new Article

سپریم کورٹ نے چیئرمین نیب جاوید اقبال کو طلب کرلیا

04 جنوری 2019

contentModel.content.description

اسلام آباد: وفاقی دارالحکومت میں اسپتال کی تعمیر سے متعلق مقدمے میں چیف جسٹس نے چیئرمین نیب جسٹس (ر) جاوید اقبال پر شدید برہمی کا اظہار کرتے ہوئے انہیں اپنے چیمبر میں طلب کرلیا۔

سپریم کورٹ میں چیف جسٹس پاکستان جسٹس میاں ثاقب نثار کی سربراہی میں اسلام آباد میں اسپتال کی تعمیر سے متعلق مقدمے کی سماعت ہوئی۔

اس موقع پر سیکرٹری صحت نے عدالت کو بتایا کہ اسلام آباد کے علاقے ترلائی میں 200 بیڈ کا اسپتال بنا تھا، اس موقع پر جسٹس اعجاز الاحسن نے سوال کیا جو اسپتال حکومت بحرین نے بنانا تھا اور سی ڈی اے نے زمین دینا تھی اس کا کیا ہوا جس پر سیکرٹری صحت نے کہا اس کا کچھ نہیں ہوا۔

جسٹس اعجازالاحسن نے کہا کیپٹل ڈویلپمنٹ اتھارٹی (سی ڈی اے) سے کہا گیا کہ 5 دن میں زمین کا فیصلہ کریں جس پر وکیل سی ڈی اے نے عدالت کو بتایا کہ زمین کے حصول کے معاملے میں نیب نے انکوائری شروع کردی۔

چیف جسٹس نے اس موقع پر شدید برہمی کا اظہار کیا اور کہا کہ چیئرمین نیب عدالت میں پیش ہوں، ایک درخواست آتی ہے لوگوں کی پگڑیاں اچھالنا شروع کردیتے ہیں، کیا نیب کے علاوہ سارے چور ہیں۔

چیف جسٹس نے کہا ایک درخواست پر لوگوں کی عزت ختم کردیتے ہیں اور جو آتا اس پر انکوائری شروع کردیتے ہیں۔

چیف جسٹس نے ریمارکس میں کہا کہ لاہور میں نیب کی ایک بی بی بیٹھی ہے جو لوگوں کو بلیک میل کرتی ہے اور وہ بی بی اپنے کام کروا رہی ہے۔

چیف جسٹس نے کہا نیب چیرمین اور پراسیکیوٹر چیمبر میں پیش ہوں۔