آج کے بچوں کو افلاطون ہونا چاہیئے

کھٹی میٹھی کرنیں - کرن خان

04 جنوری 2019

trmp ki' ' khush kalami' ' ke andar chhupi safaki

ہمارے بچے معصوم فرشتے ہیں۔ "بچے من کے سچے " اور "بچے غیر سیاسی ہوتے ہیں" . . ان القاب کو آج کے بچے پیروں تلے روند کے نکل چکے ہیں۔۔۔یہ جدید بچے ہیں کمپیوٹرایز بچے آج کا دوسری جماعت کا بچہ بھی ہم بڑوں سے زیادہ معلومات رکھتا ہے اور کئی بار بڑوں کو لاجواب بلکہ شرمندہ۔بھی کردیتا ہے۔۔معصوم فرشتے کا لقب واپسی فرشتوں کو ہی دے دیں۔۔یہ ننھے شریر ناک میں دم کرنے کی تمام صلاحیتوں سے لبریز ہوتے ہیں۔۔ان کو کسی موقف پر راضی کرنا جان جوکھوں کا مسئلہ بنتا جا رہا ہے ۔ ایسے ایسے سوال ان کی پٹاری میں ہونگیں کہ بندہ چکرا جاے گا۔۔

نئی نسل بے حد ذہین بھی ثابت ہو رہی ہے جس کا تھوڑا تھوڑا اندازہ تو ہو ہی گیا تھا ۔لیکن ذہانت کے پورے جوہر اپنے اردگرد کے بچوں کو دیکھ کر کھلتے جا رہے ہیں۔۔

۔۔ہم جو قصے کہانیاں بڑے شوق سے سنتے آئے ہمارے بچوں کو وہ سرے سے کہانیاں ہی نہیں لگتیں اور فٹ سے سنانے والے کو یہ کہہ کر جواب دے دینگیں سننے سےکہ یہ illogical ہے ۔۔اور سنانے والا شرمندگی سے لاجک والی کہانی ڈھونڈنے لگ جائے گا۔۔لیکن ہمارے دور کے بچے لاجک میں زیادہ پڑتے ہی نا تھے۔۔کہاں سے لائیں ایسی کہانی؟؟

پچھلے دنوں کی بات ہے مامووز کے اور اپنے گھر کے بچے ملا کر کوئی سات سے آٹھ بچے میرے ارد گرد جمع تھے اور ضد کہ ہمیں کہانی سناو۔۔اور مجھے پتہ تھا کہ ان خبیثوں کو جو بھی کہانی سناونگی یہ اس کا پل بھر میں پوسٹ مارٹم کردینگے

۔۔ایک بار "چڑیا نے کھیر پکائی" سنانے لگی ان کے منہ بن گئے ۔"۔واٹ نان سینس "چڑیا کیسے کھیر پکا سکتی ہے؟؟ ہم نے نہیں سننا کچھ اور سناو۔۔

عمرو عیار والی کہانی سنانے لگوں تو مارے باندھے سنتے رہنگیں ۔۔زنبیل کے کمالات پر بھی کوئی خاص ریسپانس نا دیں گیں ،جب آخری سین آے گا جس میں اکثر چڑیل یا جادوگر دھواں دھواں ہوجاتے ہیں اور دھویں سے آواز آتی ہے " میں فلاں جادوگر تھا مجھے مار دیا عمرو عیار نے ۔۔۔سخت ناگواری سے دیکھیں گیں "یہ کیسے ہوسکتا ہے؟؟ ایک مرا ہوا بندہ دھواں کیسے بن سکتا ہے؟! اگر بن گیا تو آواز کیسے آئی اسکی؟؟ میں ہڑبڑا کر وضاحت دونگی"بھئی کہانی تھی سچ تھوڑی تھا۔۔" بچے پھر بگڑ کر کہانی فیکٹس پر ہونی چاہیے۔۔

میں تنگ آکر ان کو ڈانٹ کر جی چھڑا لونگی ۔۔

۔۔ آج میں نے انکار میں سر ہلایا۔۔بھئی آپ لوگوں کو ہمارے دورکی کہانیاں پسند نہیں آتی۔۔بچے پھر منتیں کرنے لگے اچھا آج سنا دو لایٹ بھی نہیں ہے اور باہر بھی سردی میں نکلنے نہیں دے رہے آپ لوگ۔۔اب ہمیں کہانی سناو ورنہ ہم باہر نکل جاینگیں۔۔

ان کی دھمکی کارگر ثابت ہوئی میں نے ہتھیار ڈال دیے۔۔

بہت سوچنے کے بعد بچوں کو کہا کہانی نہیں سناتی آج حقیقت بتاتی ہوں۔۔

بچے ہمہ تن گوش ہوگئے۔۔

میں نے انکو ایک واقعہ گھڑ کے سنایا جس کا مقصد تھا کہ بچے ہمارے علاقے میں موجود ڈسپوزل کے گٹر کے نزدیک نا جایں۔اپنی طرف سے کافی جاندار آغاز و اختتام کیا۔۔قصہ مختصر میں نے انکو بتایا کہ اس گٹر میں ایک بلا ہے اس کے نزدیک جو بچہ جاے یہ اس بچے کو گھسیٹ لیتی ہے واقعے مزید رنگ بھرنے کے لیے میں نے خود کو ایک واردات کاچشم دید گواہ ظاہر کیا ۔۔اور یہ میری بھیانک غلطی ثابت ہوئی۔۔

پہلے بچے نے کھنکھار کے گلہ صاف کیا اور تفتیش کا باقاعدہ آغاز کیا۔۔

"آپ نے دیکھی ہے بلا تو اس بلا کا حلیہ بتاو؟؟"

میں نے ایک بھیانک سا حلیہ بتا دیا۔۔

دوسرا بچہ " آپ نے جو واقعہ بتایا اس کے مطابق آپ نے چھت سے جب دیکھا بلا کی بیک سائیڈ نظر آئی تو آپ نے بلا کا فرنٹ کہاں سے دیکھ لیا؟؟

میں اس کے نکتے پر عش عش کر اٹھی ۔۔ایک اور جواز گھڑا کہ اس کا فرنٹ بھی دیکھا تھا۔۔

تیسرا بچہ۔۔"بچہ کھا گئی تو آپ نے پولیس کو کیوں نا بتایا؟ یہ مجرمانہ خاموشی کیوں؟؟

اب کی بار میں چکرا گئی اور ان کو تسلی دینے کی بودی سی کوشش کی کہ پولیس کو بتایا لیکن انھوں نے یقین نا کیا۔۔۔اور اس گٹر کی تلاشی نا کی۔۔جواب تسلی بخش نا تھا لہذا بچوں کی مشکوک نظریں مجھ پر جمی رہیں۔۔

ایک اور بچہ بولا ۔۔بلا اور کسی کو کیوں نظر نا آئی؟؟ سواے آپ کے۔۔

میں نے کندھے اچکاے "کیا پتہ" بچوں کو تو نظر ہی نہیں آتی ان کو اٹھانا جو ہوتا ہے۔۔

"آپ جھوٹ بول رہی ہیں ۔۔" اب کی بار سب بچوں نے مشترکہ رائے سے کہا۔۔

میں تلملا اٹھی۔۔" میں کیوں جھوٹ بولونگی ؟؟اٹھو اور دفع ہوجاو۔۔نہیں کرنا یقین نا کرو۔۔"

ایک بچہ جو اب تک یہ ساری کاروائی خاموشی سے دیکھ رہا تھا۔۔سب کو خاموش ہونے کا اشارہ کیا۔۔سب اس کی طرف متوجہ ہوگئے اور وہ میری طرف متوجہ ہوا۔۔" آپ ایسے ہی روک دیتیں کہ اس ڈسپوزل پر مت جانا ہم مان لیتے ۔۔ہر ہفتے یہ صاف کیا جاتا ہے ۔۔بھنگی صفائیاں کرنے آتے ہیں ۔۔آج تک تو کسی کو نظر نا آئی بلا ۔ یہ کہتے ہوے اس نے بچوں کی طرف رخ موڑا۔۔" ادھر کوئی بلا ہے ہی نہیں یہ ابھی ان محترمہ نے گھڑ کر گٹر میں چھوڑی ہے۔۔۔"سب بچوں کا بے ہنگم سا قہقہہ بلند ہوا ۔اور میں نے اپنی شرمندگی کم کرنے کے لیے واک آوٹ میں ہی عافیت جانی۔۔۔

 110