دیوانے کا خواب

قلم کمان - حامد میر

03 جنوری 2019

deewany ka khawab

یہ ایک سرد شام تھی۔ میں ایک سینئر سیاستدان کے ڈرائنگ روم میں بیٹھا اُن کی گرما گرم باتیں سُن رہا تھا۔ یہ گفتگو میرے لئے کسی آتش دان کی حدت سے کم نہ تھی کیونکہ سیاستدان کا تعلق اپوزیشن سے نہیں‘ حکومت سے تھا۔ حکومت کے ایک اہم عہدے پر بیٹھا ہوا سیاستدان جب اپنی ہی حکومت کی نااہلی کے قصے سنا رہا ہو تو اُس کے الفاظ کی حدت بڑا مزا دیتی ہے، لیکن اُس شام مجھے ایک ڈنر میں پہنچنا تھا۔ میں بار بار اپنے میزبان سے اجازت طلب کر رہا تھا لیکن وہ مجھے کوئی نہ کوئی ایسی کہانی سننے پر مجبور کر دیتے جس میں کبھی عمران خان Imran Khan اور کبھی عثمان بزدار ایک انتہائی ناتجربہ کار اور ناموزوں حکمران نظر آتے۔ جن کے دورِ حکومت کا آغاز اُن کے انجام کی خبر دے رہا ہے۔ یہ سینئر سیاستدان آصف زرداری کی حکومت میں بھی شامل رہے اور نواز شریف Nawaz Sharif کی حکومت میں بھی اہم عہدے پر فائز رہے۔ اُن کی گفتگو سے یہ تاثر مل رہا تھا کہ عمران خان Imran Khan وہی کر رہے ہیں جو زرداری اور نواز شریف Nawaz Sharif کرتے رہے اور آخرکار عمران خان Imran Khan کے ساتھ بھی وہی ہو گا جو زرداری اور نواز شریف Nawaz Sharif کے ساتھ ہو رہا ہے۔ میں بار بار اپنے میزبان کی خدمت میں عرض کر رہا تھا کہ آپ اپنی حکومت کو چھ ماہ تو دیدیں، چھ ماہ کے بعد ہم آپ کا حساب کتاب کر لیں گے تو تنگ آ کر عمران خان Imran Khan کے اس اہم اتحادی نے مجھے کہا کہ شکر کرو زرداری اور نواز شریف Nawaz Sharif ایک دوسرے سے ابھی تک نالاں ہیں، جس دن ان کے معاملات طے پا گئے اُس دن ہماری حکومت ٹوٹی ہوئی تسبیح کے دانوں کی طرح بکھر جائے گی۔ میں نے اپنے اس بہت پرانے تعلق دار سے گزارش کی کہ آپ یہ باتیں وزیراعظم عمران خان Imran Khan کے گوش گزار کریں۔ دو دن بعد اُن کی عمران خان Imran Khan سے ملاقات بھی ہو گئی لیکن یہ پتا نہیں کہ اُنہوں نے وزیراعظم کے ساتھ اپنے دل کی باتیں کیں یا نہیں کیونکہ اُن کی زیادہ تر شکایتوں کا تعلق حکومتی معاملات میں غیر منتخب افراد کی مداخلت سے تھا، جس میں جہانگیر ترین سرفہرست تھے۔ جہانگیر ترین کو سپریم کورٹ نے کرپشن پر نااہل قرار دیا اور اُنہیں ایسے وزیراعظم کے اردگرد نظر نہیں آنا چاہئے جو دن رات کرپشن کے خلاف تقریریں کرتا ہے، لیکن حکومت کی ہر غلطی اور ہر نااہلی کی ذمہ داری جہانگیر ترین پر نہیں ڈالی جا سکتی۔

کیا ایف آئی اے کو اصغر خان کیس بند کرنے کا حکم جہانگیر ترین نے دیا ہے؟ ایف آئی اے تو عمران خان Imran Khan کے ماتحت ہے اور خان صاحب جب اپوزیشن میں تھے تو ہمیں بتایا کرتے تھے کہ پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ (ن) کی قیادت کرپٹ ہے اور یہ کرپٹ لوگ اصغر خان کیس میں سپریم کورٹ کے فیصلے پر عملدرآمد نہیں کر سکتے، یہ کام تو صرف میں کر سکتا ہوں۔ خان صاحب وزیراعظم بنے تو ان کی براہِ راست نگرانی میں کام کرنے والی ایف آئی اے کہہ رہی ہے کہ اصغر خان کیس میں عدالتی فیصلے پر عملدرآمد ممکن نہیں کیونکہ شواہد موجود نہیں۔ پرویز مشرف کے خلاف آئین سے غداری کے مقدمے کو بھی کچھ ایسی ہی صورتحال کا سامنا ہے۔ اس مقدمے کو آگے بڑھانا وزارتِ داخلہ کی ذمہ داری ہے، لیکن ایسا لگتا ہے کہ وزارتِ داخلہ کو اس معاملے میں کوئی دلچسپی نہیں۔ ویسے بھی مشرف صاحب کے وکیل فروغ نسیم وزیرِ قانون بن چکے ہیں تو یہ مقدمہ کیسے آگے بڑھ سکتا ہے؟ اس معاملے میں پیپلز پارٹی کی حکومت نے بھی خاموشی اختیار کئے رکھی اور مسلم لیگ (ن) نے بغاوت کا مقدمہ دائر کرنے کے بعد مشرف کو ملک سے بھگا دیا۔ یہ سب کچھ ایک خاموش سمجھوتے کا نتیجہ تھا جس میں وزیراعظم، وزیر داخلہ، وزیراعلیٰ پنجاب اور آرمی چیف جنرل راحیل شریف ملوث تھے۔ یہ کہنا صریحاً غلط ہے کہ سپریم کورٹ نے مشرف کو بیرونِ ملک جانے کی اجازت دی البتہ سپریم کورٹ چاہے تو مشرف کو پاکستان Pakistan واپس لانے کا حکم دے سکتی ہے۔ مشرف ہماری سیاست میں ایک این آر او کی وجہ سے بدنام ہیں جس پر اُنہوں نے بطور آرمی چیف دستخط کئے۔ یہ ایک علانیہ سمجھوتہ تھا لیکن پاکستان Pakistan کی سیاست میں خاموش سمجھوتوں کی تاریخ بہت پرانی ہے۔ میں حسین شہید سہروردی کا بہت بڑا مداح ہوں لیکن قیامِ پاکستان Pakistan کے بعد انہوں نے بھی کئی این آر او کئے۔ پہلا این آر او اُس زمانے کی کنگز پارٹی (ری پبلکن پارٹی) کے ساتھ اتحاد تھا۔ دوسرا این آر او یہ تھا کہ جب 1954ء میں گورنر جنرل غلام محمد پاکستان Pakistan کی قانون ساز اسمبلی کو توڑنا چاہتا تھا تو اُس نے ہمارے ایک بزرگ اخبار نویس زیڈ اے سلہری کو سہروردی کے پاس بھیجا۔ سہروردی نے اسمبلی توڑنے کا مطالبہ کر دیا جو پاکستان Pakistan ٹائمز میں شائع ہوا اور اسمبلی توڑ دی گئی۔ اسمبلی کے اسپیکر مولوی تمیز الدین نے سندھ ہائیکورٹ میں درخواست دائر کی اور یہاں سے فیصلہ غلام محمد کے خلاف آیا لیکن سپریم کورٹ کے چیف جسٹس محمد منیر نے نظریۂ ضرورت ایجاد کر کے غلام محمد کا اقدام جائز قرار دے دیا (مزید تفصیل کے لئے کنور انتظار محمد خان ایڈووکیٹ کی کتاب ’’ایمان فروش ججوں کی داستان‘‘ پڑھیے)۔

سانحہ مشرقی پاکستان Pakistan کے بعد حمود الرحمان کمیشن قائم کیا گیا تھا۔ اس کمیشن نے سانحہ مشرقی پاکستان Pakistan کی صرف فوجی نہیں بلکہ سیاسی وجوہات پر بھی غور کیا اور یہ سفارش کی کہ جنرل یحییٰ خان، جنرل عبدالحمید خان، جنرل پیرزادہ، جنرل گل حسن، جنرل غلام عمر اور جنرل مٹھا کے خلاف 25مارچ 1969ء کو ایوب خان حکومت کے خلاف بغاوت کے الزام میں ٹرائل کیا جائے۔ کمیشن کی رپورٹ میں اقلیم اختر رانی عرف جنرل رانی سمیت کئی خواتین کا بھی ذکر تھا جن کے جنرل یحییٰ خان سے تعلقات تھے۔ بھٹو حکومت نے جنرل یحییٰ اور جنرل رانی کو نظر بند تو کر دیا لیکن ان کے خلاف کوئی مقدمہ نہیں چلایا۔ ایس ایم ظفر ان دونوں کے وکیل تھے۔ انہوں نے اپنی کتاب ’’میرے مشہور مقدمے‘‘ میں لکھا ہے کہ جنرل رانی کو تربیلا ڈیم کا ٹھیکہ دلوانے، سرکاری جہاز استعمال کرنے اور سعودی عرب Saudi Arabia میں کاروبار جیسے الزامات کا سامنا تھا۔ یحییٰ خان پر آئین سے غداری کا الزام تھا لیکن ان سب الزامات پر مقدمات نہ چلائے گئے۔ جب ایس ایم ظفر نے جنرل یحییٰ خان اور جنرل رانی کی نظر بندی کو عدالت میں چیلنج کیا تو حکومت نے ان کی نظر بندی ختم کر دی۔ کیا یہ این آر او نہیں تھا؟ لیکن ذوالفقار علی بھٹو کو اس این آر او کے نتیجے میں پھانسی ملی۔

جس جس نے این آر او دیا اور جس نے این آر او لیا اُسے فائدہ کم اور نقصان زیادہ ہوا۔ نواز شریف Nawaz Sharif نے مشرف کے ساتھ این آر او کیا اور سعودی عرب Saudi Arabia چلے گئے۔ آج نواز شریف Nawaz Sharif پھر جیل میں ہیں۔ آصف علی زرداری نے بھی مشرف کے ساتھ این آر او کو قائم رکھا اور آج اُنہیں پھر کرپشن کے الزامات اور گرفتاری کے خدشات کا سامنا ہے۔ عمران خان Imran Khan نے ہمیشہ این آر او کی مخالفت کی لیکن اصغر خان کیس میں وہ نجانے کس کے ساتھ این آر او کر رہے ہیں۔ مشرف کے خلاف آئین سے غداری کے مقدمے میں عمران خان Imran Khan کی پالیسی زرداری اور نواز شریف Nawaz Sharif کی پالیسی سے مختلف نہیں۔ اس پالیسی سے عمران خان Imran Khan اپنی حکومت کو محفوظ سمجھیں گے لیکن وہ پاکستان Pakistan میں قانون کی بالادستی قائم نہیں کر سکیں گے۔ قانون کی بالادستی کا مطلب ہے قانون سب کے لئے برابر ہونا چاہئے۔ نواز شریف Nawaz Sharif نے کرپشن کا اعتراف نہیں کیا لیکن انہیں عدالت سے سزا مل چکی ہے۔ اسد درانی آئی ایس آئی کے سربراہ کی حیثیت سے سیاستدانوں میں رقوم تقسیم کرنے کا اعتراف کر چکے ہیں، سپریم کورٹ ان کے خلاف کارروائی کا حکم دے چکی ہے لیکن اُنہیں سزا نہیں ملی۔ مشرف کو سپریم کورٹ آئین شکن قرار دے چکی، اُنہیں سزا نہیں ملی۔ عمران خان Imran Khan کی سیاسی بقا کی ضمانت اس قسم کے خاموش این آر او نہیں بلکہ قانون کی بالادستی ہے۔ اگر میری باتیں دیوانے کا خواب لگیں تو بے شک نظر انداز کر دیں لیکن پھر آپ کے ساتھ وہی ہو گا جو زرداری اور نواز شریف Nawaz Sharif کے ساتھ ہو رہا ہے۔

 398