کیا صدارتی نظام کی راہ ہموار ہوسکتی ہے ؟

ریڈ زون سے - کنور دلشاد

30 دسمبر 2018

کیا صدارتی نظام کی راہ ہموار ہوسکتی ہے ؟

آصف علی زرداری کے خلاف قومی اسمبلی کی طرف سے دائر کردہ ریفرنس قانونی حیثیت کا حامل ہوگا اور پارلیمنٹ سے ان کی نا اہلی کے امکانات موجود ہیں۔ آصف علی زرداری کے عروج و زوال میں طاقت ورحلقوں کا اہم کردار رہا ہے ‘ان کے والد حاکم علی زرداری ذوالفقار علی بھٹو کے انتہائی نا پسندیدہ تھے۔ حاکم علی زرداری عوامی لیگ مغربی پاکستان Pakistan کے برائے نام راہنما تھے اور ان کی شیخ مجیب الرحمان سے بھی زیادہ شنا سائی نہ تھی۔ 1970ء کے انتخابات میں انہوں نے حیدر آباد سے چند سو ووٹ حاصل کئے تھے‘ جو ان کے قریبی دوستوں ‘ غریب ہاریوں اور ملازمین کے تھے ۔ 1978ء میں انہوں نے خفیہ طور پر جنرل ضیا الحق سے تعلقات استوار کئے اور ذو الفقار علی بھٹو کی سزائے موت کے بعد ان کے قریبی دوستوں نے مبینہ طور پر جشن بھی منایا۔ حالات کی ستم ظریفی دیکھئے کہ ذوالفقار علی بھٹو کے بعد ان کے خاندان کو سیاسی سہارا حاکم علی زرداری نے ہی دیا اور آہستہ آہستہ یہ تعلقات رشتہ داری میںبدل گئے۔ مجھے پاکستان Pakistan پیپلز پارٹی کے سینئر راہنما رائو عبد الرشید نے حاکم علی زرداری کے بارے میں بتایا تھا کہ بھٹو خاندان کی بد قسمتی دیکھئے کہ حاکم علی زرداری بھٹو خاندان کے سر پرست بن گئے۔ 1988ء کے انتخابات میںبھٹو خاندان کو عوام نے اپنے ووٹوں سے عروج کی بلندیوں تک پہنچایااور محترمہ بے نظیر بھٹو وزیر اعظم Prime Minister منتخب ہو گئیں ۔محترمہ بے نظیر بھٹو حاکم علی زرداری کو وفاقی کابینہ میں شریک نہیں کرنا چاہتی تھیں۔ حاکم علی زرداری نے پبلک اکائونٹس کمیٹی کا چیئرمین بننے کی کوشش کی جبکہ بے نظیر بھٹو خان عبدالولی خان کو چیئرمین بنانا چاہتی تھیں۔ حاکم علی زرداری نے لندن میں چند دوستوں کی وساطت سے خان عبد الولی خان کو اپنے حق میں کروا لیا ۔ مارچ 1989ء کے اوائل میں وہ 68مارگلہ روڈ اسلام آباد Islamabad میں تمباکو بورڈ کے گیسٹ ہائوس میں مقیم تھے‘ اسی گیسٹ ہائوس میں حاکم علی زرداری نے خان عبدالولی خان کو ناشتے پر مدعو کیا اور ان کو پبلک اکائونٹس کمیٹی کے چیئرمین کی دوڑ سے دستبردار کروا لیا۔ ولی خان نے محترمہ سے استدعا کی کہ حاکم علی زرداری کو پبلک اکائونٹس کمیٹی کا چیئرمین مقرر کیا جائے۔ بقول رائو عبد الرشید خان: اس طرح زرداری خاندان اقتدار میں داخل ہوتا چلا گیا ‘ حالانکہ صدر غلام اسحاق خان اور فاروق لغاری نے بے نظیر بھٹو کو مشورہ دیا تھا کہ حاکم علی زرداری کو سرکاری عہدہ دینے سے گریز کیا جائے۔ ویسے بھی پارلیمانی روایات کے مطابق یہ عہدہ اپوزیشن کا حق تھا ۔

تحریک انصاف جب سے اقتدار میں آئی ہے پارلیمنٹ کے اندر اور باہر کشمکش اور تنائو ہے ۔ الیکشن کے حوالے سے بحث ہی ختم نہیں ہو رہی تھی کہ اچانک تہلکہ خیز خبریں سامنے آئیں کہ الیکشن کمیشن آف پاکستان Pakistan کے ارکان کی تقرریاں آئین کے آرٹیکل 207سے مطابقت نہیں رکھتیں۔ نواز شریف Nawaz Sharif کی گرفتاری کے بعد پاکستان Pakistan کو آہستہ آہستہ صدارتی نظام کی طرف جاتے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے۔ لوکل گورنمنٹ کے ادارے تحلیل ہونے اور نئے بلدیاتی قوانین کے تحت میئر کے انتخابات براہ راست ہونے ہیں اور ضلع کا میئر اپنے ضلع کے 36سے زائد سرکاری و نیم سرکاری محکموں کا بے تاج حاکم ہوگا اور وہی تمام محکموں کی سالانہ رپورٹ لکھے گا ۔ اسی نظام کے تحت صوبائی حکومت بھی میئر کے سامنے جواب دہ ہو گی۔ ممکنہ طور پر اس طرح کی قانون سازی کروائی جائے گی کہ ملک کے صدر کا انتخاب بھی میئر کی طرز پر براہ راست بالغ رائے دہی کی بنیاد پر کروایا جائے اور سینیٹ کے انتخابات بھی قومی اسمبلی کی طرز پر ہونا قرار پائیں گے۔

چین China پاکستان Pakistan اقتصادی راہداری‘ افغانستان‘ ایران‘ ترکی اور مشرقِ وسطیٰ کا ایک عظیم تر بلاک بنانے کے لئے ضروری ہے کہ پاکستان Pakistan میں سیاسی ‘ معاشی اور امن و امان کا مثالی استحکا م عروج پکڑے۔ جس طرح 1960ء میں فیلڈ مارشل ایوب خان بین الاقوامی سطح پر ایک عظیم راہنما کی حیثیت سے ابھرے تھے ‘جس کے آگے فرانس‘ جرمنی‘ امریکہ United States ‘برطانیہ ‘ مشرق بعید اورمشرق وسطیٰ کے حکمران سر نگوں ہو گئے تھے اور اس کی پشت پر پاکستان Pakistan کاداخلی استحکام تھا۔ اب پاک چین China راہداری کو اس کی اصل روح کے مطابق آگے بڑھانے کے لئے ضروری سمجھا جا رہا ہے کہ پاکستان Pakistan کے موجودہ پارلیمانی نظام میں تبدیلیاں لائی جائیں‘ اور میری اطلاعات کے مطابق حکومت کئی اہم شخصیات سے اس نظام کے متبادل نظام لانے کے لئے اور آئین میں تبدیلی لانے کے لئے 1984ء اور2002ء کی طرز پر ریفرنڈم کرانے کے بارے میں گہری سوچ بچار کر رہی ہے۔ ان حساس موضوعات کا فی الحال ذکر کرنا میں مناسب نہیں سمجھتا‘ بہر حال میں نے ملک میں انڈو نیشیا کی طرز پر پارلیمانی سسٹم پر جو پیپر جولائی 2009ء میں انڈونیشیا Indonesia کے صدارتی انتخابات کا مشاہدہ کرنے کے بعد تیار کیا تھا ‘اس سے وہ ادارے مستفید ہو سکتے ہیں جو اس پر کام کر رہے ہیں۔ میں نے انڈونیشیا Indonesia کے طرزِ حکومت کے بارے میں جو رپورٹ اُس وقت کے وزیر اعظم Prime Minister یوسف رضا گیلانی ‘ چیف جسٹس آف پاکستان‘ سپیکر قومی اسمبلی ‘ آرمی چیف اور صدر مملکت کو بھجوائی تھی اسی طرح کا ملتا جلتا سسٹم ترکی میں رائج ہے‘ لیکن بادی النظر میں انڈو نیشیا کا سسٹم بہتر ہے اور پاکستان Pakistan کے بلدیاتی اداروں کے حوالے سے میں نے جو رپورٹ وزیر اعظم Prime Minister عمران خان Imran Khan کو پیش کی تھی اس میں بھی یہ واضح کیا تھا کہ بلدیاتی اداروں کے حوالے سے بہترین سسٹم انڈو نیشیا کا ہی ہے ۔

نواز شریف Nawaz Sharif اور آصف علی زرداری کا جب سیاسی مستقبل ختم ہو جائے گا تو شہباز شریف Shehbaz Sharif ہی ایک ایسی لچکدار شخصیت کے طور رہ جائیں گے جو چوہدری نثار علی خان‘ سردار ایاز صادق ‘ شاہد خاقان عباسی ‘ خواجہ محمد آصف ‘ خواجہ سعد رفیق کی مفاہمتی پالیسی کو آگے بڑھانے کے لئے نظام کا حصہ بن جائے گی۔ میرے خیال میں سندھ میں گورنر راج کے بعد پیپلز پارٹی سے وہی سلوک کیا جائے گا جیسا وزیر اعظم Prime Minister بھٹو نے بلوچستان Balochistan اور سرحد میں گورنر راج نافذ کر کے حسب منشا نتائج حاصل کر لئے تھے ۔ اب حالات مختلف ہیں۔ عمران خان Imran Khan صاحب کو ادراک ہونا چاہیے کہ دنیا میں بڑی تبدیلیاں رونما ہو رہی ہیں ۔امریکی نیو ورلڈ آرڈر افغانستان Afghanistan ‘ شام ‘عراق Iraq اور لیبیا کے بعد غیر مؤثر ہو چکا ہے ۔ عوامی جمہوریہ چین China ابھرتی ہوئی طاقت ہے ۔ سامراجی اور نو آبادیاتی طاقتیں لرز رہی ہیں۔ امریکہ United States واضح اعلان کر رہا ہے کہ اسے اور اس کے اتحادیوں کو صرف اور صرف چین China سے خطرہ ہے ۔ یہ تمام طاقتیں چین China کے خلاف متحد ہو رہی ہیں۔ ان حالات میں پاکستان Pakistan کا عالمی سیاست میں ایک بار پھر مرکزی کردار بن رہا ہے‘ کیونکہ پاک چین China اقتصادی راہداری ون بیلٹ ون روڈ منصوبے کا اہم حصہ ہے۔ پاکستان Pakistan اپنی خارجہ پالیسی میں بڑی تبدیلی کی ضرورت سے اسی لئے دوچار ہے۔ موجودہ فارن آفس میں آغا شاہی‘ اکرم ذکی ‘عزیز احمد اور صاحبزادہ یعقوب علی خان جیسی قد آور شخصیات کا فقدان ہے ۔ ان حالات میں امریکی پالیسیوں کے خلاف ہوا کا رخ تبدیل کر کے پاکستان Pakistan کو بین الاقوامی سطح پر اجاگر کیا جا سکے گا۔ ہمارا مخصوص حلقہ حنا ربانی کے قصیدے پڑھتا رہتا ہے اور ان کی واجبی تعلیم کا بھرم این جی او کے بعض ماہرین نے رکھا ہوا تھا‘ جو ان کے اتالیق بنے ہوئے تھے ۔ امریکہ United States اور چین China کے درمیان محاذ آرائی بڑھ رہی ہے ‘ پاکستان Pakistan کے سمندر اس کی آماجگاہ بننے والے ہیں جبکہ پاکستان Pakistan سیاسی طور پر کمزور ہوتا جا رہا ہے ۔ اس تناظر میں پاکستان Pakistan نہ تو کوئی فیصلہ کر سکے گا اور نہ ہی حالات کا سامنا کر سکے گا ‘کیونکہ پاکستان Pakistan عالمی طاقتوں کے ٹکرائو کا ایک بار پھر میدان بن رہا ہے ۔ میرا تجربہ یہ ہے کہ بڑی سیاسی جماعتیں کرپشن کی دلدل میں پھنسی ہوئی ہیں اور خود وزیر اعظم Prime Minister کی جماعت اپنی کار کردگی کی وجہ سے سیاسی ساکھ برقرار رکھتی دکھائی نہیں دیتی اور اگلے سال کے بجٹ میں سخت مشکلات درپیش ہوں گی ۔ عوام تیونس کا تجربہ پاکستان Pakistan میں آزما سکتے ہیں اور موجودہ سسٹم ناکام ہو سکتا ہے۔ اس طرح ملک میں فرانس کی طرز پر نیا سیاسی نظام نافذ ہوتے ہوئے میں دیکھ رہا ہوں۔ قائد اعظم اپنی ذاتی ڈائری میں اس کا ذکر کر چکے ہیں۔

 289