ائیر ہوسٹس vs بس ہوسٹس

کھٹی میٹھی کرنیں - کرن خان

29 دسمبر 2018

air hostess vs bas hostess

کہیں نا کہیں مذکورہ بالا دونوں ہوسٹسیز سے واسطہ آپ لوگوں کا ضرور پڑا ہوگا۔ ایک ٹایپ ہوائی جہازوں میں پائی جاتیں ہیں اور دوسری ٹایپ بسوں میں دستیاب ہوتی ہیں۔۔ہوائی جہاز والیاں جہازوں کی ایجاد کے ساتھ ہی ایجاد کرلی گئی تھیں۔۔البتہ بس ہوسٹس کو چند سال ہوے ہونگیں مارکیٹ میں آئے ہوے۔۔شروع کرتے ہیں ان پر ایک منصفانہ تجزیہ۔۔۔۔

ویسے تو جہاز میں بھی فیمیل سٹاف خاص طور پر ہوسٹس رکھنے کی کوئی ٹھوس دلیل سمجھ تو نہیں آتی۔لے دے کر ایک دو باتیں سمجھ میں آتی ہیں کہ شاید اتنی اونچائی پر بندے کو ڈر نا لگے اس لیے انکو خوبصورت سی ائیر ہوسٹسز کے زریعے تھوڑی تسلی ہو جاے جو کہ وقفے وقفے سے حال پوچھتی رہتی ہیں۔ اب کون کافر ان کے آگے گھبراہٹ شو کرے گا۔ایک اور وجہ یہ بھی سمجھ آئی کہ باقی ملکوں سے مقابلے کے لیے شاید مجبورا انکو بھی ائیرلاین میں حسین ہوسٹس رکھنی پڑی۔۔اور بے شک ایسی پیاری خواتین ہائر کی جاتی ہیں کہ مرد کا دل چاہتا ہے یہ جہاز ہوا میں ہی اڑتا رہے سفر نا ختم ہو۔۔۔جن کی بیویاں نک چڑھی اور بد مزاج ہوں انکو تو ان ہوسٹس کا شیریں انداز و بیان اور کئیرنگ رویہ ہی شکر گزاری کے جزبات سے مغلوب کر دیتا ہے۔اور اتنی خوشی محسوس کرتے ہیں کہ اب چاہے جہاز پھٹ جاے اور کچھ نہیں چاہیے۔

سابق صدر ضیاالحق نے ایک بار کسی تقریب میں مولانا اسرار احمد مرحوم سے کریڈٹ لینے کی خاطر خوش خبری سنائی کہ "دیکھیں محترم میں نے پی آئی اے میں شراب سرو کرنے پر پابندی لگا دی ہے کہ یہ اسلامی جمہوریہ پاکستان Pakistan کی روایات کے منافی ہے۔"

مولانا کے چہرے پر ہلکا سا تبسم آیا اور ہلکی آواز سے گویا ہوے " بھائی اسلامی شریعت کی رو سے تو جہاز میں ہوسٹس کا بھی کوئی جواز نہیں بنتا ،اگر عمل ہی کرنا ہے تو پورا کرو ۔ اور رہی بات سواریوں کا خیال رکھنے کی تو وہ مرد بھی رکھ سکتے ہیں۔۔سابق صدر لاجواب سے ہوکر چپ ہوگئے۔

۔لیکن بات تو مولانا مرحوم کی سو فیصد درست تھی کہ ایسا کونسا خیال ہے جو خوبصورت،نازک اندام سی عورتیں ہی رکھ سکتی ہیں؟؟

چلو جہاز ہمارا مسئلہ نہیں نا ہی پاکستان Pakistan کی موسٹلی آبادی روز روز جہازوں کے سفر افورڈ کرسکتی ہے زیادہ تر وہ طبقہ ہوتا ہے جو بزنس سے وابستہ لوگوں کا سفر ہوتا ہے تو ایسے لوگوں کو اتنا ہوش نہیں ہوتا کہ انکے حسن وجمال کو حسن نظر سے دیکھیں۔۔ دوسرا طبقہ وہ لوگ ہوتے ہیں جو ہوسٹس پسند آجاے تو ڈائیرکٹ شادی کرلیتے ہیں ۔۔یا کم از کم شادی کا وعدہ ہی کرلیتے ہیں ۔ تیسرا طبقہ ہوتا ہے حج وعمرے اور علاج کے لیے جانے والوں کا ۔۔تو انکو بھی ائیر ہوسٹس سے زیادہ غرض نہیں ہوتی۔

جہاز والوں کو چلو چھوڑ دیتے ہیں ان کی مجبوری کو سمجھتے ہوئے کہ یہ باقی ملکوں کے ساتھ مقابلہ ہے۔ ایک کام صدر ضیا نے کیا تھا شراب کی سرونگ روک کر۔۔دوسرا شاید کبھی کوئی اور کردے فیمیل ویٹرز کو روک کر۔۔

اب آتے ہیں بس ہوسٹس کی طرف۔۔یہ کیا طریقہ نکالا سمجھ سے باہر ہے ۔۔بس میں سواریوں کو ایسی کیا آفت آن پڑی تھی کہ آپ لوگوں نے بھی فیمیل سٹاف شروع کردیا۔یہ نادر خیال آیا کس کے دماغ میں ؟؟ بے تکے آئیڈیاز میں ویسے بھی ہم وطنوں کا کوئی ثانی نہیں۔۔

تقریبا مڈل یا اپر مڈل کلاس کے لوگ سوار ہوتے ہیں ان بسوں میں۔۔ٹھرکی طبقہ لڑکی کا جینا حرام کیے رکھتا ہے جتنی دیر سفر جاری رہے لڑکی کو بہانے بہانے سے بزر بجا کر بلاتے رہینگیں ۔۔آنکھوں دیکھا واقعہ ہے یہ۔۔" ایک بار ایسی ہی ایک بس میں سفر کا اتفاق ہوا اب کچھ لڑکے بار بار بزر بجاتے ہوسٹ مسکراتی ہوئی آتی۔کبھی کہتے "پانی چاہیے"

وہ پانی دے کے جاتی پھر بلاتے ۔۔اب بسکٹ چاہیے

چکر آ رہے ہیں کوئی ٹیبلٹ دیں

وقت بتا دو

فلاں شہر کب آے گا

دوبارہ پانی دو

اس اللہ کی بندی کو ایک منٹ نہیں سکون سے بیٹھنے دیا۔اس لڑکی کی یہ جاب تھی اس لیے ہنس ہنس کر کرنے پر مجبور تھی ہر بس میں چند بندے ایسے ضرور ہونگیں جو اس ہوسٹ کو زچ کرنے پر تلے ہونگیں۔

بھائی کو اکثر ہوسٹل سے چھٹیوں کے بعد بس سے آنا ہوتا ہے تو ایک بار بتا رہا کہ ایسے ٹھرک کے شاہکار بھی بیٹھے ہوتے ہیں جو پہلے ہوسٹ کو بزر بجا کر بلاتے ہیں ۔۔ جب وہ مڑ کر دیکھتی ہے تو دل پر ہاتھ رکھ کر کہتے" بسسسسسس کچھ نہیں منگوانا "

کچھ سواریاں ان ہوسٹس کے پیچھے ہاتھ دھو کے پڑ جاتی ہیں۔۔اور ان ہوسٹس کو جان تک کے لالے پڑ جاتے ہیں۔

ضرورت کیا تھی عورتوں کو بسوں میں ڈسپلے پر لگانے کی؟!

آپ لوگوں کی ایسی حرکتوں سے عورتوں کو روزگار تو کیا ملتا ہے الٹا ان کی زندگیاں غیرمحفوظ ہو جاتی ہیں۔

بسوں میں ہر طبقے کے لوگ سفر کرتے ہیں۔۔۔بلکہ کبھی کبھار مجرم بھی شناخت چھپا کر انھی بسوں میں سفر کرتے ہیں۔۔تو ایسی کسی صورتحال میں جب ایسے لوگ کسی ہوسٹ پر عاشق ہو جایں تو اسکو ٹریس کرکے زدوکوب کرنے اورجان سے مار ڈالنے سے بھی نہیں چوکتے۔ تب بس انتظامیہ کی بلا سے جو بھی اس عورت کے ساتھ ہو ان کا واسطہ نہیں۔

اگر بس انتظامیہ کو اتنا ہی شوق ہے عورتوں کو اس طرح کے حقوق دے کر روزگار فراہم کرنے کا ،یا اس جاب کو اتنا ہی باعزت سمجھتےہیں تو اپنے گھر کو عورتوں کو کیوں نہیں بنا دیتے بس ہوسٹسز؟؟

چلو ان کی حفاظت تو کروگے خود ۔۔اور جب کوئ سواری آپ کی عورت کو بار بار بلا کر تنگ کرے گی تب ہم دیکھیں گیں آپ کیسے چپ کرکے تماشا دیکھتے ہیں۔۔

 250