افغانستان Afghanistan کا اصل دشمن

ایک اور ایک - منیر احمد بلوچ

27 دسمبر 2018

Afghanistan ka asal dushman

پاکستان Pakistan کی تاریخ میں 16 دسمبر ایک پچھتاوا بن کر اپنے وجود کا ہمیشہ ہمیشہ کیلئے احساس دلاتا رہے گا۔ اس دن ہم نے بالواسطہ یا بلا واسطہ اپنے ہی بھائیوں کے ہاتھوں شکست کھائی‘ جسے بھارت India اپنی بہادری اور تاریخی فتح قرار دے رہا ہے۔ ہماری غلطیوں کو استعمال کرتے ہوئے مشرقی پاکستان Pakistan کے بنگالی بھائیوں کو ورغلاکر ہمارے خلاف کھڑا کرتے ہوئے ‘بظاہر اس نے ہم سے ہتھیار لیے ضرور تھے‘ لیکن ہم نے وہ ہتھیار ڈالے نہیں تھے‘ ہمیں اپنوں کی بغاوت کی وجہ سے شکست کا سامنا ضرور ہوا‘ لیکن ہم نے شکست تسلیم نہیں کی تھی‘ کیونکہ شکست خوردہ فوج نے صرف چار ماہ بعد لیپا وادی پر ہونے والی خونریز جھڑپ میں اسی دشمن کی فوج سے اپنے سامنے ہتھیار ڈلوا کر اس کے137 فوجی افسروں اور جوانوں کو قید ی بنایا۔ ( اس کی تفصیل انشا اﷲ اپنے کسی اگلے کالم میں قلم بند کروں گا)

16 دسمبر کو پہلی مرتبہ جب ہماری غلطیوں سے فائدہ اٹھاتے ہوئے مکار دشمن نے مشرقی پاکستان Pakistan کو بنگلہ دیش کی صورت میں ہم سے جدا کیا اور دوسری مرتبہ جب آرمی پبلک سکول پشاور کے بچوں کو اپنے بھیجے گئے دہشت گردوں کے ہاتھوں ذبح کرایا ۔ بھارت India کے ہاتھوں لگائے گئے یہ وہ زخم ہیں‘ جو ہر محب وطن پاکستانی کو ہر وقت یاد دلاتے رہتے ہیں کہ ہمارا یہ دیرینہ اور چانکیہ کی تعلیم سے آراستہ مکار دشمن آرام سے نہیں بیٹھا‘ بلکہ پینترے اور روپ بدل بدل کر ہمارے کسی نہ کسی بد خواہ کو اپنے مقاصد کیلئے استعمال کرتے ہوئے وہی مشرقی پاکستان Pakistan والا کھیل رچانے میں دن رات ایک کئے ہوئے ہے ۔ اس کی مدد کرنے والے کل تک جو پس پردہ یا کئی پردوں کے پیچھے چھپ کر مکار بھارت India کے مشن کیلئے میٹھا زہر بن کی کام کرتے تھے‘ اب کھل کر‘ بلکہ سینہ تان کر دیمک کی طرح ملک کی بنیادوں کو چاٹ رہے ہیں؛ اگر ان کی شکلیں دیکھنی ہیں تو اپنے ارد گرد کبھی نام نہادصحافی‘ کبھی دانشور‘ کبھی این جی اوز‘ تو کبھی سول سوسائٹی ‘ مذہبی فرقے ‘تو کبھی تدریسی عمل اور مدرسوں کے اندر چھپے ہوئے مختلف بھیس میں بکھرے ہوئے مختلف تراش خراش کرنے والوں کو دیکھ سکتے ہیں۔

16 دسمبر کے مذکورہ دو حوالوں کے بعد اسی ماہ کی 16 تاریخ کو کابل میں پاکستان Pakistan ‘ چین China اور افغانستان Afghanistan کے درمیان دہشت گردوں اور دہشت گردی کے خلاف ایک سہ طرفہMOU پر بھی دستخط ہونے کی تقریب منعقد ہوئی ‘جس کے تحت چین China ‘ افغانستان Afghanistan اور پاکستان Pakistan افغان طالبان سے اپیل کر یں گے کہ وہ بغیر کسی تیسرے ملک کی مداخلت کے افغانستان Afghanistan سے براہ ارست امن مذاکرات کی میز پر بیٹھیں۔ اس باہمی یادداشت کے ایک پیراگراف میں '' کائونٹر ٹیررازم‘‘ میں باہمی تعاون اور اطلاعات کی شقیں انتہائی اہم ہیں اور اگر یہ سہ فریقی معاہدہ بھارت India کی سازشوں اور تخریب کاریوں کی بھینٹ نہ چڑھا تو کوئی شک نہیں کہ ایک طویل مدت کے بعد خطے میں امن اور ترقی کی وہ خوش حال راہیں کھلیں گی‘ جس سے ڈیڑھ ارب سے زائد انسان سکھ کا سانس لینے کے علا وہ ایک بہتر اور پر سکون زندگی گزارنا شروع ہو جائیں گے۔

دنیا کے کسی بھی آزاد اور خود مختار ذہن اور سوچ رکھنے والے سیاسی ‘سفارتی اور دفاعی ماہر سے اگر یہ سوال کیا جائے کہ افغانستان Afghanistan میں بھر پور امن قائم ہونے سے کس کو سب سے زیادہ نقصان اور تکلیف پہنچے گی‘ تو یقین سے کہا جا سکتا ہے کہ سب کا اشارہ بھارت India ہی کی جانب ہو گا اور اگر یہ سوال کیا جائے کہ اس سے سب سے زیا دہ کس کو فائدہ ہو گا‘ تو بغیر کسی شک و شبہ اور توقف کے کہا جائے گا : پاکستان Pakistan اور افغانستان Afghanistan ؛اگر افغانستان Afghanistan اپنی عوام اور ان کی املاک کیلئے امن اور خوش حالی کی خواہش کرے گا تو اسے سب سے پہلے اپنے قریبی ہمسائے پاکستان Pakistan کے خلاف کسی بھی دوسری طاقت کو اپنی سر زمین استعمال کرنے سے بزور قوت روکنا ہو گا‘کیونکہ افغانستان Afghanistan اچھی طرح جانتا ہے کہ اس کی سر زمین سے بلوچستان Balochistan اور پاکستان Pakistan کے قبائلی علا قوں میں بھارت India کی خفیہ ایجنسی را ء ا ور افغانستان Afghanistan میں موجود بھارتی Indian فوج کی کئی کمپنیاں دہشت گردوں کی مدد کرنے کے ساتھ ساتھ پاکستان Pakistan پر علیحدگی پسندوں کے بھیس میں براہ راست حملوں میں ملوث ہو رہی ہیں‘ جس کا نقصان افغانستان Afghanistan کو بلا واسطہ پہنچ رہا ہے۔بھارت India کی جانب سے بلوچ علیحدگی پسندوں کو مسلسل فراہم کیا جانے والا تباہ کن اسلحہ اور گولہ بارود افغانستان Afghanistan کے راستے ہی سپلائی کیا جا رہا ہے‘ جس سے کسی کو انکار نہیں ہے۔

اقوام متحدہ اور اس کے تمام رکن ممالک کیلئے نیٹو‘ ایساف کی صورت میں افغانستان Afghanistan کا میدان جنگ بنے رہنا‘ وبال جان بن کر رہ گیا ہے۔ امریکہ United States سمیت بھارت India کا فنڈڈ میڈیا ‘جس قدر چاہے شور مچاتا رہے کہ پاکستان‘ افغانستان Afghanistan میں امن نہیں چاہتا۔ پاکستان‘ افغانستان Afghanistan میں مداخلت کر رہا ہے‘ ان کے یہ سب جھوٹ اور مکاریاں اب ایک ایک کرتے ہوئے اپنی قدر کھوتی جا رہی ہیں‘ کیونکہ اقوام عالم کو احساس ہو چکا کہ بھارت India کی شکل میں پاکستان Pakistan کے وجود کا سب سے بڑا دشمن افغانستان Afghanistan ہے‘ جو وہاں اپنی سیاسی‘ فوجی اور خفیہ ایجنسیوں کے ایجنٹوں کی صورت میں اپنی طاقت بڑھانے میں اس لئے مصروف عمل ہے‘ تا کہ اپنی مشرقی سرحدوں سے ہٹ کر پاکستان Pakistan کی مغربی سرحدوں کو اس کیلئے غیر محفوظ کرتے ہوئے اس کے تین صوبوں بلوچستان Balochistan ‘ سندھ اور کے پی کے میں تحریک طالبان پاکستان Pakistan تو کہیں داعش کے نام سے سینٹرل ایشیا کی کچھ ریا ستوں سے کرائے کے خودکش بمباروں کے ذریعے دہشت گردی کو بڑھاوا دیتے ہوئے اس کی فوجوں کو یہاں کے میدان جنگ کا ایندھن بنائے رکھے۔ایسے میں جب بھارت India کی فوج اور اس کی خفیہ ایجنسیاں‘ تحریک طالبان افغانستان Afghanistan کے خلاف آپریشن میںبراہ راست حصہ لیں گی‘ تو ظاہر ہے کہ جواب میں ان طالبان کا نشانہ بھی پھر وہ سرزمین ہی بنے گی‘ جہاں یہ بھارتی Indian فوجی موجود ہوں گے۔ پاکستان‘ چین China اور افغانستان Afghanistan کا دہشت گردی کے خلاف یاد داشت پر دستخط کرنے کے عمل کو سنجیدہ رخ دیتے ہوئے‘ اگر امریکہ United States کے ساتھ بھارت India کی فوجیں بھی افغانستان Afghanistan سے نکل جاتی ہیں‘ تو پھرطالبان ا ور افغا ن حکومت کا بھیانک ٹکرائو کیسا؟ یہی وہ نکتہ ہے‘ جس کو سامنے رکھتے ہوئے افغان طالبان‘ امریکہ United States اور افغانستان Afghanistan سے امن مذاکرات کیلئے اپنے قدم بڑھا نا تو چاہتے ہیں‘ لیکن اشرف غنی کے ہاتھ کھینچنے والے طالبان کیلئے پرُ امن افغانستان Afghanistan کا وجود برداشت کر ہی نہیں سکتے۔

چین China کے وزیر خارجہ وانگ کا کہنا ہے کہ ان کا ملک پاکستان Pakistan اور افغانستان Afghanistan کے درمیان بہتر اور برادرانہ تعلقات کے فروغ کیلئے ہر ممکن کوشش کرے گا اور چین China کی خواہش ہے کہ افغانستان Afghanistan بھی پاک چین China راہداری کا حصہ بن جائے‘ جس سے افغان عوام کی ترقی کی راہیں کھل جائیں گی۔جیسا کہ اس سے قبل میں اپنے ایک مضمون میں خدشات ظاہر کرتے ہوئے لکھ چکا ہوں کہ سولہ دسمبر کو کابل میں ہونے والے اس سہ فریقی معاہدے سے سب سے زیا دہ تکلیف بھارت India کو پہنچے گی ‘تو ابھی یہ معاہدہ ہوا ہی تھا کہ بھارت India کی خفیہ ایجنسیوں سے منسلک پنجن رائے چوہدری نے آرٹیکل لکھتے ہوئے یہ ٹھونسنے کی کوشش کی کہ چین China '' انڈو پیسفک ریجن‘‘ میں مداخلت کر رہا ہے‘‘۔

پنجن چوہدری کے ان الفاظ کا پس منظر بلا وجہ نہیں‘ کیونکہ اس باہمی یادداشت میں تینوں ملکوں نے آپس کے ذرائع آمد و رفت کیلئے آسانیاں‘ روزگار کے مواقع اور ایک دوسرے کی تعمیر و ترقی کیلئے کام کرنے کی حامی بھرلی ہے۔

 187