افغانستان۔ دستک دیتی نئی تباہی

جر گہ - سلیم صافی

26 دسمبر 2018

Afghanistan . dastak deti nai tabahi

وہی ہوا جس کا ڈرتھا۔ تاریخ اپنے آپ کو کئی گنا زیادہ بھیانک شکل میں دہرانے لگی ہے ۔ افغانستان Afghanistan میں امریکہ United States کم وبیش اسی انجام سے دوچار ہوا جس سے سوویت یونین ہوگیا تھا۔ ڈونلڈ ٹرمپ امریکہ United States کے لئے ویسے ثابت ہوتے ہیں یا نہیں یہ تو وقت بتائے گا لیکن افغانستان Afghanistan کے معاملے میں وہ دوسرے میخائل گورباچوف ثابت ہوئے ۔ تاہم غور سے دیکھا جائے تو امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی طرف سے افغانستان Afghanistan سے اچانک انخلاکا فیصلہ افغانستان Afghanistan اور پاکستان Pakistan کے لئے سوویت یونین کے انخلا کے فیصلے سے زیادہ خطرناک ہے ۔ کیونکہ سوویت یونین افغانستان Afghanistan سے مکمل نکلا تھا لیکن امریکہ United States اس کے بعد بھی اپنے اڈے برقرار رکھے گا۔ سوویت یونین نکلا تھا تو افغانستان Afghanistan کو اس کے اپنے یا پھر پڑوسیوں کے رحم وکرم پر چھوڑا تھا لیکن امریکہ United States نکل رہا ہے تو بھی افغانستان Afghanistan میں درجن سے زائد عالمی اور علاقائی طاقتیں کسی نہ کسی شکل میں موجود اور دخیل رہیںگی۔ سوویت یونین نکل رہا تھا تو ڈاکٹر نجیب اللہ کی حکومت کی صورت میں ایک منظم حکومت موجود تھی لیکن امریکہ United States نکل رہا ہے تو افغانستان Afghanistan پہلے سے انتشار کی شکار اشرف غنی حکومت کے سپرد ہوگا۔ سوویت یونین نکل رہا تھا تو افغانستان Afghanistan دو فریقوں یعنی حکومت اور مجاہدین میں منقسم تھا لیکن اب سیاسی سیٹ اپ کا حصہ افغان کئی گروہوں میں تقسیم ہیں جبکہ مزاحمت کاروں کے بھی کئی ہیں۔ تب افغانستان Afghanistan صرف پاکستان Pakistan اور پاکستان Pakistan مخالف قوتوں کے سپرد ہوا لیکن اب افغانستان Afghanistan میں انڈیا سے لے کر روس Russia تک ، ایران Iran سے لے کر عرب ممالک تک اور ترکی سے لے کر برطانیہ تک ، غرض درجنوں ممالک نے اپنی پراکسیز پال رکھی ہیں۔ سوویت یونین نکل رہا تھا تولوگ پر امید تھے کہ جلد یا بدیر مجاہدین پورے افغانستان Afghanistan پر قابض ہوجائیں گے لیکن اب یہ امر واضح ہے کہ طالبان اور داعش افغان حکومت کو بھی چین China سے بیٹھنے نہیں دیں گے لیکن وہ مجاہدین کی طرح پورے افغانستان Afghanistan پر قابض بھی نہیں ہوسکتے ۔ البتہ امریکہ United States کی طرف سے افواج کے انخلاکے اعلان کے ساتھ طالبان اپنے آپ کو اسی طرح فاتح سمجھنے لگے ہیں جس طرح افغان مجاہدین سوویت افواج کے انخلاکے بعد سمجھنے لگے تھے ۔ اشرف غنی کی حکومت اسی طرح ہل گئی ہے جس طرح کہ ڈاکٹر نجیب اللہ کی حکومت سوویت افواج کے انخلاکے بعد ہل گئی تھی اور حیرت انگیز طور پر پاکستان Pakistan میں دائیں بازوکے حلقوں میں اسی طرح فتح کا جشن منایا جارہا ہے جس طرح کہ سوویت افواج کے انخلا کے بعد منایا گیا تھا لیکن افسوس کہ سنجیدگی سے تجزیہ کرنے کے بعد تجزیہ کار اسی نتیجے تک پہنچتے ہیں کہ افغانستان Afghanistan ایک اور تباہی کے دہانےپر کھڑا ہوگیا ہے جس طرح کہ 1988میں کھڑا تھا اور پاکستان Pakistan پر شاید اس سے بھی زیادہ بھیانک اثرات مرتب ہوں گے جس طرح کہ نوے کی دہائی میں مرتب ہوئے تھے ۔ مختصر الفاظ میں فضائوں میں زہر کی مقدار بڑھ گئی ہے لیکن ہم سمجھ رہے ہیں کہ آج ہوا زیادہ ہے ۔

امریکی صدر بش کا افغانستان Afghanistan پر حملہ اگر حماقت تھی تو ڈونلڈ ٹرمپ کا اس طریقے سے انخلاکا اعلان اس سے بھی بڑی حماقت ہے ۔ خود امریکی انتظامیہ میں بھی ان کے اس فیصلے کا کوئی حامی نہیں ۔ امریکہ United States کے سیکرٹری دفاع جیمز میٹس کے استعفیٰ کا متن دیکھا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ خود انہیں کتنا اختلاف تھا۔ آج سے صرف بیس روز قبل امریکی سینیٹ کی آرمڈ سروسز کمیٹی کے سامنے پیشی کے موقع پر بیان دیتے ہوئے سنٹرل کمانڈ کے نامزد سربراہ لیفٹیننٹ جنرل میک کینزی (McKenzie) نے کہا تھا کہ اگر امریکی افواج فوراً افغانستان Afghanistan سے نکل جائیںتو اس کا نتیجہ افغان حکومت اور ملٹری کے سقوط کی صورت میں نکلے گا ۔ ان کے الفاظ تھے کہ :If the US were to withdraw now it would likely result in the collapse of the Afghan government and the military.۔ امریکی اسٹیبلشمنٹ اورا سٹیٹ ڈپارٹمنٹ کے ذمہ داران گزشتہ چند ماہ کے دوران جب بھی افغان قضیے کے فریقوں سے بات کرتے تو وہ اس بات کا خوف دلاتے کہ جلدی کوئی حل نکالنا چاہئے ورنہ توصدر ٹرمپ یکطرفہ نکلنے کا اعلان کردیں گے اور شاید اسی خطرے کے پیش نظر پاکستانی اسٹیبلشمنٹ نے گزشتہ چند ماہ کے دوران پوری قوت صرف کی کہ طالبان مذاکرات پر آمادہ ہوں ۔ مذاکرات ہوئے بھی لیکن افسوس کہ اصل فریقوں یعنی افغان حکومت اور طالبان کے مابین نہیں ۔ ڈونلڈ ٹرمپ نے اس کا انتظار بھی نہیں کیا اور طالبان کے ساتھ مذاکرات کی پہلی نشست کی آڑ لے کر افغانستان Afghanistan سے اپنی افواج کو نکالنے کا اعلان کر دیا حالانکہ اس کے لئے وہ ذہن پہلے سے بناچکے تھے ۔ طالبان کے ساتھ اگر مذاکرات ہوئے تو شام میںتو کسی مخالف فریق کے ساتھ مذاکرات نہیں ہوئے ۔ سوال یہ ہے کہ پھر وہ وہاں سے کیوں نکل رہے ہیں ؟۔ اصلاً وہ یہ سب کچھ اپنی ’’سب سے پہلے امریکہ United States ‘‘ کی پالیسی کے تحت کررہے ہیں لیکن افغانستان Afghanistan کے ضمن میں یہ اضافی حماقت کرڈالی کہ طالبان سے مذاکرات کا ڈھونگ بھی رچا دیا ۔ ان مذاکرات نے افغان حکومت کی پوزیشن بہت کمزور کردی اور طالبان کا مورال بہت بلند ہوگیا ۔ طالبان پہلے ہی افغان حکومت کو کوئی حیثیت اور اہمیت دینے کوتیار نہیں تھے اور اب تو ان کا رویہ افغان حکومت کے معاملے میں مزید بے لچک ہوجائے گا ۔

یقیناًامریکی اُس طرح اپنے مقاصد حاصل نہیں کرسکے ،جس طرح چاہتے تھے ۔ بظاہر اسے اسی طرح شکست ہوئی ہے جس طرح کہ سوویت یونین کو ہوئی تھی لیکن بعض حوالوں سے امریکیوں نے اپنے مقاصد بھی حاصل کر لئے ۔ مثلاً جس طرح ماضی میں افغانستان Afghanistan القاعدہ کا گڑھ بنا تھا ، اب اسی طرح دوبارہ نہیں بن سکتا۔ یہ خطرہ اب نہ ہونے کے برابر ہے کہ افغانستان Afghanistan میں بیٹھ کر کچھ لوگ امریکہ United States میں حملوں کی منصوبہ بندی کریں ۔ امریکہ United States نے افغان سیاست میں کماحقہ لابی بھی پیدا کردی ہے اور اب جو بھی حکومت ہوگی اقتصادی حوالوں سے امریکہ United States کی محتاج اور زیردست ہوگی ۔ امریکی اڈے بدستور افغانستان Afghanistan میں ہوں گے اور ان کو بروئے کار لاکر وہ اپنی مرضی کے مطابق خطے کو اسی طرح زیراثر رکھنے کی کوشش کریں گے جس طرح کہ مشرق وسطیٰ میں کررہے ہیں ۔ اب پاکستان Pakistan سے متعلق بھی اس کا رویہ جارحانہ ہوجائے گا کیونکہ جب تک امریکی افواج افغانستان Afghanistan میں موجود ہیں، وہ پاکستان Pakistan کا محتاج ہے لیکن جب افواج نکل جائیں گی اور افغانستان Afghanistan کو مستحکم رکھنے کی ذمہ داری اس کی نہیں رہے گی تو اس کی یہ محتاجی ختم ہوجائے گی ۔ یوں وہ پاکستان Pakistan سے متعلق مزید جارحانہ رویہ اپنالے گا۔ افغانستان Afghanistan میں اگر خانہ جنگی رہتی ہے اور افغان ، افغان کو مارتا ہے تو اس کا سب سے زیادہ نقصان پڑوسی ممالک اور بالخصوص پاکستان Pakistan کو ہوگا۔ افغانستان Afghanistan کے انتشار سے وسط ایشیااور روس Russia بھی براہ راست متاثرہوتے ہیں جبکہ امریکہ United States کے نمبرون حریف چین China کے بیلٹ اینڈ روڈ منصوبے میں بھی خلل پڑتا ہے لیکن امریکہ United States کو کوئی براہ راست تکلیف نہیں پہنچے گی۔ اس لئے اب پاکستان Pakistan ،روس، چین China اور ایران Iran کو چاہئے کہ وہ پہلے سے زیادہ سفارتی کوششیں کریں اور بہر صورت افغان حکومت اور طالبان کے مابین مفاہمت کا راستہ نکالیں ۔ افغان حکومت میں شامل دوستوں کو ہم گزشتہ سالوں میں یہ بات سمجھاتے رہے کہ وہ امریکہ United States کی شہ پر پاکستان Pakistan کو آنکھیں نہ دکھائیں کیونکہ وہ دور کے آئے ہوئے بے وفا دوست ہیں ۔ اب ان کو بھی احساس ہوچکا ہوگا کہ امریکہ United States اور ہندوستان کی دوستی کے زعم میں پاکستان Pakistan جیسے پڑوسیوں کے ساتھ تعلقات خراب کرکے انہوں نے اچھا نہیں کیا ۔ اب ان کو بھی چاہئے کہ وہ ماضی کی غلطیوں کا ازالہ کرکے پاکستان Pakistan اور دیگر پڑوسیوں سے تعلقات بہتر بنائیں تاکہ وہ طالبان کے ساتھ مفاہمت میں بھرپور کردار ادا کرسکیں ۔ اسی طرح طالبان کوبھی چاہئے کہ وہ فتح کے زعم میں مبتلا نہ ہوں بلکہ حقیقت پسندی کے ساتھ اپنے ہم کلمہ افغان بھائیوں کے ساتھ سیاسی مفاہمت کا راستہ نکالیں ۔ افغان آپس میں لڑیں گے تو امریکہ United States سمیت تمام غیرملکی طاقتوں کو مداخلت کا راستہ ملے گا لیکن وہ باہم ایک ہوگئے تو ایک وقت آجائے گا کہ ہر طرح کی غیرملکی طاقتوں کو بے دخل کیا جاسکے گا۔

 157