اومنی اور زرداری گروپ جعلی اکاؤنٹس کے ذمہ دار

25 دسمبر 2018

tahir Mahmood ashrafi ke accounts mein mushtaba tranzkshn, f aayi ae ne talabb karliya

بلاول ہاؤس کے کھانوں،یوٹیلیٹی بلز،کتوں کی خوراک، بکروں ، بلاول کے لنچ کابوجھ جعلی اکائونٹس نے اٹھایا،سندھ میں اختیار کا غلط استعمال کیا ،اومنی ڈھال ڈنشا سابق صدر کا فرنٹ مین،پلاٹوں کی بندر بانٹ،یہ کرپشن دیگ کے ایک چاول کے برابر،بحریہ آئیکون غیر قانونی،سربراہ جے آئی ٹی زرداری ،فریال سے 31دسمبر تک جواب طلب،جے آئی ٹی سے عدم تعاون پر وزیر اعلیٰ سندھ طلب:زرداری پر 5ریفرنس بن سکتے : دنیا کامران خان کیساتھ

لاہور (رپورٹ :محمداشفاق،عمرشاکر)جعلی اکائونٹس کیس میں جے آئی ٹی نے اومنی اور زرداری گروپ کو جعلی اکائونٹس کا ذمہ دار قراردیدیا، سپریم کورٹ میں جمع کرائی گئی رپورٹ میں کہاگیاہے کہ سابق صدر اور ان کی ہمشیرہ فریال تالپور نے اومنی گروپ کو بطور ڈھال استعمال کیا، سندھ حکومت کے اختیارات کا ناجائز استعمال کیا، آصف زرداری اوربلاول کے ذاتی اخراجات کی جعلی اکائونٹس سے ادا ئیگی کی گئی،رپورٹ میں وزیر اعلیٰ سندھ مراد علی شاہ سے تحقیقات کرنے اور دیگر 15معاملات کی بھی تفتیش کی سفارش کی گئی ہے ،زرداری گروپ کاکوئی معقول بزنس نہیں ہے ۔سربراہ جے آئی ٹی احسان صادق کی جانب سے جمع کرائی گئی رپورٹ میں کہاگیاہے کہ جعلی اکائونٹس کیس میں24 میں سے 4 ملزم گرفتار کرلیے ، سپریم کورٹ نے 29 جون کو سوموٹو لیا جس کے بعد عدالت عظمٰی نے 5 ستمبر کو جے آئی ٹی تشکیل دی، رپورٹ میں نشاندہی کی گئی کہ 32 جعلی بینک اکاؤنٹس ،3 ملازمین کے نام 11 جعلی کاروباری یونٹس کی تفتیش کی گئی، رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ حسین لوائی نے فوت شدہ افراد کے نام پر جعلی اکاؤنٹس کھولے ،سمٹ بینک میں 15،سندھ بینک میں 7، یو بی ایل میں 8 اور ایم سی بی اور فیصل بینک میں ایک، ایک اکاؤنٹ کھولا گیا،رپورٹ میں نیشنل بینک اور سندھ بینک میں آصف علی زرداری کے براہ راست اثر کی نشاندہی کی گئی ہے کہ جعلی اکاؤنٹس میں مرکزی بینک کے رولز کی خلاف ورزی کی گئی، رپورٹ میں کہاگیاہے کہ آصف زرداری نے مالیاتی اداروں اورریگولیٹرزپردباؤڈالا،چیئرمین پیپلزپارٹی بلاول بھٹو Bilawal Bhutto کوبھی جعلی اکاؤنٹس کابینی فشری قراردیاگیا ہے ۔ سندھ حکومت سے ٹھیکے حاصل کرنیوالے 19افراد نے 1 ارب 32 کروڑ روپے بطور رشوت ان جعلی اکائونٹس میں جمع کرائے ۔رپورٹ میں جے آئی ٹی نے آصف علی زرداری اور فریال تالپور کی خفیہ جائیدادوں کی نشاندہی کی ہے ، رپورٹ کے مطابق تھر کول کو پانی کی فراہمی کے منصوبے کی لاگت 9 ارب سے 40 ارب روپے تک بڑھائی گئی، سیکرٹری آبپاشی نے 2012 سے 2015 تک 8چہیتے ٹھیکیداروں کو پیپرا رولز کے خلاف ٹھیکے دیے ، جنہوں نے 54کروڑ 70لاکھ جعلی اکاؤنٹس میں جمع کرائے ، اومنی ملزسے ساڑھے 26کروڑ آصف زرداری ، 24کروڑفریال تالپورکواداکیے گئے ، جعلی اکاؤنٹس سے 4کروڑ 20لاکھ نوڈیرو ہاؤس پرخرچ ہوئے ، زرداری کی بلٹ پروف گاڑی کیلئے ایک کروڑ 40لاکھ روپے اداکیے گئے ، آصف زرداری نے ابھی تک مذکورہ گاڑی ظاہرنہیں کی،فریال تالپور کے کراچی والے گھر پر 35 لاکھ 80ہزار روپے خرچ کیے گئے ، زرداری ہائوس نواب شاہ کیلئے 8 لاکھ 90 ہزار کا سیمنٹ منگوایا گیا، بلاول ہائوس کے یوٹیلیٹی بلز پر 15 لاکھ 80 ہزار روپے خرچ کیے گئے ، رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ بلاول ہائوس کے روزانہ کھانے پینے کی مد میں 41 لاکھ 40 ہزار روپے خرچ کیے گئے ، رپورٹ کے مطابق زرداری اور انکے خاندان کے ہوائی سفر پر ایک کروڑ 28 لاکھ روپے خرچ کیے گئے ، رپورٹ کے مطابق بلٹ پروف ٹرک کے لیے 14.6 ملین خرچ کیے گئے ، انہوں نے سندھ حکومت کے اختیارات کا ناجائز استعمال کیا،اختیارات کے ناجائز استعمال سے بڑے پیمانے پر اثاثے بنائے ، آصف زرداری نے بطور صدر بلٹ پروف گاڑیاں منگوائیں، جن کی ادائیگی جعلی اکائونٹ سے کی گئی، جس شخص کا اکائونٹ استعمال کیا گیا وہ انتقال کرچکا تھا، زرداری نے بطور صدر پارک لین کمپنی کے ذریعے ڈیڑھ ارب کا قرضہ لیا، جس شخص کا اکائونٹ استعمال کیا گیا وہ انتقال کرچکا تھا۔زرداری گروپ نے فریال تالپور کے ذریعے 1.22 ارب کے کک بیکس لیے ۔رپورٹ میں سراغ لگا ئی گئی کرپشن کو دیگ میں ایک چاول کے دانے کے برابر قراردیاگیاہے ، اصل کرپشن کا والیم اس سے بھی زیادہ ہے ، جے آئی ٹی رپورٹ میں آصف علی زرداری کے اثاثوں سے متعلق رپورٹ نمبر 25 کو خفیہ کہا گیا ہے ۔رپورٹ کے مطابق فلاحی پلاٹوں کی بھی بندر بانٹ کی گئی، پلاٹس آصف زرداری کے فرنٹ مین یونس قدوائی کودئیے گئے ،یونس قدوائی کے ذریعے زمین غیرقانونی طورپرحاصل کی گئی،زرداری اورسندھ حکومت نے اومنی گروپ کاجہاز 110باراستعمال کیا،رپورٹ میں کہاگیاہے کہ سمٹ بینک کے 15 جعلی اکاؤنٹس سے 26 ارب روپے کی منی لانڈرنگ Money laundering کی گئی، جے آئی ٹی نے سفارش کی ہے کہ نیب سٹیل ملز کی 362 ایکڑ اراضی میں بے ضابطگیوں کی بھی تحقیقات کرے ،نیب حکومتی ٹھیکیداروں کے ذریعے جعلی اکائونٹس میں ڈالی گئی ایک ارب 32کروڑروپے کے کک بیکس کی بھی تحقیقات کرے ، سندھ حکومت کی شراکت دار مختلف کمپنیوں کے ذریعے ہنڈی کی تحقیقات کی سفارش کی گئی ہے ،فریال تالپور اور زرداری گروپ کے فارمز کی بھی تحقیقات کی جائیں، سفارش کی گئی ہے کہ اومنی گروپ کی جانب سے مختلف بینکو ں سے 53 ارب روپے کے قرضے فراڈ سے لینے کا بھی نوٹس لیاجائے ، نیب حکومتی انڈسٹری کو کوڑیوں کے دام فروخت کرنے کا بھی نوٹس لے ، ر پورٹ میں سمٹ بینک کے قیام کو غیرقانونی قرار دیا گیا ہے ، جے آئی ٹی نے مرادشاہ کیخلاف تحقیقات سمیت 16 مختلف معاملات پر نیب کو نوٹس لینے کی سفارش کی ہے ۔ جے آئی ٹی لاہور(کورٹ رپورٹر،خبرنگارسے ،مانیٹرنگ ڈیسک) سپریم کورٹ نے جعلی اکاؤنٹس کیس میں سابق صدر آصف زرداری ، فریال تالپور ،ملک ریاض اور زین ملک کو نوٹسز جاری کردیئے جبکہ اومنی گروپ، زرداری گروپ اور دیگر کی جائیدادیں منجمد کردیں، عدالت نے ملزموں کے نام ای سی ایل میں ڈالنے کیلئے ایف آئی اے کو درخواست دینے کی ہدایت کردی،عدالت نے جے آئی ٹی کو جعلی اکائونٹس کی تفتیش کیلئے مزید2ماہ کا وقت دیدیا۔پیر کو چیف جسٹس میاں ثاقب نثار کی سربراہی میں دو رکنی بینچ نے لاہور رجسٹری میں جعلی اکاؤنٹس سے متعلق کیس کی سماعت کی۔ عدالت نے کمرے میں پروجیکٹر لگانے کا حکم دیا اور ریمارکس دیئے کہ جے آئی ٹی کی سمری اوپن عدالت میں پروجیکٹر پر چلائی جائے گی۔اس موقع پر جے آئی ٹی کے سربراہ احسان صادق نے عدالت کو بتایا کہ سابق صدر کے کپڑوں کی ڈرائی کلیننگ اور فیملی کے ماہانہ اخراجات کی ادائیگی اومنی گروپ کے اکاؤنٹس سے ہوتی رہی ہے ۔ 1کروڑ 20 لاکھ سے 1کروڑ 50 لاکھ کا ماہانہ خرچہ اومنی گروپ کے اکاؤنٹس سے ادا کیا جاتا ہے ،بلاول ہاؤس کے کتوں کے کھانے اورصدقے کے 28بکروں کے اخراجات جعلی بینک اکاؤنٹس سے دیئے گئے ۔ جے آئی ٹی سربراہ نے انکشاف کیا کہ زرداری گروپ نے 53.4بلین کے قرضے حاصل کئے ،24 ارب کا قرضہ سندھ بینک سے لیا گیا ۔اس موقع پر چیف جسٹس کے استفسار پر بتایا گیا کہ سندھ بینک کے اثاثوں کی ملکیت 16 ارب روپے ہے اور یہ بینک قانونی طور پر زیادہ سے زیادہ 4 ارب روپے قرض دے سکتا ہے ،مگر 24 ارب روپے قرض دیا گیا۔ جے آئی ٹی سربراہ کے مطابق اومنی گروپ نے اپنے گروپ کو پانچ حصوں میں تقسیم کر کے قرضے لئے ۔ سربراہ جے آئی ٹی احسان صادق نے عدالت عظمٰی کو بتایاکہ مجموعی طور پر 29جعلی بینک اکاؤنٹس سے متعلق تفتیش مکمل ہو چکی ہے ۔ ان کی تفتیش کے دوران مزید جعلی اکاؤنٹس سامنے آئے ہیں ،جس پر عدالت نے جے آئی ٹی کو مزید جعلی اکاؤنٹس کی تحقیقات کے لیے مزیددو ماہ کی مہلت دے دی اور ریمارکس دئیے کہ یہ قوم کا پیسہ ہے کسی کو بھاگنے نہیں دیں گے ۔ایک موقع پرچیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ بحریہ ٹاؤن کا نام ہر جگہ استعمال ہو رہا ہے ، ایک عدالت نے بحریہ کا نام استعمال کرنے سے روکا تھا تاہم ابھی بھی یہ نام استعمال کیا جا رہا ہے ، جے آئی ٹی کے سربراہ نے مزید بتایا کہ کراچی کے علاقے کلفٹن میں آئیکون ٹاور بنایا گیا ہے ،آئیکون ٹاور میں زرداری کا فرنٹ مین ڈنشا 50فیصد شیئرز کا مالک ہے ،جس پر چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ ڈنشا کے آصف زرداری کے فرنٹ مین ہونے کے کیا ثبوت ہیں؟جے ا ٓئی ٹی کے سربراہ نے عدالت کو بتایا کہ بحریہ آئیکون غیر قانونی تعمیر کیاگیا۔رپورٹ میں کہا گیا کہ 1.2 ارب روپے آصف زرداری کی ہمشیرہ فریال تالپور کے اکاؤنٹ میں گئے جس سے لاہور بلاول ہاؤس اور ٹنڈو الہ یار کی زمین خریدی گئی۔جسٹس ثاقب نے استفسار کیا کہ لاہور کا بلاول ہاؤس کس کی ملکیت میں ہے ؟ جس پر جے آئی ٹی نے کہا کہ پہلے تحفے میں دیا گیا تھا، بعد میں تحفہ واپس کرکے بحریہ ٹاؤن کو آدھی رقم ادا کردی گئی۔جے آئی ٹی نے بتایا کہ عدالتی حکم پر اومنی گروپ کی جائیدادوں کا تخمینہ لگایا، اب قیمت کم ہوگئی ہے ، جس پر چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ اس کا مطلب ہے قرض کے لیے جائیدادوں کی قیمتیں بڑھا دی گئیں، برتھ ڈے ، پاسپورٹ فیس، ایمرجنسی لائٹس کا بل بھی اومنی گروپ سے دیا گیا، جس پر جے آئی ٹی سربراہ نے کہا یہ ہر بار کمپنی تبدیل کر کے ادائیگیاں کرتے رہے ، پہلے یہ 23 کمپنیاں تھیں، 2008 سے 2018 تک 83 کمپنیاں بن چکی ہیں۔ایک موقع پرچیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ بلاول کے لنچ کا بل 15 ہزار روپے جو بڑی رقم نہیں لیکن یہ رقم اومنی گروپ نے ادا کی ، ممکن ہے وہ اس کے شیئر ہولڈرز ہوں۔اس پر جے آئی ٹی حکام نے بتایا کہ ہو سکتا ہے وہ شیئر ہولڈر ہوں، پھر ڈکلیئر کر دیں جس پر چیف جسٹس نے کہا اب پراسیکیوشن کو نہیں ان کو خود ثابت کرنا ہوگا۔جسٹس ثاقب نثار نے ریمارکس دیئے کہ یہ وہ پاکستان Pakistan نہیں جو پہلے تھا، جہاں سرکاری زمینوں کی بندر بانٹ کی جاتی تھی، ایک موقع پرچیف جسٹس نے ریمارکس دئیے کہ عدالت کو بلیک میل کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے ۔بحریہ ٹاؤن کے ملازمین کی تنخواہوں کو بند کیا جاتا ہے ، کبھی بجلی گیس بند ہونے کا کہا جاتا ہے ،عدالت پر اثرانداز ہونے کی کوشش کی جا رہی ہے ،جسٹس ثاقب نثار نے مزید کہا کہ ملک ریاض کو کہا تھا کہ رقم ڈیم فنڈ میں دے دے ، مگر کہتا ہے میرے پاس کچھ بھی نہیں ہے ۔ جے آئی ٹی نے عدالت کو بتایاکہ اومنی گروپ کے سربراہ انور مجید کوئی تعاون نہیں کر رہے بلکہ بدمعاشی کر رہے ہیں ،اس پرچیف جسٹس نے اومنی گروپ کے وکلا منیر بھٹی اور شاہد حامد سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ لگتاہے اومنی گروپ مالکان کاغرورختم نہیں ہوا،قوم کے اربوں روپے کھاگئے ،پھربھی بدمعاشی کررہے ہیں، لگتا ہے انہیں اڈیالہ سے کہیں اورشفٹ کرنا پڑے گا ،انورمجید کے ساتھ اب کوئی رحم نہیں۔آپ وکیل ہیں،آپ کوسنیں گے لیکن فیصلہ ہم نے ہی کرناہے ۔ایک موقع پرسربراہ بینچ نے استفسار کیا کہ ایان علی کہاں ہیں؟ کیا وہ بیمار ہو کر پاکستان Pakistan سے باہر گئیں، کیا کوئی بیمار ہو کر ملک سے باہر چلا گیا تو واپس لانے کا کوئی طریقہ کار موجود ہے ؟چیف جسٹس نے آصف زرداری کے وکیل فاروق نائیک سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ اربوں کے کھانچے ہیں،معاف نہیں کریں گے ۔آصف علی زرداری کے وکیل نے بتایا کہ جے آئی ٹی نے عدالت کو درست شواہد نہیں بتائے جس پر چیف جسٹس نے قرار دیا کہ آپ ٹینشن نہ لیں جو فیصلہ کریں گے قانون کے مطابق ہو گا ہمیں پتہ ہے قوم کا پیسہ کیسے لوٹا گیا۔ دوران سماعت ڈی جی ایف آئی اے نے عدالت کو بتایا کہ منی لانڈرنگ Money laundering اور جعلی بینک اکائونٹ سے متعلق سندھ حکومت ہمارے ساتھ تعاون نہیں کررہی، جب بھی سندھ حکومت سے کسی معاملے پر تفصیلات طلب کرنے کے لئے خط لکھا تو انہوں نے جواب نہیں دیا ۔ اس موقع پرچیف جسٹس پاکستان Pakistan سندھ حکومت کے رویے پر برس پڑے ،چیف جسٹس نے ایڈووکیٹ جنرل سندھ کو کہا کہ آئندہ سماعت پر وزیراعلیٰ سندھ کو پورے سیکرٹریٹ سمیت سپریم کورٹ میں پیش کریں جبکہ اراضی سے متعلقہ تمام ڈی سی اوز کو سپریم کورٹ بلا لیں تاکہ خط وکتابت کا یہ سلسلہ بند ہو سکے اور موقع پر ہی ایف آئی اے اور جے آئی ٹی کو جو کاغذات چاہئیں ہوں وہ فراہم ہوسکیں ۔چیف جسٹس نے واضح کردیا کہ تفتیش میں تاخیر ی حربے کسی صورت برداشت نہیں کریں گے ۔ ایف آئی اے نے تمام افراد کے نام ای سی ایل میں شامل کرنے کی استدعا کر دی جس پر چیف جسٹس نے قرار دیا کہ آپ وزارت داخلہ کو درخواست دیں، ای سی ایل سے متعلق وہ فیصلہ کریں گے ،سربراہ بینچ نے جے آئی ٹی رپورٹ کی کاپی فریقین کو دینے کا حکم دے دیا ۔عدالت نے سابق صدر آصف زرداری، ملک ریاض، زین ملک،فریال تالپور سے جواب طلب کرتے ہوئے کیس کی مزید سماعت 31 دسمبر تک ملتوی کردی۔ادھر دنیا نیو زکے پروگرام دنیا کامران خان کے ساتھ میں میزبان نے کہاکہ سابق صدر آصف زرداری اور ان کے خاندان کوجے آئی ٹی نے جکڑ لیا ہے ،میزبان کے مطابق رپورٹ سے یہ بات واضح ہو گئی ہے کہ کم از کم 12اور زیادہ سے زیادہ 16 ریفرنس بنیں گے اور اگر سپریم کورٹ نے حکم جاری کیا تو یہ کام نیب کرے گا۔یہ بات سامنے آئی ہے کہ اومنی گروپ میں اربوں روپے کی جعلی بینک ٹرانزیکشنز ہوئی ہیں ،اس مقصد کے لئے اومنی گروپ نے ایک پورا جال بنایا تھا۔ٹھیکے ،رشوت،خریداری حکومت سندھ کے سارے معاملات کا ذمہ دار اومنی گروپ تھا۔یہ رقوم جعلی اکائونٹس کے ذریعے گھومتی تھیں ۔اس میں تین بینکوں نیشنل بینک،سندھ بینک اور سمٹ بینک ان کے اشاروں پر ناچتے تھے اور پچھلے دس سال میں کرپشن کی ایک ایسی تاریخ رقم کی گئی ہے کہ اگر عالمی کرپشن کی تاریخ لکھی جائے گی تو اس میں اس کا ذکر آئے گا۔آصف زرداری کے خلاف 5ریفرنس بن سکتے ہیں ۔وزیر اعلیٰ سندھ مراد علی شاہ کے خلاف 3ریفرنس بن سکتے ہیں،بلاول بھٹو Bilawal Bhutto زرداری اگر ان سے بچ گئے تو یہ کسی معجزہ سے کم نہیں ہوگا۔آصف زرداری کی ٹنڈو الہ یار اور نواب شاہ میں زرعی زمینوں کے علاوہ اندرون سندھ کم از کم 61پراپرٹی ہیں جن کی نشاندہی کی گئی ہے لیکن زرداری نے صرف 5پراپرٹیز کو ظاہر کیا ہے ان کے فرنٹ مینوں کی جو تفصیل سامنے آئی ہے ان میں منظور قادر کاکامفرور ہے علاوہ ازیں یونس قدوائی اور جبار نام کے لوگوں کا ذکر ہے یہ یونس در اصل ایک سسٹم تھاجو پورے سندھ سے ملنے والی رشوت ستانی کی رقم کو جمع کرتا تھا،یہ یونس "'سسٹم "کہلاتا تھا،جبار اس کا اسسٹنٹ تھاان کا بڑا کلیدی کردار تھا۔اسی سسٹم کے ذریعے کلفٹن میں بنگلے زبردستی اور من مانی قیمتوں پر خریدے گئے ،ایک اور معاملہ جو زرداری کے گلے کی ہڈی بن سکتا ہے وہ صدر مملکت کی حیثیت سے گاڑیوں کی امپورٹ کا ہے ۔ جائیداد یں منجمد

 124