فلیگ شپ ریفرنس میں نوا زشریف بری، العزیزیہ میں 7 سال قید کی سزا

24 دسمبر 2018

flag ship refrences mein nawaz shari  buri, alaziya mein 7 saal qaid ki saza

اسلام آباد: (دنیا نیوز) فلیگ شپ ریفرنس میں نواز شریف Nawaz Sharif بری جبکہ العزیزیہ ریفرنس میں 7 سال قید کی سزا سنا دی گئی۔ احتساب عدالت کے جج ارشد ملک نے فیصلہ سنایا۔

سابق وزیراعظم نواز شریف Nawaz Sharif کے خلاف عدالتوں نے پاناما کیس سے اب تک تمام اہم فیصلے جمعہ کے روز سنائے تاہم العزیزیہ اور فلیگ شپ ریفرنسز کا فیصلہ پیر کو آیا۔ نواز شریف Nawaz Sharif کیخلاف جمعہ کے روز پہلا فیصلہ 20 اپریل 2017ء کو سنایا گیا، جب سپریم کورٹ نے پاناما کیس میں اکثریت رائے سے جے آئی ٹی کی تشکیل کا حکم دیا۔

سپریم کورٹ کے پانچ رکنی بنچ نے 28 جولائی 2017ء کو متفقہ طور نواز شریف Nawaz Sharif کو نااہل کیا تو بھی جمعہ کا ہی دن تھا۔ سپریم کورٹ نے نااہلی کے خلاف نواز شریف Nawaz Sharif کی نظر ثانی اپیل بھی گزشتہ سال جمعہ 15 ستمبر کو مسترد کی۔ عجب اتفاق ہے کہ احتساب عدالت نے لندن فلیٹس ریفرنس میں نواز شریف Nawaz Sharif کو سزا بھی 6 جولائی 2018ء جمعہ کے دن ہی سنائی۔

العزیزیہ اور فلیگ شپ ریفرنسز، سماعت کے دوران کب کیا ہوا؟

کارکن بن کر انصاف کیلئے کردار ادا کروں گی، مریم نواز Maryam Nawaz کا عزم

سابق وزیراعظم نواز شریف Nawaz Sharif کے خلاف العزیزیہ اور فلیگ شپ ریفرنسز کی مجموعی طور پر 183 سماعتیں ہوئیں، نیب کی جانب سے العزیزیہ ریفرنس میں 22 اور فلیگ شپ میں 16 گواہان پیش کئے گئے، نواز شریف Nawaz Sharif کو 15 بار اڈیالہ جیل سے پیشی کیلئے لایا گیا، دونوں ریفرنسز پر ابتدائی 103 سماعتیں جج محمد بشیر نے کی تھیں، بعد میں 80 سماعتیں جج ارشد ملک نے کیں۔

پاناما کیس: سپریم کورٹ نے وزیراعظم کو نااہل قرار دے دیا

نواز شریف Nawaz Sharif اور جہانگیر ترین پارلیمانی سیاست سے تاحیات نا اہل

3 اپریل 2016 کو پاناما کی لاء فرم موزیک فونسیکا کی جانب سے پاناما پیپرز کی پہلی قسط جاری کی گئی جس میں کئی پاکستانیوں سمیت میاں نواز شریف Nawaz Sharif کے ان بچوں کی آف شور کمپنیوں کے متعلق دستاویزات بھی شامل تھے، جس کے بعد اپوزیشن نے کرپشن کا شور مچایا اور 5 اپریل 2016 کو اس وقت وزیر اعظم Prime Minister نواز شریف Nawaz Sharif کا دستاویزات پر اپنا موقف بیان کرتے ہوئے قوم سے خطاب کیا اور جوڈیشل کمیشن بنانے کا اعلان کیا۔

16 مئی 2016 کو نواز شریف Nawaz Sharif نے پارلیمنٹ میں اپنے اثاثوں سے متعلق وضاحتی خطاب میں پاناما ليکس پر مشترکہ کميٹی بنانے کی تجويز دی۔ کرپشن کے شو رکے ساتھ 24 اگست 2016 کو جماعت اسلامی کی جانب سے ملک کی عدالت عالیہ میں وزیر اعظم Prime Minister شریف کی نااہلی کے لیے درخواست دائر کی۔ جس کے بعد 29 اگست کو نااہلی کے لیے پی ٹی آئی نے بھی سپریم کورٹ کا رخ کیا۔

20 اکتوبر 2016 کو سپریم کورٹ نے اُس وقت کے وزیر اعظم Prime Minister نواز شریف Nawaz Sharif کی نااہلی کی دائر کردہ درخواستوں کو قابل سماعت قرار دیتے ہوئے 28 اکتوبر کو چیف جسٹس آف سپریم کورٹ جسٹس انور جمالی کی سربراہی میں ایک لارجر بنچ تشکیل دیا گیا۔ جس کے بعد 9 دسمبر کو چیف جسٹس آف سپریم کورٹ جسٹس انور ظہیر جمالی کی ملازمت سے سبکدوشی کے بعد مقدمے کی سماعت کرنے والا بنچ تحلیل ہو گیا۔

مجھے کسی قسم کا خوف نہیں، میرا ضمیر مطمئن ہے: نواز شریف

نوازشریف کو علم ہے ان کے ساتھ کیا ہو گا: جاوید ہاشمی

4 جنوری 2017 کو نااہلی ریفرنس کی سماعت کے لیے جسٹس آصف کھوسہ کی سربراہی میں سپریم کور ٹ کا نیا بنچ تشکیل دیا گیا اور مقدمے کی از سر نو سماعت کا آغاز کیا گیا۔ 26 جنوری 2017 کو کیس کی سماعت کے دوران شریف خاندان کی منی ٹریل کے متعلق قطری شہزادے شیخ حماد بن جاسم کا خط سپریم کورٹ میں پیش کیا گیا۔

23 فروری 2017 کو سپریم کورٹ آف پاکستان Pakistan نے تمام گواہان مقدمے کی سماعت مکمل کرتےہوئے فیصلہ محفوظ کر لیا۔ 20 اپریل کو محفوظ شدہ فیصلہ سنایا گیا اور فیصلے میں 2 جج صاحبان کی جانب سے نواز شریف Nawaz Sharif کو نااہل قرار دے دیا گیا اور 3 ججوں کے فیصلے میں مشترکہ تحقیقات کے لیے جے آئی ٹی بنانے کی سفارش کی گئی۔ جس کے بعد 3 مئی کو پاناما بنچ کی نے 6 افراد پر مشتمل جے آئی ٹی تشکیل دی۔

22 مئی 2017 کو جے آئی ٹی نے اپنی پہلی رپورٹ سپریم کورٹ میں پیش کی، 28 مئی 2017 نواز شریف Nawaz Sharif کے صاحبزادے حسین نواز جے آئی ٹی کے سامنے پیش ہوئے بعد میں جے آئی ٹی پیشی کی تصویر لیک ہونے سے کافی شور شرابا سنا گیا، حسین نواز کے بعد 5 جولائی کو مریم نواز Maryam Nawaz شریف Nawaz Sharif مشترکہ تحقیقاتی ٹیم کے سامنے پیش ہوئیں، جس کے 2 دن بعد جے آئی ٹی نے سوالات کے لیے قطری شہزادے کو اپنے محل یا پھر دفتر آنے کی دعوت دی اور جنہوں نے پاکستان Pakistan آنے سے انکار کر دیا تھا۔

ٹھیک 3 دن بعد 10 جولائی کو پاناما کیس کی مشترکہ تحقیقاتی ٹیم نے اپنی رپورٹ سپریم کورٹ میں جمع کرائی۔ سپریم کورٹ کے 3 رکنی بینچ نے جے آئی ٹی رپورٹ پر عدالتی کارروائی شروع کر تے ہوئے 28 جولائی 2017 کو سپریم کورٹ کے پانچ رکنی بنچ نےاس وقت کے وزیر اعظم Prime Minister نواز شریف Nawaz Sharif کو نا اہل قرار دیا اور نواز شريف اور ان کے بچوں کے حوالے سے نيب ميں ريفرنس دائر کرانے کے احکامات جاری کیے۔

28 ستمبر 2017 نیب نے نواز شریف Nawaz Sharif اور ان کے بچوں کے خلاف العزیزیہ، فلیگ شپ اور ایون فیلڈ ریفرنسز بنائے۔ 19 ستمبر 2017 العزیزیہ اسٹیل ملز ریفرنس میں نواز شریف Nawaz Sharif پر فرد جرم عائد کرتے ہوئے حسن نواز اور حسین نواز کو مفرور ملزمان قرار دیا گیا۔ 3 جولائی 2018 احتساب عدالت نے ایون فیلڈ ریفرنس کا فیصلہ محفوظ کر لیا۔

6 جولائی 2018 کو احتساب عدالت نے نواز شریف Nawaz Sharif کو 10 برس، مریم نواز Maryam Nawaz کو 7 برس اور کیپٹن (ر) صفدر کو ایک سال قید بامشقت سناتے ہوئے نواز شریف Nawaz Sharif کو 80 لاکھ اور مریم نواز Maryam Nawaz کو 20 لاکھ پاؤنڈ جرمانہ بھی کیا۔ 12 جولائی 2018 لندن سے وطن واپسی پر نواز شریف Nawaz Sharif اور مریم نواز Maryam Nawaz کو گرفتار کر لیا گیا جس کے بعد پاکستانی سیاست میں کافی ہلچل دکھائی دی۔

19 ستمبر 2018 اسلام آباد ہائیکورٹ نے ایون فیلڈ ریفرنس میں نواز شریف، مریم اور صفدر کی سزا معطل کرتے ہوئے تینوں کو رہا کرنے کا حکم جاری کیا۔

 146