بھارت India کی افغانستان Afghanistan اور ایران Iran دوستی کے مقاصد اور انجام…(2)

حرف راز - اوریا مقبول جان

21 دسمبر 2018

Bharat ki Afghanistan aur Iran dosti ke maqasid aur injaam … ( 2 )

پاکستان Pakistan کے خلاف افغانستان Afghanistan میں اپنے مقاصد کی تکمیل کے لئے بھارت India کا راستہ ایران Iran سے ہو کر جاتا ہے۔ افغانستان Afghanistan اور بھارت India کے درمیان پاکستان Pakistan حائل ہے جس کے وجود سے نفرت پر اس بھارتی Indian سیاسی گروہ کا نعرہ ہے جو اقتدار پر قابض ہونا چاہتا ہے۔ بھارت India کے اقتدار کا راستہ پاکستان Pakistan سے دشمنی‘ مسلمانوں سے نفرت اور عظیم اکھنڈ ہندو توا کی پگڈنڈیوں سے ہو کر جاتا ہے۔ چانکیہ کے اصولوں پر مرتب کردہ بھارتی Indian خارجہ پالیسی اس بات پر یقین رکھتی ہے کہ دشمن کے پڑوسی ملک سے دوستانہ تعلقات استوار کرو۔ جب تک ایران Iran میں رضا شاہ پہلوی کی حکومت رہی‘ بھارت India کو وہاں دوستی کا ہاتھ میسر نہ آ سکا۔ بلکہ 1965ء کی جنگ میں ایران Iran نے کھل کر پاکستان Pakistan کا ساتھ دیا۔ لیکن 1979ء وہ سال ہے جس نے خطے کو الٹ پلٹ کر رکھ دیا۔ یکم فروری کو آیت اللہ خمینی کا جہاز تہران Tehran ایئر پورٹ پر اُترا اور 24دسمبر کو روس Russia نے افغانستان Afghanistan میں اپنی افواج داخل کر دیں۔ اس کے بعد بھارت India کو ان دونوں ممالک کے ساتھ بیک وقت تعلقات استوار کرنے اور اپنے مقاصد کی تکمیل کا موقع مل گیا۔ افغانستان Afghanistan چونکہ اس کے بعد ایک ایسا جنگ زدہ خطہ بن گیا جہاں مجاہدین کے مختلف گروہ روس Russia سے لڑ رہے تھے۔ اس لئے اس دوران بھارت India نے روس Russia کی کٹھ پتلی حکومت سے بھی تعلقات بنائے اور ایران Iran سے اپنے تعلقات استوار کر کے ان مجاہدین گروہوں کی بھی خیر خواہی حاصل کی جو ایران Iran کے زیر اثر تھے۔ یوں براستہ ایران Iran بھارت India کو افغانستان Afghanistan میں قدم جمانے کا موقع مل گیا۔ صرف طالبان حکومت کے پانچ سال ایسے تھے جب بھارت India صرف اور صرف ایران Iran سے دوستی تک محدود ہو گیا یا پھر طالبان سے لڑنے والے شمالی اتحاد کی براستہ ایران Iran و تاجکستان مدد کرتا رہا۔ ایران Iran سے بھارت India کی دوستی کے مقاصد لاتعداد ہیں۔ عالمی طاقتیں ہمیشہ سے یہ چاہتی ہیں کہ پاکستان Pakistan اپنے مغرب اور شمال میں واقع ایران‘ افغانستان‘ ترکی اور وسطی ایشیائی مسلمان ریاستوں کی بجائے جنوبی ایشیا یعنی بھارت India ‘ نیپال ‘ سری لنکا کے گروپ میں شامل رہے۔ اس لئے آج تک ان دس مسلمان ملکوں کی تنظیم ای سی او کو فعال نہیں ہونے دیا گیا اور اسی میں بھارت India کا مفاد شامل تھا۔ ایران Iran پر مدتوں سے معاشی پابندیاں عائد تھیں لیکن عالمی طاقتوں نے اسے بھارت India کے ساتھ معاشی‘ فوجی اور ٹیکنالوجی کے معاہدات کی پس پردہ اجازت دے رکھی تھی۔ بھارت India اور ایران Iran کا ایک جائنٹ منسٹریل کمیشن ہے جو ان معاملات کو مشترکہ طور پر دیکھتا ہے۔ اسی کی وجہ سے ایران Iran نے بھارت India کو اقوام متحدہ کی سکیورٹی کونسل میں مستقل ممبر(جسے ویٹو کا حق ہوتا ) کی حیثیت سے شمولیت کی حمایت کی۔ اسی کمیشن کی وجہ سے ایران Iran نے کشمیر کو اپریل 1993ء میں دونوں ملکوں کو اندرونی مسئلہ قرار دیا ۔ گیارہ ستمبر 2001ء کے بعد جب امریکی افواج عالمی برادری کے ساتھ افغانستان Afghanistan میں داخل ہوئیں تو بھارت India اور ایران Iran نے افغانستان Afghanistan کے کیک میں مشترکہ حصہ حاصل کرنے کے لئے جنوری 2003ء میں باہمی مفاد کے لاتعداد معاہدوں پر دستخط کردیئے۔ بھارت India نے ایران Iran کی روسی آبدوزوں اور مگ فائٹر جہازوں کو اپ گریڈ کرنا اور نئی ٹیکنالوجی سے آراستہ کرنا شروع کر دیا اور ساتھ ہی اس معاہدے پر دستخط بھی ہو گئے کہ بھارت India پاکستان Pakistan سے جنگ کی صورت میں ایرانی فوجی اڈے استعمال کر سکتا ہے۔ بھارت India نے بندرعباس‘بندرخمینی اور بندربو شہر کی بحریہ کی تنصیبات کو جدید بنایا اور آبدوزوں کی جنگ کی ٹریننگ دی۔ لیکن مئی2016ء میں پاکستان Pakistan سے افغانستان Afghanistan کو کاٹنے کے لئے سب سے بڑے منصوبے چاہ بہار chabahar بندرگاہ پر کام کے آغاز کا معاہدہ کیا گیا۔ پابندیوں کے باوجود بھارت India ہر سال ایران Iran سے اوسطاً 15ارب ڈالر billion dollor کا تیل خریدتا رہا اور تمام عالمی طاقتیں خاموش رہیں۔ بھارت India کا ایران Iran سے تیل خریدنے کا 29سالہ معاہدہ ایران Iran کے دریافت شدہ تیل کا 17فیصد حصہ خریدنے کا ہے۔ اس کے ساتھ ایران Iran پابندیوں کے باوجود بھارت India کو 50لاکھ ٹن مائع گیس سالانہ فراہم کرتا رہا ہے۔ افغانستان Afghanistan کو سمندری راستہ دینے کے لئے چاہ بہار chabahar سے زرنج اور دل آرام روڈ پر بھارت India نے سات کروڑ پچاس لاکھ ڈالر خرچ کئے اور ایران‘ بھارت India اور افغانستان Afghanistan کے درمیان اس بندرگاہ کو استعمال کرنے کا معاہدہ طے پایا۔ اس کے علاوہ ممبئی سے روس Russia کے شہر سینٹ پیٹر برگ تک تمام علاقے میں سڑکوں کا جال بچھانے اور سمندری راستوں کو ملانے کا معاہدہ 2002ء میں کیا گیا۔ ہر سال آٹھ ہزار ایرانی طلبہ بھارتی Indian یونیورسٹیوں میں تعلیم حاصل کرتے ہیں۔ بھارت India کے ایران Iran سے مقاصد میں توانائی کی ضروریات پوری کرنا‘ باب المندب سے لے کر ملائشیا کے ساحلوں تک بحر ہند اور خلیج کے علاقوں پر بھارتی Indian ایرانی بالادستی قائم کرنا‘ کشمیریوں کی آزادی کی جدوجہد پر خطے سے حمایت کا خاتمہ کرنا‘ پاکستان Pakistan کو کسی ایسے علاقائی اتحاد سے دور رکھنا جس میں اسلامی ملک شامل ہیں۔ جبکہ ایرانی مفاد میں سب سے پہلے نمبر پر اپنی تنہائی کا خاتمہ اور تیل و گیس کو بیچنا ہے اور وہ اس میں کامیاب ہو گیا ہے۔ ان دونوں کی دوستی اس بات پر مزید گہری ہے کہ کسی بھی حال میں افغانستان Afghanistan کو اپنی گرفت سے نہیں نکلنے دینا۔ یوں بھارت India کا براہ راست مقصد پاکستان Pakistan کے خلاف افغانستان Afghanistan میں ایک مضبوط مرکز قائم کرنا ہے جبکہ ایران Iran کا مقصد وہاں اپنی مرضی کی حکومت قائم کر کے بالواسطہ پاکستان Pakistan کے مفادات کو کمزور کرنا ہے۔ اس کے لئے بھارت India نے افغانستان Afghanistan میں بے شمار سرمایہ خرچ کیا۔ چاہ بہار chabahar سے ملانے کے لئے 218کلو میٹر روڈ افغانستان Afghanistan میں بھی بنائی‘ تقریباً86توانائی کے پراجیکٹ بنائے‘ افغانستان Afghanistan کے کابل ٹی وی کو ہر شہر تک پہنچانے کے لئے ڈائون لنک مہیا کئے۔ بچوں کی صحت کا عالمی سطح کا اندراگاندھی ہسپتال بنایا‘ کابل کی سفری سہولیات کے لئے 109بسیں دیں۔286فوجی ٹرک دیئے‘10ایمبولینسیں دیں۔ چالیس ہزار ہیکٹرز کے لئے آبپاشی کا منصوبہ بنایا‘ پل خمری سے کابل تک ٹرانسمیشن لائن‘ ہر شہر کے لئے سولر پینل کی فراہمی‘ فوجی ٹریننگ ‘ پولیس کی ٹریننگ‘ غرض ایک طویل لسٹ ہے۔ آخری دفعہ 2008ء میں جب میں چاہ بہار chabahar گیا تو وہاں کی بلوچ اکثریت یہ گلہ کر رہی تھی کہ ہمیں یہاں سے بے دخل کر کے ایرانیوں کو آباد کیا جا رہا ہے اور مجھے نظر آ رہا تھا کہ یہ بھارتی Indian ایماء پر ہو رہا ہے تاکہ پہلے اس علاقے میں کوئی مزاحمتی گروہ نہ رہے۔ لیکن آج ٹھیک دس سال بعد یہ تمام منصوبے خاک میں ملتے نظر آ رہے ہیں۔ افغان طالبان کی بھر پور کامرانی نے بھارت India تو دور کی بات ہے۔ امریکہ United States کی قائم کردہ افغان حکومت کی حیثیت بھی ختم کر دی ہے۔ ماسکو اور ابوظبی کے مذاکرات میں بھارت‘ ایران Iran اور افغان حکومت غائب ہیں۔ وہ آگ جو 2008ء میں بلوچ آبادی کی منتقلی سے سلگی تھی ایرانی بلوچستان Balochistan میں تیزی سے بھڑک اٹھی ہے۔ امریکی بحری بیڑہ وہاں تک سرک آیا ہے۔ امریکہ United States کو خطے میں اگر تھوڑی سی جگہ بھی درکار ہو یا تھوڑا سا کردار بھی چاہیے تو اسے پاکستان Pakistan اور طالبان کے سوا کوئی یہ مہیا نہیں کر سکتا۔ وہ مشترکہ ہاتھ جو نریندر مودی narendra modi ‘ حسن روحانی اور اشرف غنی نے معاہدے پر دستخط کرنے کے بعد ہوا میں بلند کئے تھے۔ اب ناکامی کے بحر ہندمیں ڈوبنے والے ہیں۔ کسی کو تاریخ لکھتے وقت یقین نہیں آئے گا کہ ایسا صرف اور صرف اللہ پر توکل رکھنے والے چالیس ہزار افغان طالبان کی تمام عالمی برادری سے تنہا جنگ کی وجہ سے ممکن ہوا۔ رہے نام اللہ کا۔(ختم شد)

 275