واشنگٹن سے سوال پوچھنے کو مچلتا دل

برملا - نصرت جاوید

14 دسمبر 2018

washington se sawal poochnay ko machalta dil

بات تو یہ چل رہی تھی کہ امریکی انتظامیہ کو بالآخر احساس ہوگیا ہے کہ ٹرمپ کے بدکلام ٹویٹس کے ذریعے پاکستان Pakistan کو دیوار سے نہیں لگایا جا سکتا۔ ایک برس تک برسر عام تڑیاں لگانے کے بعد امریکی صدر ٹرمپ نے چند ہفتے قبل وزیراعظم عمران خان Imran Khan کو خاموشی سے ایک خط لکھ دیا۔ اس خط کا متن ابھی تک منظرِ عام پر نہیں آیا ہے مگر شنید ہے کہ اس کے ذریعے اعتراف ہوا کہ افغانستان Afghanistan میں امریکی مشکلات کے ازالہ کے لئے پاکستان Pakistan کی مدد درکار ہے۔ شاید اس کی توقع باندھ کر ہی ٹرمپ کا افغانستان Afghanistan کے لئے لگایا خصوصی مشیر زلمے خلیل زاد پاکستان Pakistan آیا۔ یہاں اس نے تین روز گزارے۔اعلیٰ حکام سے طویل ملاقاتیں کیں۔ ان ملاقاتوں کی تفصیل بھی میسر نہیں۔ تاہم کچھ مثبت پیش قدمی کے نتیجہ ہی میں وہ یہاں سے افغانستان، وہاں سے ازبکستان اور بعد ازاں ماسکو سے ہوتا ہوا قطر اور یو اے ای پہنچے گا۔ سنا یہ بھی جا رہا ہے کہ زلمے خلیل زاد کی پاکستان Pakistan اور دیگر ممالک میں ہوئی ملاقاتوں کے نتیجہ میں طالبان اور امریکہ United States کے درمیان افغانستان Afghanistan میں امن کے قیام کو یقینی بنانے کے لئے آئندہ اپریل تک کوئی معاہدہ ہوجائے گا۔ افغان حکومت اس معاہدے کی روشنی میں اس مہینے میں ہونے والے صدارتی انتخابات کو مؤخر کردے گی۔ اس کے بعد شاید کسی ’’قومی یا نگران‘‘ حکومت کااعلان ہو۔ یہ حکومت قائم ہوگئی تو ’’لویہ جرگہ‘‘ ہوگا۔ اس جرگے میں طالبان افغانستان Afghanistan کے آئین میں تبدیل کی راہ بنائیں گے۔ یہ سب عمل خیر و عافیت سے مکمل ہوگیا تو طالبان افغانستان Afghanistan کے سیاسی عمل میں پرامن انداز میں حصہ لینا شروع ہوجائیں گے۔ جس اُمید بھرے عمل کی بات ہورہی ہے اس میں ٹھوس پیش رفت پاکستان Pakistan کی مدد کے بغیر ممکن نہیں واشنگٹن اور اسلام آباد Islamabad لہذا ٹرمپ کے پہلے دوسالوں میں شدت سے بڑھتی ہوئی باہمی مخاصمت کو بھول کر ایک دوسرے کے ساتھ باوقار انداز میں تعاون پر مجبور ہوں گے۔ پاکستان Pakistan اور امریکہ United States کے باہمی تعلقات میں بہتری کی اُمید دلاتے اس موسم میں لیکن منگل کے روز امریکی وزیر خارجہ نے پاکستان Pakistan کو دنیا کے ان ممالک کی فہرست میں ڈالنے کا اعلان کردیا جہاں بقول اس کے شہریوں کو مذہبی آزادیاں میسر نہیں۔پاکستان Pakistan کے سیاسی اور صحافتی حلقوں نے پاکستان Pakistan کو اس فہرست میں ڈالنے پر بامقصد بحث کا آغاز نہیں کیا۔ ہماری وزارت خارجہ سے ایک روایتی بیان جاری ہوا۔ چند وزراء نے بیانات دئیے۔ اپوزیشن اس ضمن میں خاموش رہی میں ذاتی طورپر امریکہ United States سے نیک چال چلن کا سرٹیفکیٹ لینے کا خواہش مند نہیں۔ ٹرمپ کے امریکہ United States کی جانب سے دوسرے ملکوں میں ’’مذہبی آزادی‘‘ اور رواداری کی بات بلکہ مضحکہ خیز دکھائی دیتی ہے۔ انسانی حقوق کے بارے میں جو ’’فکر‘‘ ان دنوں واشنگٹن میں موجود ہے اس کی حیثیت مجھے ایک سعودی صحافی جمال خشوگی کے استنبول میں ہوئے قتل کے بعد اچھی طرح سمجھ آچکی ہے۔ پاکستان Pakistan کی ریاست مگر امریکی وزیر خارجہ کی جانب سے ایک منفی فہرست میں ڈالنے والا معاملہ نظرانداز نہیں کر سکتی۔ پاکستان Pakistan کے امیج کو زک پہنچانے کے علاوہ اس فہرست میں موجودگی ہماری معاشی مشکلات میں اضافہ بھی کرسکتی ہے۔امریکہ United States اور یورپی ممالک اس کی بنیاد پر چند پابندیاں عائد کرسکتے ہیں۔بدھ کے دن اگرچہ وضاحت آگئی ہے کہ پاکستان Pakistan کو مذہبی آزادیوں کے حوالے سے منفی فہرست میں ڈالنے کے باوجود اس کے خلاف اس کی بنیاد پر معاشی پابندیوں کا راستہ اختیار نہیں کیا جائے گا۔ایک عام پاکستانی کی حیثیت میں بہت عاجزی سے میں یہ اعتراف کرنے پر مجبور ہوں کہ ہمارے معاشرے میں مذہبی رواداری قابل ستائش نہیں۔ اس کے باوجود ٹھوس حقیقت یہ بھی ہے کہ حال ہی میں پاکستان Pakistan کی اعلی ترین عدالت نے کئی برسوں سے قید ہوئی ایک اقلیتی خاتون کو توہین مذہب کا مرتکب قرار نہیں دیا۔سپریم کورٹ کی جانب سے آئے اس فیصلے کے خلاف مذہبی انتہا پسندوں کے ایک گروہ نے پورے ملک میں فساد برپا کرنے کی کوشش کی۔ ریاست پاکستان Pakistan کے اعلیٰ ترین عہدے داروں کے خلاف اشتعال انگیز بیانات دئیے۔ تحریک انصاف کی حکومت نے وقتی جان خلاصی کے لئے فساد کی آگ بھڑکانے والوں کے ساتھ ایک معاہدہ کیا۔ چند دن گزرنے کے بعد البتہ بہت مہارت اورمستعدی سے اشتعال پھیلانے والوں کو گرفتار کرلیا۔ اب ان کے خلاف سنگین الزامات کے تحت مقدمات چلانے کا وعدہ کیا جارہا ہے۔حال ہی میں رونما ہوئے ان واقعات کے تناظر میں پاکستان Pakistan کو امریکہ United States کی جانب سے ’’مذہبی رواداری‘‘ کی بنیاد پر منفی فہرست میں ڈالنا زخموں پر نمک چھڑکنے کے مترادف ہے۔ ہمیں دیوار سے لگانا ہے۔ٹرمپ کی جانب سے وزیر اعظم Prime Minister عمران خان Imran Khan کو بھیجے خط اور اس کے بعد زلمے خلیل زاد کی کاوشوں کی بدولت ابھرتے امکانات کو ذہن میں رکھتے ہوئے منگل کے روز ہوا اعلان مزید حیران کن تھا۔منگل کے روز ہوا یہ اعلان واضح طورپر یہ بھی دکھارہا ہے کہ دنیا کی واحد سپرطاقت کہلاتے امریکہ United States کے فیصلہ سازوں میں یکسوئی موجود نہیں۔ ٹرمپ کا وائٹ ہائوس پل میں تولہ پل میں ماشہ والے رویے کے ساتھ پاکستان Pakistan سے بالآخر تعاون کا طلب گار ہوتا ہے تو اسکے جرنیل رعونت سے یہ بیان دیتے ہیں کہ افغانستان Afghanistan سے امریکی افواج کا انخلافی الوقت ممکن نہیں۔ ایسا ہوا تو امریکہ United States میں ایک اور نائن الیون ہوجائے گا۔طالبان کا بنیادی مطالبہ ہی افغانستان Afghanistan سے امریکی افواج کا ا نخلاء ہے۔ اس ضمن میں کسی ٹائم ٹیبل کے اعلان کے بغیر وہ صلح کے لئے مذاکرات پر آمادہ نہیں ہوں گے۔ ان کی آمادگی کے بغیر پاکستان Pakistan افغانستان Afghanistan کے حوالے سے وہ کردار ادا نہیں کرسکتا جس کی توقع باندھی جارہی ہے۔جرنیلوں کے بیانات کے باعث پھیلے کنفیوژن کے بعد امریکی وزارتِ خارجہ بھی حرکت میں آگئی اور پاکستان Pakistan کو منفی فہرست پر ڈال دیا جاتا ہے۔لاہور کی گلیوں میں کسی معاملے کی پیچیدگی پر اُکتاکر لوگ حیرانی سے پوچھا کرتے تھے کہ ’’کدی ماں نوں ماسی کہیّے‘‘۔میرا ان دنوں واشنگٹن پر نگاہ ڈالتے ہوئے یہ ہی سوال پوچھنے کو دل مچل جاتا ہے

 69