کنکر جوتے کے اندر ہے

زیرو پوایٔنٹ - جاوید چوھدری

11 دسمبر 2018

kanker jootay ke andar hai

”یہ پلان بی ہے‘ حکومت اگر بے بس ہو گئی تو یہ نئے الیکشن کرا دے گی“ صاحب نے جیب سے سگار نکالا‘ ماچس رگڑی اور شعلہ سگار کے سرے پر رکھ دیا‘ کمرے میں کیوبن سگار کی ہلکی ہلکی خوشبو پھیلنے لگی‘ مجھے تمباکو کی بو پسند نہیں ‘ مجھے اپنا دم گھٹتا ہوا محسوس ہوتا ہے لیکن سگار میں نہ جانے کیا جادو ہے مجھے اس کی خوشبو مدہوش کر دیتی ہے‘ میں دھوئیں کے اندر بیٹھا رہتا ہوں اور سگار کی خوشبو کلاسیکل موسیقی کی طرح میرے اندر بجتی‘ میرے باطن کو گدگداتی رہتی ہے‘

صاحب بھی آہستہ آہستہ مدہوش ہو رہے تھے‘ وہ سگار پی رہے تھے اور اپنے ریشمی گاﺅن کی ڈوریاں کھول اور بند کر رہے تھے‘ آتش دان میں لکڑیاں

چٹخ رہی تھیں‘ کمرے میں مدہم مدہم سی گرمائش تھی اور کھڑکیوں کے پٹوں پر بارش آہستہ آہستہ برس رہی تھی‘ صاحب ذوق کا مجسمہ ہیں‘ وہ آتش دان میں تھوڑی دیر بعد صندل کی چھال ڈال دیتے تھے اور کمرہ فوراً مہکنے لگتا تھا‘ میں نے صاحب سے پوچھا ”کیا عمران خان Imran Khan واقعی ارلی الیکشن کرا دے گا“ صاحب نے مسکرا کر جواب دیا ”ہاں یہ اس کا پلان بی ہے‘ اپوزیشن نے اگر قانون سازی میں حکومت کی مدد نہ کی تو خان حکومتیں توڑ کر ارلی الیکشن کرا دے گا“ میں نے حیرت سے پوچھا ”کیا آپ سیریس ہیں‘ حکومت کو ابھی جمعہ جمعہ چار ماہ بھی پورے نہیں ہوئے اورآپ ارلی الیکشن کے بارے میں سوچ رہے ہیں‘ کیا یہ عقل مندی ہو گی؟“ صاحب نے قہقہہ لگایا اور بولے ” آج کے دور میں عقل مندی کی توقع سے بڑی کوئی بے وقوفی نہیں‘ مقابلہ اب حماقت اور بہت زیادہ حماقت کے درمیان ہے“ وہ رکے‘ سگار کا لمبا کش لیا اور ہونٹوں کے کونوں سے دھوئیں اگلنے لگے‘ میں نے پوچھا ”لیکن عمران خان Imran Khan یہ حماقت کیوں کریں گے“ صاحب نے خوفناک مکروہ قہقہہ لگایا اور پھر بولے ”یہ سمجھتے ہیں حکومت کو اپنا ایجنڈا پورا کرنے کےلئے دو تہائی اکثریت چاہیے چنانچہ یہ پہلے اپنے مخالفین کو جیلوں میں پہنچائیں گے‘ میاں نواز شریف Nawaz Sharif اپنے تمام اہم ساتھیوں خواجہ آصف‘ خواجہ سعد رفیق‘ احسن اقبال‘ شاہد خاقان عباسی اور پرویز رشید کے ساتھ جیل پہنچ جائیں گے‘

مولانا فضل الرحمن ‘ محمود خان اچکزئی اور بلاول بھٹو Bilawal Bhutto بھی پاکستان Pakistan پیپلز پارٹی کے اہم لیڈروںکے ساتھ جیل میں ہوں گے‘ یہ تمام لوگ جب سات سات ‘دس دس سال کےلئے قید ہو جائیں گے تو عمران خان Imran Khan کو کوئی خطرہ نہیں رہے گا‘ یہ اطمینان سے ارلی الیکشن کروائیں گے اور دو تہائی اکثریت حاصل کر لیں گے“ میں نے بے چینی کے ساتھ کروٹ بدلی اور پوچھا ”لیکن بلاول بھٹو Bilawal Bhutto کیوں جیل جائیں گے‘ یہ کبھی اقتدار میں نہیں رہے‘ یہ درست ہے جے آئی ٹی نے سندھ میں 358 ارب روپے کے جعلی اکاﺅنٹس پکڑ لئے ہیں‘ ان اکاﺅنٹس کا آصف علی زرداری کے دوستوں کے ساتھ تو کوئی نہ کوئی تعلق ہو سکتا ہے لیکن بلاول بھٹو Bilawal Bhutto کے ساتھ نہیں‘

یہ بھی ثابت ہو رہا ہے آصف علی زرداری کے دوستوں نے بینک بنایا‘ بینک کی گارنٹی کی رقم کراچی کے سرکاری ٹھیکیدار قسطوں میں جمع کراتے رہے‘ ٹھیکیداروں نے اپنا جرم بھی تسلیم کر لیا اور جے آئی ٹی کو یہ بھی بتا دیا‘ یہ کس کے حکم پر کس کے اکاﺅنٹ میں کتنی رقم جمع کراتے رہے‘ یہ بھی ثابت ہو رہا ہے جعلی اکاﺅنٹس کے ذریعے رقم کراچی سے دوبئی‘ دوبئی سے سوئٹزر لینڈ اور وہاں سے لندن جاتی رہی اور یہ رقم لندن میں ایک خاتون اور برطانیہ میں پاکستان Pakistan کے سابق ہائی کمشنر کے ایک صاحبزادے کے اکاﺅنٹ میں پارک ہوتی رہی اور یہ دونوں اس سے پراپرٹی خریدتے رہے لیکن اس میں بلاول بھٹو Bilawal Bhutto کا کوئی ہاتھ‘ کوئی عمل دخل نہیں تھا“۔

صاحب نے قہقہہ لگایا اور بولے ”بلاول بھٹو Bilawal Bhutto کی گرفتاری کی دو وجوہات ہیں‘ پہلی وجہ قانونی اور دوسری سیاسی ہے‘ ہم پہلے قانونی وجہ کی طرف آتے ہیں‘ آصف علی زرداری نے 2008ءمیں اقتدار میں آنے کے بعد اپنا کاروبار اور زیادہ تر کمپنیاں بچوں کے نام کر دی تھیں چنانچہ آصف علی زرداری قانوناً کسی اصلی یا جعلی اکاﺅنٹ اور کسی سودے کے بینی فشری نہیں ہیں‘ بینی فشری بلاول بھٹو Bilawal Bhutto ہیں‘ زرداری خاندان نے 2008ءسے 2014ءکے درمیان بلاول ہاﺅس کراچی کے دائیں بائیں اور آگے پیچھے موجود 48 گھر‘ پلازے اور زمینیں خرید یں‘ یہ پراپرٹیز بعدازاں بلاول ہاﺅس میں ضم کر دی گئیں‘

یہ خریداری جس کمپنی کے ذریعے ہوئی وہ بلاول بھٹو Bilawal Bhutto کے نام ہے‘ جے آئی ٹی کو چند کلیوز ملے ہیں جن سے اب یہ ثابت کرنا مشکل نہیں کہ رقم پہلے جعلی اکاﺅنٹس سے اس کمپنی میں آئی اور کمپنی نے یہ رقم بلاول ہاﺅس کے گرد موجود پراپرٹیز کی خریداری میں استعمال کی‘ یہ رقم 84 ارب روپے ہے چنانچہ بلاول بھٹو Bilawal Bhutto بڑی آسانی سے شکنجے میں آ جائیں گے‘ یہ قانونی وجہ تھی‘ میں اب تمہیں سیاسی وجہ بتاتا ہوں‘ عمران خان Imran Khan کو زرداری صاحب سے کوئی خطرہ نہیں‘ یہ بیمار بھی ہیں اور پارٹی ان کے امیج کی وجہ سے ان سے خوش بھی نہیں‘

حکومت کو اصل خطرہ بلاول بھٹو Bilawal Bhutto سے ہے‘ یہ باہر رہیں گے تو حکومت کےلئے حکومت مشکل ہو جائے گی‘ عمران خان Imran Khan بلاول کی موجودگی میں ارلی الیکشن کا رسک بھی نہیں لے سکتے چنانچہ بلاول کی گرفتاری حکومت کو سوٹ کرتی ہے‘ بلاول کے مقابلے میں اگر آصف علی زرداری گرفتار ہوتے ہیں تو حکومت انہیں اٹھا اٹھا کر ہسپتالوں میں بھی پھرتی رہے گی اور ان کی گرفتاری سے پاکستان Pakistan پیپلز پارٹی کو نئی آکسیجن بھی مل جائے گی ‘ پاکستان Pakistan تحریک انصاف کسی قیمت پر یہ نہیں چاہے گی

چنانچہ گرفتار بہرحال بلاول بھٹو Bilawal Bhutto ہی ہوں گے اور زرداری صاحب بیٹے کی رہائی اور جیل میں اس کےلئے رعایتوں کے بدلے حکومت سے ہر قسم کے تعاون کےلئے تیار ہو جائیں گے“ وہ خاموش ہو گئے‘ میں نے ان سے پوچھا ”اور میاں نواز شریف؟“ وہ اداس لہجے میں بولے ”میاں صاحب بے چارے اپنی زندگی کے مشکل ترین دور سے گزر رہے ہیں‘ مریم نواز Maryam Nawaz اور کیپٹن صفدر ابھی تک جیل کے شاک سے نہیں نکلے‘ یہ دونوں بری طرح بیمار ہو چکے ہیں‘ کیپٹن صفدر نے وزن کم کرنے کےلئے لندن سے اپنا معدہ آدھا کروایا تھا‘

یہ جیل میں مخصوص خوراک نہیں کھا سکے چنانچہ یہ بری طرح بیمار ہو گئے‘ جیل میں گرمی اور حبس تھالہٰذا مریم نواز Maryam Nawaz بھی بیمار ہو گئیں‘ میاں نواز شریف Nawaz Sharif کو اپنی اہلیہ دنیا کی ہر چیز‘ ہر عہدے سے زیادہ عزیز تھیں‘ یہ ان کے انتقال کے شاک سے باہر نہیں آ سکے اور یہ شاید کبھی نہ آ سکیں‘ یہ دن کا ایک حصہ والدہ کے ساتھ گزارتے ہیں‘ ایک حصہ اہلیہ کی قبر پر صرف کرتے ہیں اور ان کا باقی وقت وکلاءاور تلاوت قرآن مجید پر خرچ ہوتا ہے‘ ان کی یادداشت بھی بری طرح متاثر ہو رہی ہے‘ یہ نام‘ مقام اور واقعات بھولنا شروع ہو گئے ہیں‘

یہ کسی قسم کا سمجھوتہ کرنے کےلئے بھی تیار نہیں ہیں چنانچہ حکومت کے پاس اب ان کےلئے دو آپشن ہیں‘ یہ انہیں جیل میں ڈال دے یا پھر میاں شہباز شریف Shehbaz Sharif سے یہ گارنٹی لے لے میاں نواز شریف Nawaz Sharif سیاست سے کنارہ کشی اختیار کر لیں گے اور یہ باقی زندگی خاموش رہیں گے‘ حکومت اس گارنٹی کے بعد میاں نواز شریف Nawaz Sharif کو ان کے حال پر چھوڑ دے مگر میاں نواز شریف Nawaz Sharif یہ آپشن قبول نہیں کررہے لہٰذا یہ اب العزیزیہ اور فلیگ شپ کے مقدموں میں اندر ہو جائیں گے‘

پیچھے رہ گئے مولانا فضل الرحمن‘ محمود خان اچکزئی اور میاں نواز شریف Nawaz Sharif کے قریبی ساتھی تو یہ چپ چاپ ملک سے باہر چلے جائیں گے یا پھر یہ بھی اندر ہو جائیں گے‘ ان گرفتاریوں کے بعد دونوں پارٹیوں کے پاس دو آپشن ہوں گے‘ یہ حکومت سے تعاون کریں‘ پارلیمنٹ کو قاعدے کے مطابق چلنے دیں‘ حکومتی بلوں کی حمایت کریں یا پھر حکومت جب بھی بل پاس کرانے لگے تو یہ واک آﺅٹ کر کے پارلیمنٹ ہاﺅس کی کینٹین میں چلے جائیں اور بل پاس ہونے کے بعد واپس آ جائیں یا پھر ارلی الیکشن کےلئے تیار ہو جائیں“ وہ خاموش ہو گئے۔

میں نے کرسی پر کروٹ بدلی اور پھر ان سے پوچھا ” کیا عوام مہنگائی‘ بے روزگاری‘ غربت‘ لاءاینڈ آرڈر کی دگرگوں صورتحال اور مس گورننس کے باوجود عمران خان Imran Khan کو ٹو تھرڈ میجارٹی دے دیں گے“ صاحب نے سگار کا ایک اور کش لیا اور ناک سے دھواں نکال کر بولے ”ہاں بڑی آسانی کے ساتھ‘ آپ کے تمام مخالف پہلوان جب اکھاڑ سے باہر ہوں گے اور جب فیصلہ کن قوتیں آپ کے ساتھ ہوں گی تو ٹو تھرڈ کیا آپ کو تھری تھرڈ میجارٹی بھی مل سکتی ہے اور عمران خان Imran Khan آسانی سے یہ حاصل کر لیں گے“

وہ خاموش ہو گئے‘ ملازم نے صاحب کی کافی کا کپ میز پر رکھ دیا‘ صاحب نے کپ اٹھایا‘ ناک کے قریب لا کر کافی کی خوشبو سونگھی‘ سرشار لہجے میں واہ واہ کیا‘ کافی کا ایک گھونٹ بھرا اور میری طرف متوجہ ہو گئے‘ میں نے ان سے پوچھا ”کیا عمران خان Imran Khan ٹوتھرڈ میجارٹی لے کر پرانے پاکستان Pakistan کو نیا بنا دیں گے“ صاحب نے بلند قہقہہ لگایا اور گردن نفی میں ہلا کر بولے ”نہیں ہرگز نہیں‘ نیا تو دور پرانا پاکستان Pakistan بھی مزید پھٹ جائے گا‘ عمران خان Imran Khan اپنی ناکامی سے پوری دنیا کو پریشان کر دیں گے‘ یہ اپنے تمام معاونین کے چھکے چھڑا دیں گے اور یہ مایوس ہو کر باہر چلے جائیں گے“

میں نے حیرت سے پوچھا ”وہ کیوں؟“ صاحب نے کافی کا دوسرا گھونٹ بھرا اور بولے ”اگر پتھر آپ کے راستے میں ہوں تو آپ اچھے جوتے پہن کر سفر جاری رکھ سکتے ہیں لیکن کنکر آپ کے جوتے کے اندر ہو تو سڑک یا راستہ خواہ کتنا ہی ہموار کیوں نہ ہو آپ چل نہیں پاتے‘ آپ سفر نہیں کر سکتے اور عمران خان Imran Khan کے راستے میں پتھر نہیں ہیں ‘ ان کے کنکر ان کے جوتے کے اندر ہیں اور یہ جب تک یہ کنکر نہیں نکالیں گے‘ یہ اس وقت تک سفر نہیں کر سکیں گے‘ خواہ یہ کتنے ہی ارلی الیکشن کرا لیں اور عوام خواہ انہیں کتنے ہی ووٹ دے دیں“میں نے صاحب سے ہاتھ ملایا‘ سلام کیا اور باہر آ گیا‘ باہر سردیوں کی پہلی بارش شروع ہو چکی تھی۔

 416