Add new Article

زمیں میر و سلطاں سے بیزار ہے؟



85 برس ہوتے ہیں‘ جب اقبالؔ نے کہا تھا:

پرانی سیاست گری خوار ہے

زمیں میر و سلطاں سے بیزار ہے

زمیں میر و سلطاں سے کب بیزار ہو گی؟ جب تک نہیں ہو گی‘ نجات نہیں پائے گی۔

''جنگ ایک ہنڈولا ہے‘‘۔ جناب علی کرم اللہ وجہ نے عمر فاروقِ اعظمؓ کو ایک مشورے کے ہنگام کہا تھا ''جو کبھی اوپر جاتا ہے اور کبھی نیچے‘‘ مال روڈ والے اپوزیشن کے ناکام احتجاجی مظاہر ے کے بعد نواز شریف کی چڑھائی شروع ہوئی اور تین ہفتے تک عمران خان اور طاہر القادری کا تمسخر اڑایا گیا۔ طاہر القادری بلند ہمت نہ نکلے۔ کبھی تھے ہی نہیں۔ مستقل مزاج ہوتے تو کینیڈا میں پناہ نہ لیتے۔ عمران خاں صبر کیے بیٹھے رہے۔ ان کا سیاسی تجربہ طاہر القادری سے کم ہے مگر وہ ایک جنگجو ہیں۔

جب یہ سطور لکھی جا رہی ہیں تو لودھراں کے الیکشن کا نتیجہ نہیں آیا۔ اس بات کا بہت امکان ہے کہ اپنے باپ اور اپنے دادا سے کہیں زیادہ خوش طبع علی ترین جیت جائیں۔ تھوڑا سا امکان یہ بھی ہے کہ زیادہ مارجن سے جیت جائیں۔ ممکن ہے‘ ہار جائیں۔ اس لیے کہ جنگ ایک ہنڈولا ہے، جو کبھی اوپر جاتا ہے اور کبھی نیچے۔ ہاں‘ مگر جو لوگ تحریکِ انصاف کو دفن کر چکے، وہ مغالطے کا شکار ہیں۔ جنگ ہو گی اور گھمسان کی جنگ۔ نون لیگ اگر سرفراز ہوئی تو آسانی سے نہیں ہوگی۔ عمران خاں اگر ہارے تو آسانی سے نہیں ہاریں گے۔

کراچی میں انقلاب اور بھی شدت سے برپا ہے۔ جس پہلو کا تجزیہ کار اندازہ نہ کر سکے، وہ یہ ہے کہ الطاف حسین زندہ سلامت ہیں اور ان کی حمایت بھی۔ جو لوگ فاروق ستار، مصطفی کمال اتحاد کے لیے کوشاں تھے، جو لوگ الطاف حسین کی تدفین و تجہیز کر چکے تھے، وہ غلطی پر نکلے۔ قدرے تاخیر سے اب یہ انکشاف ہوا ہے کہ یہ عامر خان اور ان کے ساتھی نہیں بلکہ مجروح الطاف حسین تھے، جنہوں نے بساط الٹ ڈالی۔ فی الحال یہ کہنا مشکل ہے کہ ایم کیو ایم کا اونٹ آخر کار کس کروٹ بیٹھے گا۔ فی الحال یہ کہنا مشکل ہے کہ آخری قہقہہ کون برسائے گا۔ آخری فیصلہ بہرحال ووٹروں کو کرنا ہے۔ واضح ہوا کہ فاروق ستار کوئی بڑے لیڈر نہیں۔ اس پائے کے رہنما وہ بہرحال نہیں کہ ایک پیچیدہ صورتِ حال میں مشکل فیصلے کر سکیں۔ آخری تجزیے میں سیاسی کامیابیوں کا انحصار عوامی حمایت ہی پر ہوتا ہے لیکن حکمت، حوصلہ مندی اور پہل کاری سے بروئے کار آتی ہے۔ لچک فاروق ستار میں بہت ہے۔ یہی ان کی بقا کا راز ہے لیکن پہل کاری ان میں نہیں۔ کامیاب ہوں یا ناکام، اس کا فیصلہ تو وقت کرے گا۔ پہل کاری مصطفی کمال میں ہے۔ مارچ 2016ء میں جان ہتھیلی پہ رکھ کر وہ میدان میں نکلے۔ پارٹی بنانے کے لیے نہیں بلکہ اس لیے کہ ماضی کے ہولناک جرائم سے لاتعلقی کا اعلان کریں۔ اپنی سی تلافی کرنے کی کوشش کریں۔ پاکستان آنے سے پہلے، کئی ماہ پہلے سے مصطفی کمال اس ناچیز کے ساتھ رابطے میں تھے۔ 2015ء کے موسمِ سرما میں جب مجھ سے انہوں نے رابطہ کیا تو یہ کہا: میں ان لوگوں میں سے ایک ہوں، جو آپ سے نفرت کرتے تھے۔ جو آپ کو دروغ گو سمجھتے تھے۔ سمندر پار قیام کے دوران جب آپ کا کالم پڑھنا شروع کیا تو رفتہ رفتہ میری رائے بدل گئی۔ جس طرح کہ اپنی پارٹی کے بارے میں۔ ظاہر ہے کہ میرے لیے یہ بہت خوش آئند بات تھی۔ اس لیے نہیں کہ وہ مجھے داد دے رہے تھے۔ داد، بے داد کے چکر میں جو لکھنے والا پڑ جائے، وہ کبھی ثمر بار نہیں ہوتا۔ مسرت اس خیال سے ہوئی کہ کراچی کا جہنم زار بجھانے میں، ایک بہت معمولی سی خدمت بھی اگر انجام دی جا سکتی ہے۔ سیدنا ابراہیمؑ کے لیے جلایا جانے والا نمرود کا الائو فاختہ کی چونچ سے گرنے والے قطرے سے نہیں بجھا تھا بلکہ الوہی مداخلت سے۔ جیسا کہ اللہ کی آخری کتاب کہتی ہے: عرشِ بریں سے اس آگ کو حکم دیا گیا: کونی بردا و سلاما۔ ٹھنڈی اور مہربان ہو جا۔ پیروی تو مگر فاختہ ہی کی کرنی چاہیے۔

کراچی آگ میں جل رہا ہے۔ پچھلے سال شائع ہونے والی اقوامِ متحدہ کی ایک رپورٹ کے مطابق یہ دنیا کے ان پانچ شہروں میں سے ایک ہے، جہاں کچی آبادیوں کا تناسب غیر معمولی ہے۔ نصف یا اس سے کچھ کم۔ کراچی میں یہ پچاس فیصد سے کچھ زیادہ ہے۔ سندھ پولیس کے ایڈیشنل آئی جی، صاحبِ مہر و محبت، مشتاق سکھیرا کے مطابق 60 سے 65 فیصد۔ تعداد ان آبادیوں کی چھ سو سے زیادہ ہے۔ 80 لاکھ انسان ان میں بستے ہیں۔ وسائل سے محروم کراچی کی کمزور اور کرپٹ پولیس، اس میں چھپے جرائم پیشہ گروہوں کو چھان نہیں سکتی۔ شہر کو ایک ارب لٹر پانی درکار ہے۔ ملتا 650 ملین ہے۔ بیشتر علاقوں میں پانی چند گھنٹوں کے لیے آتا ہے۔ وزیراعلیٰ مراد علی شاہ کے مطابق 1200 کلو میٹر لمبی پائپ لائن میں سے زیادہ تر 70 سے 100 سال پرانی ہے۔ اسے بدلنے کے لیے 200 ارب روپے درکار ہیں۔ جس طرح لاہور کی پائپ لائن بدلنے کے لیے 100 ارب روپے۔ اس معاملے میں مراد علی شاہ اور ان کے آقا آصف علی زرداری کا نقطۂ نظر وہی ہے جو خادم پنجاب اور ان کے لیڈر کا۔ سالِ گزشتہ ایک اجلاس میں میاں محمد شہباز شریف نے کہا تھا ''میں 100 ارب روپے مٹی کے نیچے نہیں دبا سکتا۔‘‘ اس فقرے کا سلیس ترجمہ یہ ہے کہ مرنے والے بے شک یرقان سے مرتے رہیں۔ میں سرکاری خزانہ اورنج ٹرین پر لٹانا پسند کروں گا۔ اس چیز پر نہیں، جس سے انسانی زندگیاں بچائی جا سکیں بلکہ اس شے پر، جو ووٹروں کو دکھائی دیتی ہو۔

کراچی میں سیوریج کا حال لاہور سے بدتر ہے۔ لیاری اور ملیر میں تین treatment plants ہیں لیکن اکثر وہ بند رہتے ہیں۔ صرف 16 فیصد پانی صاف کیا جاتا ہے۔ دراصل وہ بھی ناصاف ہوتا ہے۔ اس لیے نواحِ کراچی کے پانی کی مچھلی زہریلی ہے۔ 1974ء میں ٹرام سروس بند کر دی گئی تھی ۔ 1989ء میں سرکلر ریلوے بھی۔ اس کے لیے بھی 200 ارب روپے درکار ہیں۔ نواز شریف وعدہ کرتے رہے مگر دیے نہیں۔ کراچی کے نیک خصلت اور نجیب مئیر نعمت اللہ خاں نے BOT کی بنیاد پر ایک ارب ڈالر کا منصوبہ بنایا تھا مگر شوکت عزیز نے مسترد کر دیا۔ کراچی کے ہر چالیس شہریوں کے لیے بسوں میں ایک سیٹ نکلتی ہے؛ حالانکہ ممبئی جیسے لغو شہر میں یہ تناسب ایک اور 12 ہے، جہاں دس لاکھ آدمی فٹ پاتھوں پر جیتے اور ان میں سے کم از کم تیس‘ روز بھوکے مر جاتے ہیں۔ گرین لائن منصوبے میں سندھ حکومت نواز شریف اور نواز شریف سندھ حکومت کو موردِ الزام ٹھہراتے ہیں ۔ وفاقی حکومت فرماتی ہے کہ سندھ حکومت بسوں کی خریداری نہیں کرتی۔ پیپلز پارٹی جواب دیتی ہے: آپ نے سڑکیں، پل اور بس سٹاپ بنانے کا کام ہی شروع نہیں کیا، بسیں خرید کر کیا کریں گے۔

ملک کی ایک تہائی صنعت کراچی میں ہے۔ قومی دولت کا وہ پندرہ فیصد پیدا کرتا ہے۔ محصولات کا پچیس اور انکم ٹیکس کا 62 فیصد وہاں سے وصول ہوتا ہے... مگر کراچی کا کمائو پوت کوڑے کے ڈھیر پہ آزردہ سوتا ہے۔ سیاسی طور پر الطاف حسین، نواز شریف اور آصف علی زرداری زخمی تو ضرور ہوئے ہیں لیکن ابھی زندہ ہیں اور ستم ڈھانے پر تلے ہوئے۔ 85 برس ہوتے ہیں، جب اقبالؔ نے کہا تھا:

پرانی سیاست گری خوار ہے

زمیں میر و سلطاں سے بیزار ہے

زمیں میر و سلطاں سے کب بیزار ہو گی؟ جب تک نہیں ہو گی‘ نجات نہیں پائے گی۔