شاخِ گل ہی اونچی ہے نہ دیوارِ چمن بلبل



پاکستان ایک دوسرا ترکی بن سکتا ہے‘ مگر اس کے لیے غلامانہ ذہنیت سے اوپراٹھنا ضروری ہے۔ وسائل تو ہمارے ان سے زیادہ ہیں۔

شاخِ گل ہی اونچی ہے نہ دیوارِ چمن بلبل

تری ہمّت کی کوتاہی‘ تری قسمت کی پستی ہے

وقت آگیا ہے کہ پاکستان امریکی امداد قبول کرنے سے انکار کر دے۔ صاف صاف الفاظ میں واشنگٹن کو بتا دیا جائے کہ آئندہ ایک ڈالر کی عنایت بھی نہیں چاہیے۔ اس کا مطلب یہ نہیں کہ ایک نئی آویزش کی بنیاد رکھ دی جائے‘ جو ملک کو نئی مشکلات میں مبتلا کر دے۔ یہ مہم جوئی ہوگی اور احمق ہی اس کا ارتکاب کیا کرتے ہیں۔ اس کا یہ مطلب یہ بھی نہیں کہ نئے آقا تلاش کیے جائیں۔

ڈیگال کے اس قول کو یاد رکھنا چاہیے کہ امریکہ دنیا کے ہر ملک کا پڑوسی ہے۔ پھر ہنری کیسنجر کا وہ جملہ جو ہمیں شاعر کی یاد دلاتا ہے۔

فقیہہِ مصلحت بیں سے وہ رندِ بادہ خوار اچھا

نکل جاتی ہو سچی بات‘ جس کے منہ سے مستی میں

ہنری کیسنجر بادہ خوار نہیں مگر ایسا ہوتا ہے کہ کبھی ایسے آدمی کے منہ سے بھی سچائی پھوٹ پڑتی ہے‘ جو صحو کی بہترین کیفیت طاری کیے رکھتا ہو۔ کیسنجر نے کہا تھا: امریکہ بہادر کی دوستی‘ اس کی دشمنی سے بدتر ہے۔ کسی اور ملک کے باب میں یہ بات درست ہو یا نہ ہو‘ پاکستان کے بارے میں سوفیصد صحیح ہے۔ آج وہ افغانستان میں براجمان ہے کہ چین کے گرد گھیرا ڈالے رکھے‘ روس کے زیراثر وسطی ایشیا کے ممالک پہ اثرانداز ہو اور اپنے تزویراتی حلیف بھارت کو علاقے کا تھانیدار بنا دے۔

امداد کی قبولیت سے انکار کے معانی قطعاً یہ نہیں کہ معمول کے تعلقات نہ رکھے جائیں۔ سب سے زیادہ ہماری برآمدات پارچہ بافی کے میدان میں ہیں۔امریکی ہمارے سب سے بڑے خریدار ہیں۔ ہمارے بچے وہاں تعلیم پاتے ہیں۔ ریاست ہائے متحدہ میں‘ پاک امریکی ڈاکٹروں کی تنظیم‘ سمندر پار پاکستانیوں کی سب سے زیادہ لائق اور مالدار برادری ہے۔ عالمی سیاست اور عالمی مالیاتی اداروں میں امریکی رسوخ اب بھی سب سے زیادہ ہے۔ ایسی طاقت کے ساتھ تعلقات بگاڑنے کے متحمل ہم کیسے ہو سکتے ہیں... اور اس کی ضرورت کیا ہے؟

دو ملکوں کے تعلقات دو افراد کی طرح نہیں ہوتے۔ امریکی امداد سے انکار کے بعد‘ واشنگٹن سے مراسم خراب نہیں ہوں گے۔ ہوش مندی سے کام لیا گیا تومزید بہتر ہو جائیں گے۔ بالکل واضح انداز میں امریکی انتظامیہ اور پینٹاگان کو ہمیں پیغام دینا چاہیے کہ عالمی امن اور خطے کی سلامتی میں‘ پوری طرح‘ پاکستان کا تعاون انہیں حاصل رہے گا۔

امریکی مطالبہ درست ہے کہ پاکستان کی سرزمین‘ افغانستان میں جنگ جوئی کے لیے استعمال نہ ہونی چاہیے۔ اس سے قطع نظر کہ دہشت گردی نہیں‘ یہ جنگ آزادی ہے۔ مگر بنیادی طور پر یہ افغان عوام کی ذمہ داری ہے۔پاکستانی قوم کی ہمدردیاں افغان عوام کے ساتھ ہیں۔ ہماری سرزمین مگر استعمال نہ ہونی چاہئے۔ افغان اشرافیہ نے امریکی قبضے کو اگر قبول کرلیا ہے تو قوم خود ان سے نمٹ لے گی۔ ان کی سرزمین ان کی اپنی ہے اور اپنے نظریات کے وہ خود ذمہ دار۔

ہماری مشکل‘ 2400 کلومیٹر پہ پھیلی ہماری سرحد ہے۔ اللہ کا شکر ہے کہ عسکری قیادت نے بالآخر‘ اس مسئلے کا حل تلاش کرلیا ہے۔ برسوں کی ذہنی اذیت اور مناقشے کے بعد‘ بالآخر اس سرحد کو بند کرنے کا فیصلہ کرلیا گیا ہے...اور ممکن حد تک تیزرفتاری کے ساتھ‘ اس پر عمل درآمد کیا جا رہا ہے۔ خاردار تار لگائی جا رہی ہے اور نگرانی کا نظام مرتب کر لیا گیا ہے۔

اوسطاً ہر پانچ سو گز کے فاصلے پر فوجی چوکی تعمیر کی جائے گی۔ بلند پہاڑی چوٹیوں اور ان مقامات پر چوکیوں کی ضرورت نہ ہوگی‘ گہری خندق جہاں کھودی گئی ہے‘ خاص طور پر بلوچستان میں۔

پاکستان پہلے ہی کئی سو چوکیاں بنا چکا۔ بالکل برعکس ‘ سرحد کے دوسری طرف امریکیوں نے صرف پچاس چوکیاں بنائی ہیں۔ امریکہ کے زیر سایہ افغان حکومت نے بھارتی خفیہ ایجنسی ''را‘‘ کو بلوچستان اور قبائلی پٹی میں دہشت گردی کی اجازت دے رکھی ہے۔ افغان خفیہ ایجنسی خاد بھی خوش دلی سے دہلی کے ساتھ تعاون کرتی ہے۔ مولوی فضل اللہ سمیت‘ پاکستان سے راہ فرار اختیار کرنے والے تخریب کاروں کو اس نے پناہ دے رکھی ہے۔ یہ مگر آج ہی کا قصّہ نہیں‘ ایک حد تک طالبان کا حال بھی یہی تھا۔

انیس برس ہوتے ہیں۔ مکّہ مکّرمہ میں حرم پاک کے دروازے پر حافظ حسین احمد سے اتفاقاً ملاقات ہوئی۔ ایسی بشاشت کے ساتھ‘ گویا سونے کی کوئی کان دریافت کرلی ہو‘ حافظ صاحب نے بتایا: حرم پاک میں وہ طالبان کے ایک وزیر سے مل کر آئے ہیں۔ معلوم نہیں عمرے پہ زیادہ خوش تھے یا ''دور اوّل کے سے کسی مسلمان‘‘ سے مل کر۔ عرض کیا: حافظ صاحب! طالبان سے کہیے کہ سپاہ صحابہ کے دہشت گردوں کو پناہ مہیا نہ کریں۔ بولے: وہ کہتے ہیں کہ ہماری اجازت کے بغیر ہی وہ یہاں آ کر چھپ جاتے ہیں... اجازت کے بغیر ہی؟

ہزاروں برس سے پاک افغان سرحد کھلی ہے‘ جو کبھی بھارت افغان سرحد تھی۔ بدلا ہوا وقت نئے تقاضے لے کر آتا ہے۔ اب یہ سرحد ہمیشہ ہمیشہ کے لیے بند ہو جانی چاہیے۔ سول حکومت کا تعاون جاری رہا تو ڈیڑھ سال میں یہ ادق کام مکمل ہو جائے گا۔ ابھی ابھی ایک فوجی افسر نے بتایا ہے کہ چوکیوں کے علاوہ‘ اوسطاً جن میں 12‘ 13 سپاہی تعینات ہوں گے‘ ایسے قلعے بھی ہوں گے‘ جن میں تعداد اور سہولیات زیادہ ہوں گی۔ ظاہر ہے کہ اسلحہ بھی۔ سرحد پہ نگاہ رکھنے کے لیے فرنٹیئر کور کے 13 نئے ونگ بنائے جا رہے ہیں‘ تقریباً آٹھ ہزار سے زیادہ نفری۔ ہنگامی حالات میں پاک فوج کے دستے ان کی مدد کو پہنچ سکتے ہیں۔

جنرل محمد ضیاء الحق کے بارے میں ناچیز کی رائے اکثر سیاستدانوں اور دانشوروں سے مختلف ہے۔ وقت نے ان کا یہ نظریہ بہرحال غلط ثابت کردیا کہ افغانستان‘ ہمارے لیے تزویراتی گہرائی فراہم کر سکتا ہے۔ سبق تاریخ سے سیکھا جاتا ہے‘ جو نہیں سیکھتے‘ ان کے لیے تاریخ اسے دہراتی رہتی ہے‘ اذیت رسانی کے ساتھ!

صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے پاکستان پہ تنقید نہیں کی‘ گالی دی ہے۔ گالی سے نہیں‘ ہمیں صبر‘ حکمت اور تدبیر سے اس کا جواب دینا چاہیے۔ گالی کے جواب میں گالی نری جہالت ہے‘ اشتعال بھی تباہی کا باعث ہوتا ہے۔ امریکی انتظامیہ کے طرزِ عمل کا ٹھیک تجزیہ اگر ہم کر سکیں تو عہدِ آئندہ کا مؤرخ‘ ڈونلڈ ٹرمپ کو‘ پاکستانی قوم کا محسن قرار د ے گا۔

ملک میں امریکی رسوخ نے ان گنت مسائل پیدا کیے ہیں۔ چوہدری نثار علی خان نے مغرب کے ایما پہ سرگرم بعض بین الاقوامی این جی اوز پہ پابندی لگا دی تھی۔ داخلہ کے نئے وفاقی وزیر نے ایک بار پھر انہیں اجازت مرحمت فرما دی ہے۔ ویزے کی سہولیات بھی نرم کردی گئی ہیں۔

یہی نہیں‘ کم از کم دو میڈیا گروپ ایسے ہیں‘ سی آئی اے جن کی مددگار ہے۔ ڈٹ کر وہ عدالتوں کا مذاق اڑاتے ہیں اور افواجِ پاکستان کا بھی۔ افواج پہ تنقید ہو سکتی ہے اور عدالتی فیصلوں پر بھی۔ یہ مگر پاکستانی عوام کے نقطۂ نظر سے ہونی چاہیے‘ امریکہ‘ اسرائیل اور بھارت کے طرزِ فکر سے نہیں۔ ملک کو جمہوری سیاسی جماعتوں کی ضرورت ہے‘ لشکروں کی نہیں‘ جو کسی بادشاہ کی فوج بن جاتے ہیں۔ ملک کو صدارتی نظام درکار ہے۔ مضبوط عدالتوں‘ قانون کے دائرے میں آزاد نوکرشاہی اور پولیس کی۔ فی الجملہ نفاذِ قانون کی۔امریکی امداد سے نجات پائے بغیر‘ ان مقاصد کا حصول ناممکن ہے۔ استحکام ناممکن ہے... اور استحکام کے بغیر خوش حالی کا کوئی امکان ہوتا ہے اور نہ آزاد خارجہ پالیسی کا۔

پاکستان ایک دوسرا ترکی بن سکتا ہے‘ مگر اس کے لیے غلامانہ ذہنیت سے اوپراٹھنا ضروری ہے۔ وسائل تو ہمارے ان سے زیادہ ہیں۔

شاخِ گل ہی اونچی ہے نہ دیوارِ چمن بلبل

تری ہمّت کی کوتاہی‘ تری قسمت کی پستی ہے