آوے کا آوا!

بارہویں نہیں‘ فاروق ستار کراچی کی سیاست کے سب سے زیادہ ہنرمند کھلاڑیوں میں سے ایک ہیں۔ پیر کی شب رابطہ کمیٹی نے کامران ٹسوری کو سینیٹر نامزد کرنے کے خلاف بغاوت کی تو انہوں نے کارکنوں کو طلب کیا۔ اپنے لیڈر کے ساتھ ان کارکنوں نے وہی سلوک کیا‘ جس کی توقع تھی۔ کچھ تائید‘ کچھ تنقید اور اس سے زیادہ بے نیازی۔ مزاجاً فاروق ستار کارکن ہیں‘ لیڈر نہیں۔ ہنر ان کا یہ ہے کہ سب کو شاد رکھتے ہیں‘ الجھتے کسی سے نہیں۔ الطاف حسین نے ایک بار ایسا الزام علانیہ ان پر عاید کیا تھا کہ لکھ دوں تو یہ کالم چھپ ہی نہ سکے۔ پیر کے خطاب میں مگر پیہم الطاف حسین کو وہ یہ پیغام دیتے رہے کہ اس کی امانت انہوں نے سنبھال رکھی ہے۔

آوے کا آوا ہی بگڑ گیا۔ ایک بڑے آپریشن کے بغیر کام نہ چلے گا۔ سرکارؐ کے فرامین میں سے ایک یہ ہے: دنیا سے کوئی اٹھے گا نہیں‘ جب تک اس کا باطن بے نقاب نہ ہو جائے... گروہ کے گروہ بے نقاب ہیں۔ کیا یہ کسی عظیم تبدیلی کا آغاز ہے؟

ہنگامہ صرف کراچی میں نہیں ہوا۔ بلوچستان میں ایک پوری پارلیمانی پارٹی بکھر گئی۔ عمران خان کا کہنا ہے کہ نون لیگ اور پیپلز پارٹی سینیٹ کے لیے اس کے ایم پی اے خریدنے کی کوشش کر رہی ہیں۔ پیر حمید الدین سیالوی کے بھتیجے نے اعلان کیا کہ خفیہ طاقتوں نے انہیں داتا دربار کے باہر دھرنے پر اکسایا تھا۔

کامران ٹسوری سے میری ملاقات پیر صاحب پگاڑا شریف کے دربار میں ہوئی تھی۔ خوش حال‘ ذہین اور متحرک آدمی ہیں۔ فروری 2017ء میں وہ ایم کیو ایم سے وابستہ ہوئے۔ جلد ہی ڈپٹی کنوینر کے عہدے پر فائز ہو گئے۔ چند ماہ بعد مستعفی ہو گئے کہ سینئر لوگ انہیں پسند نہیں کرتے۔ ان کے گھر جا کر فاروق ستار نے انہیں منا لیا۔ رضا ہارون کہتے ہیں کہ فاروق ستار ایم کیو ایم کے بارہویں کھلاڑی ہیں۔

ہمارے عہد کے باکمال شاعر افتخار عارف کی نظم کا عنوان یہی ہے‘ بارہواں کھلاڑی:

انتظار کرتا ہے.../ایک ایسی ساعت کا/ ایک ایسے لمحے کا/ جس میں سانحہ ہو جائے/ پھر وہ کھیلنے نکلے/ تالیوں کے جُھرمٹ میں/ ایک جملۂ خوش کُن/ ایک نعرۂ تحسین/ اس کے نام پر ہو جائے سب کھلاڑیوں کے ساتھ/ وہ بھی معتبر ہو جائے/ پر یہ کم ہی ہوتا ہے/ پر یہ لوگ کہتے ہیں/ کھلاڑی سے کھیل کا/ عمر بھر کا رشتہ ہے/ خوشگوار موسم میں/ اَن گنت تماشائی/ اپنی اپنی ٹیموں کو/ داد دینے آتے ہیں/ اپنے اپنے پیاروں کا/ حوصلہ بڑھاتے ہیں/ میں الگ تھلگ سب سے/ بارہویں کھلاڑی کو/ نوٹ کرتا رہتا ہوں/ بارہواں کھلاڑی بھی/ کیا عجب کھلاڑی ہے!/ کھیل ہوتا رہتا ہے/ شور مچتا رہتا ہے/ داد پڑتی رہتی ہے/ اور وہ الگ سب سے/ عمر بھر کا یہ رشتہ/ چُھوٹ بھی تو سکتا ہے/ آخری وِسل کے ساتھ/ ڈوب جانے والا دل/ ٹوٹ بھی تو سکتا ہے

بارہویں نہیں‘ فاروق ستار کراچی کی سیاست کے سب سے زیادہ ہنرمند کھلاڑیوں میں سے ایک ہیں۔ پیر کی شب رابطہ کمیٹی نے کامران ٹسوری کو سینیٹر نامزد کرنے کے خلاف بغاوت کی تو انہوں نے کارکنوں کو طلب کیا۔ اپنے لیڈر کے ساتھ ان کارکنوں نے وہی سلوک کیا‘ جس کی توقع تھی۔ کچھ تائید‘ کچھ تنقید اور اس سے زیادہ بے نیازی۔ مزاجاً فاروق ستار کارکن ہیں‘ لیڈر نہیں۔ ہنر ان کا یہ ہے کہ سب کو شاد رکھتے ہیں‘ الجھتے کسی سے نہیں۔ الطاف حسین نے ایک بار ایسا الزام علانیہ ان پر عاید کیا تھا کہ لکھ دوں تو یہ کالم چھپ ہی نہ سکے۔ پیر کے خطاب میں مگر پیہم الطاف حسین کو وہ یہ پیغام دیتے رہے کہ اس کی امانت انہوں نے سنبھال رکھی ہے۔

اپنے حامیوں کو عامر خان کے خلاف نعرہ بازی سے انہوں نے روک دیا۔ ان دو اعتراضات کا جواب بھی دیا‘ جو ان پہ وارد ہو سکتے۔ ایک تو یہ کہا کہ بے اختیار لیڈر بننے کی بجائے‘ مستعفی ہونا وہ پسند کریں گے۔ دوسرے یہ کہ ''میں میمن بچہ ہوں‘‘۔ یاد دلایا کہ کراچی کے نہیں‘ وہ ہجرت کرکے آنے والے میمن ہیں۔ پھر یہ جتلایا کہ 35 سال تک پارٹی سے انہوں نے وفا کی ہے۔ ایک دن کے لیے پارٹی چھوڑی اور نہ شہر سے غائب ہوئے۔ یہ بھی جتلایا کہ 22 اگست 2016ء کے بعد‘ جب رینجرز کے صدر دفتر میں ایم کیو ایم پاکستان نے جنم لیا‘ نہ صرف پارٹی کی انہوں نے حفاظت کی بلکہ اس کے دفاتر کھلوائے‘ جس کا امکان کم تھا۔ ضمنی الیکشن لڑے اور جیتے۔ 3 نومبر 2017ء کو پارٹی کے دو بڑے دھڑوں کے انضمام کی راہ روک دی‘ اشارہ اس طرف تھا کہ ورنہ مصطفی کمال غالب آ جاتے۔ (اسٹیبلشمنٹ کو ناراض کرکے) یادگارِ شہدا پہ حاضری دی۔ اب بھی ان کی قیادت پر اعتماد کیا جائے۔ اگر چہ؛ ایک سینیٹر منتخب کرانے کے لیے 21 ارکانِ اسمبلی کی ضرورت ہے‘ وہ چار عدد بنا دیں گے۔

کس طرح؟ یہی نکتہ رضا ہارون کو سمجھنے کی ضرورت ہے۔ فاروق ستار کا ہنر یہ ہے کہ بیک وقت الطاف حسین‘ پارٹی کے کارکنوں‘ آصف علی زرداری‘ میاں نوازشریف‘ عسکری قیادت اور کراچی میں امریکی قونصل جنرل کو مطمئن رکھنے کی کوشش کرتے ہیں۔ اکثر کامیاب بھی رہتے ہیں۔ رضا ہارون یہ فرمائیں کہ بارہواں کھلاڑی وہ انہیں کیونکر قرار دیتے ہیں۔

جناب آصف علی زرداری‘ نون لیگ سے بغاوت کرنے والے‘ بلوچستان کے ارکان اسمبلی کا ذکر کرتے ہیں تو سینہ فخر سے تن جاتا ہے۔ انسانی ضمیروں کی خریدوفروخت کیا ایسا کام ہے‘ جس پر داد طلب کی جائے۔ نوازشریف کے مخالفین جو اب میں چھانگا مانگا کی بات کریں گے۔ ایک جرم کیا دوسرے جرم کا جواز ہوتا ہے؟

خوفِ خدائے پاک دلوں سے نکل گیا

آنکھوں سے شرم سرور کون و مکاں گئی

آدمی حیرت زدہ رہ جاتا ہے‘ جب یہ لوگ اللہ اور رسولؐ کا نام لیتے ہیں۔ سپریم کورٹ نے نوازشریف کو چلتا کیا تو انہوں نے کہا تھا: اللہ میرے ساتھ ہے اور عوام بھی۔ عرض کیا: اگر اللہ اور عوام آپ کے ساتھ ہیں تو آپ روتے کیوں ہیں؟ موچی دروازے میں زرداری صاحب نے ارشاد کیا کہ اگر نوازشریف کو انہوں نے معاف کردیا تو اللہ انہیں معاف نہ کرے گا۔ یہ بات انہیں کس نے بتائی ہے؟ میثاقِ جمہوریت کے بعد‘ ایک زمانہ وہ تھا‘ جب زرداری صاحب کہا کرتے تھے: ہمارا یہ تعلق آنے والی نسلوں تک برقرار رہے گا۔ جاتی امرا کی ایک تقریب میں اپنے اور شریف خاندان کے بچوں کے نام لے کر کہا کہ ان کے باہمی مراسم‘ اتنے ہی پائیدار ہوں گے۔ پھر پنجاب میں انہوں نے شہبازشریف کی حکومت برطرف کی۔ خریداری کے لیے سلمان تاثیر مرحوم اور رحمن ملک کو پچاس کروڑ روپے فراہم کیے۔ ایک آدھ ایم پی اے ہی خرید سکے‘ باقی روپیہ کہاں گیا؟

کون سی جمہوریت اور کون سا اخلاق؟ قاف لیگ کو زرداری صاحب نے قاتل لیگ کہا تھا۔ 2013ء کے الیکشن کا موسم آیا تو چوہدری پرویزالٰہی کو ڈپٹی پرائم منسٹر بنایا۔ ان لوگوں کے کسی بھی پیمان کی حیثیت کیا ہے۔ سرکارؐ یاد آتے ہیں: مومن ایک سوراخ سے دوبارہ نہیں ڈسا جاتا۔ اور یہ فرمایا: لالچی ہمیشہ جھوٹے کے ہاتھوں لٹتا ہے۔

عمران خان سے کوئی پوچھے کہ کس طرح کے لوگوں کو اسمبلی میں آپ نے بٹھایا ہے کہ خود فروشی پر تلے ہیں۔ ایک تاریخی موقع آپ کو ملا تھا کہ صاحبِ کردار لیڈروں کو سامنے لاتے۔ نئے امیدواروں کو ووٹ دینے کے لیے عوام آمادہ تھے۔ ان میں سے بھی آپ نے اسی قماش کے چنے؟ تین برس پہلے اس کالم میں لکھا تھا کہ تحریکِ انصاف کے چار عدد ارکان سے حمزہ شہباز کا رابطہ ہے۔ اس اثنا میں سدِّباب کے لیے آپ نے کیا کیا؟ پھر یہ کہ 2013ء میں اسی طرح کے لوگ پارٹی پر مسلط ہو سکتے ہیں تو آئندہ کیوں نہیں؟ کاروبارِ حکومت کے لیے قوم آپ پر کیوں اعتماد کرے؟

سب جانتے ہیں کہ پیر حمیدالدین سیالوی نے دھرنے کا اعلان ایک ہفتہ پہلے کیا تھا۔ ان کے بھتیجے اگر یہ فرماتے ہیں کہ کسی نے انہیں اکسانے کی کوشش کی تو اس کا مطلب یہ ہے کہ درپردہ وہ نون لیگ کے ساتھ رابطے میں تھے۔ عدنان عادل نے سچ کہا: دین نہیں یہ دنیا داری ہے اور شیوخ کی اکثریت اس مرض میں مبتلا ہے۔

میراث میں آئی ہے انہیں مسندِ ارشاد

زاغوں کے تصرف میں عقابوں کے نشیمن

خبر یہ ہے کہ جس رپورٹر نے موصوف کا انٹرویو کیا‘ اس سے فرمائش کی گئی تھی۔

آوے کا آوا ہی بگڑ گیا۔ ایک بڑے آپریشن کے بغیر کام نہ چلے گا۔ سرکارؐ کے فرامین میں سے ایک یہ ہے: دنیا سے کوئی اٹھے گا نہیں‘ جب تک اس کا باطن بے نقاب نہ ہو جائے... گروہ کے گروہ بے نقاب ہیں۔ کیا یہ کسی عظیم تبدیلی کا آغاز ہے؟