Add new Article

جب باڑ ہی کھیت کو کھانے لگے

contentModel.content.description

شاعر منیر نیازی نے کہا تھا:جس قبیلے کے سارے لوگ بہادر بن جائیں‘ بربادی کے لئے ‘ کسی دشمن کی اسے ضرورت نہیں۔ آج کا پاکستان ‘ چیختے چلاتے بہادروں کا وطن ہے۔ سوچ بچار کی فرصت کسی کو نہیں۔ پہل کون کرے۔

مسلم برصغیر نے آخری بار پہل قدمی کا مظاہرہ کب کیا تھا؟ 23 مارچ 1940ء کو قرارداد پاکستان کی منظوری۔ قائداعظمؒ کی خیرہ کن قیادت میں پاکستان حاصل کر لیا گیا تو ہم لمبی تان کر سو گئے۔ ہندو اور سکھ بائیس ارب روپے کی جائیدادیں چھوڑ کر گئے تھے۔ مشرقی پنجاب اور یو پی سی پی سے ہجرت کر کے‘ پاکستان آنے والوں کی جائیدادیں دو ارب روپے مالیت کی تھیں۔ قائداعظمؒ کا اندازہ یہ تھا کہ اگر دوبلین ڈالر مہیا ہو سکیں تو پاکستان تیزی سے ترقی کر سکتا ہے۔ یاد رہے کہ ایک روپے کی قدر‘ ایک ڈالر کے برابر تھی ۔ مہاجرین کے نقصانات کی اگر مکمل طور پر بھی تلافی کر دی جاتی تو مستقبل کے لئے بیس بلین ڈالر مہیا ہو جاتے جو آج کے کم از کم دو سو بلین ڈالر کے برابر ہوں گے۔ایک کے بعد دوسرا موقع ہم نے کھو دیا ۔اس لئے کہ ہر بار خودغرض یا نالائق لیڈروں کا ہم نے انتخاب کیا۔ یا پھر فوج مسلط ہو گئی‘ جس کا یہ کام ہی نہیں۔

پاکستان بننے سے پہلے ہی ایک ایئرلائن‘ اخبار اور انشورنس کمپنی ایسے جدید ادارے تعمیر کرنے کیلئے‘ منصوبہ بندی قائداعظمؒ نے کر رکھی تھی۔ اس میں سے کچھ ملک کے وجود میں آنے سے پہلے ہی بنا ڈالے اور کچھ پاکستان بننے کے فوراً بعد۔ ان کے بعد صنعتی اداروں کی تعمیر کا آغاز فیلڈ مارشل ایوب خان کے دورمیں ہوا‘جوفخرِ ایشیا ‘قائدِ عوام ذوالفقار علی بھٹو نے خوش اسلوبی سے سمیٹ دیا۔صرف بینکوں اور انشورنس کمپنیوں کو سرکاری تحویل میں لینے سے‘ بیس بلین ڈالر کا نقصان ہوا۔ اس کے باوجود ان کے گن گانے والے بہت ہیں۔ وہ فریب خوردہ جو یہ سمجھتے ہیں کہ ذہانت بجائے خود ایک عظیم متاع ہے ۔ معاشروں کو اخلاقی اقدار کی کوئی ضرورت نہیں ہوتی ۔

صدیوں سے مسلمان زمینداری اور سرکاری ملازمتوں پہ بسر کرتے آئے تھے۔ صدیوں پہلے رونما ہونے والے صنعتی انقلاب کو سمجھنے میں وہ ناکام رہے تھے۔ ہرگز انہیں ادراک نہ تھا کہ دنیا بدل چکی ہے۔ جدید تعلیم کے بغیر جدید معیشت استوار نہیں ہو سکتی۔ قائداعظمؒ زندہ رہتے تو صحت مند خطوط پر معاشرہ آگے بڑھتا۔ جیسے ہی ان کی آنکھ بند ہوئی‘ ملّا اور اشتراکی ریاست پہ چڑھ دوڑے۔ ''اسلامی نظام‘‘ نافذ کرنے کے لیے ملّا آج بھی سرگرم ہیں۔ متحدہ مجلس عمل کی تشکیل نو‘ اس سلسلے کا تازہ ترین اقدام ہے۔ جہاں تک اشتراکیوں کا تعلق ہے‘ عالمی سوشلزم کی عمارت زمیں بوس ہوتے ہی‘ ان کی اکثریت امریکہ پر ایمان لے آئی‘ جسے وہ اپنا سب سے بڑا دشمن قرار دیتے تھے۔ اب وہ اس کے یتیم بچے ہیں ۔سیکولر یا لبرل کہلاتے ہیں اور امریکہ ان کا مائی باپ ہے۔ این جی اوز بناتے ہیں اور مغرب کے گن گاتے ہیں۔

قائداعظمؒ اور اقبالؔ‘ قوم کو اس دن یاد آتے ہیں‘ جب ان کا یومِ وفات یا تاریخِ پیدائش ہو۔ اعتدال کو قوم نے کھو دیا اور قانون کی حکمرانی کو‘ بانی ِ پاکستان جس کے سب سے بڑے علمبردار تھے۔ اخلاق سے محروم اشرافیہ کی گرفت میں سول اداروں کے انہدام کا نتیجہ یہ ہوا کہ رفتہ رفتہ ریاست کی رٹ برائے نام رہ گئی۔ امریکہ بہادر اور برطانیہ تو الگ‘ بھارت کے حامی بھی دندناتے پھرتے ہیں۔ ڈاکٹر شاہد مسعود سے غلطی سرزد ہوئی تو وکیلوں کی لیڈر نے کہا‘ اینکروں کا احتساب ہونا چاہیے اور چینلز پر بھاری جرمانے عائد ہونے چاہئیں‘ جو انہیں گوارا کرتے ہیں۔ محترمہ سے پوچھنے والا کوئی نہیں کہ کھلے عام جو لوگ ملک کی نظریاتی بنیادوں کو منہدم کر رہے ہیں‘ ان سے بھی پوچھ گچھ ہونی چاہیے یا نہیں؟ آپ ارشاد فرما چکی ہیں کہ مذہب کی بنیاد پر ریاست کے قیام کا کوئی جواز نہیں۔

ملک کا سب سے اہم سیاسی لیڈر وہ ہے 3 اگست 2011ء کو لاہور میں جس نے کہا ''ہم ہندو مسلمان ایک ہی قوم ہیں۔ جس رب کو بھارتی پوجتے ہیں‘ اسی کو ہم پوجتے ہیں۔ ہمارا کلچر‘ ہمارا پس منظر‘ ہمارا رہن سہن‘ ہمارا کھانا پینا سب ایک جیسا ہے۔ درمیان میں بس ایک لکیر آ گئی‘‘۔ اس آدمی کو قائداعظم ثانی کہا جاتا ہے۔ اس کے مشیر پرویز رشید‘ نجم سیٹھی اور اس قماش کے دوسرے لوگ ہیں۔ محترمہ مریم نواز کی سیاسی اتالیق بھی ایسی ہی ایک معزز ہستی ہیں۔ آئندہ انتخابات میں انہیں ایوان میں پہنچانے کا وعدہ کیا جا چکا۔

23 مارچ 1940ء کو‘ قرارداد پاکستان کی منظوری کے موقع پر‘ اپنے کلیدی خطبے میں قائداعظمؒ نے یہ کہا تھا ''ہم مسلمان ہر لحاظ سے ہندوئوں سے مختلف ہیں۔ ہمارا کلچر‘ ہماری ثقافت‘ ہمارا رہن سہن‘ ہمارا کھانا پینا‘ ہماری تاریخ‘ ہماری اقدار اور معاشرہ ان سے بالکل مختلف ہے۔ ہم ایک الگ قوم ہیں‘‘۔

یہی وہ شخص ہے‘ مدتوں بعد ایک محدود سی سیاسی پہل کاری کا جس نے مظاہرہ کیا ہے۔ بچے کھچے اداروں یعنی عدلیہ اور فوج کو وہ تباہ کرنے پر تلا ہے ۔بلوچستان‘ قبائلی پٹی اور کراچی میں بھارتی دہشت گردی کی وہ مذمت نہیں کرتا۔ کلبھوشن یادیو کا نام تک نہیں لیتا۔ گویا وہ ایک تماشائی ہے۔ اقتدار ملے یا ملنے کی امید ہو تو پاکستان میں وہ براجمان رہے گا ورنہ سمندر پار چلا جائے گا۔ نیپال‘ سکّم‘ بھوٹان یا زیادہ سے زیادہ بنگلہ دیش کی طرح‘ پاکستان کو بھارت کی ذیلی ریاست بنانے کے استعماری ایجنڈے کے ساتھ‘ اس نے اتفاق کر لیا ہے۔ جیسا کہ سپریم کورٹ کے ایک معزز جج نے کہا تھا‘ ایک سیاسی جماعت سے زیادہ‘ وہ ایک مافیا کا سربراہ ہے۔ خلق خدا کا لہو پینے والے جاگیردار اور صنعت کار‘ اس کے بازوئے شمشیرزن ہیں۔ کم از کم دو میڈیا گروپ‘ اس کے ہاتھ پر بیعت کر چکے ۔ امریکہ کے زیراثر تیسرا میڈیا گروپ‘ اس کا فطری حلیف ہے۔مدتوں سے وہ پاکستان کی مسلح افواج کے خلاف مہم چلا رہا ہے۔ سول اداروں کی تباہی کے ہنگام‘ ریاستی رٹ بڑی حد تک تحلیل ہو جانے کے ہنگام‘ جو ملک کو متحد رکھنے والی واحد قوت ہے۔

سو فیصد اگرچہ مصدقہ نہیں‘ تازہ ترین اطلاع یہ ہے کہ عدالت سے من مانے نتائج حاصل کرنے کے لیے‘ نااہل قرار پائے کی ایما پر کچھ لوگ متحرک ہو چکے۔ ان لوگوں کا دعویٰ یہ ہے کہ ججوں پہ اثرانداز ہوا جا سکتا ہے۔ ایک معروف سبکدوش جج اور ایک کے بعد دوسرے حکمران کے لیے بروئے کار آنے والا‘ ایک جرائم پیشہ اخبار نویس اس گروہ میں شامل ہیں۔ اپنی کوشش میں وہ کامیاب رہیں گے یا قدرت انہیں رسوا کرے گی؟ یہ تو آنے والا وقت ہی بتائے گا۔ ایک سوال مگر ذہن میں ابھرتا ہے کہ جب باڑ ہی کھیت کو کھانے لگے ؟

صدیاں گزر گئی ہیں‘ سبقت سے مسلمان محروم ہیں۔ عربوں کے پاس دولت کے انبار تھے مگر دس کروڑ کی آبادی تیس لاکھ اسرائیلیوں کے مقابل سسک سسک کر جیتی رہی۔ اس لیے کہ اپنی دنیا ہم خود نہیں تراشتے‘ دوسروں کی بنائی ہوئی دنیا میں زندہ رہتے ہیں۔ اپنی تقدیر کے ہم خود مالک نہیں‘ دوسرے ہماری تقدیر کا فیصلہ کرتے ہیں۔ ترکی اور ملائیشیا کے سوا تمام عالم اسلام میں سیاسی جماعتیں ناکام رہی ہیں‘ خوئے غلامی اور شخصیت پرستی ۔

ادبار سے نجات پانے کے لیے قوموں کو زورِ بازو کی نہیں‘ فہم و فراست کی ضرورت ہوتی ہے۔ وہ فہم و فراست اور غوروفکر کہاں ہے۔ اپوزیشن کا سب سے اہم لیڈر ہمہ وقت جنون کی تلقین کرتا رہتا ہے۔ نتیجہ اس کا یہ ہے کہ اس کے پیروکار‘ ہر اس شخص کو غدار اور ابن الوقت قرار دیتے ہیں‘ جزوی طور پر بھی جو ان سے اختلاف کریں ۔ تازہ ترین مثال ڈاکٹر شاہد مسعود کے کارنامے کی ہے۔ اخبار نویسوں نے ان سے اختلاف کیا تو سوشل میڈیا پر گالیوں کی ایسی بوچھاڑ ہوئی کہ خدا کی پناہ۔

شاعر منیر نیازی نے کہا تھا:جس قبیلے کے سارے لوگ بہادر بن جائیں‘ بربادی کے لئے ‘ کسی دشمن کی اسے ضرورت نہیں۔ آج کا پاکستان ‘ چیختے چلاتے بہادروں کا وطن ہے۔ سوچ بچار کی فرصت کسی کو نہیں۔ پہل کون کرے۔