دیوار سے لگانے کی پالیسی؟

زیر بحث - عارف نظامی

08 دسمبر 2018

دیوار سے لگانے کی پالیسی؟

چند ہفتے پہلے تک امریکہ کے سیماب پا صدر ڈونلڈ ٹرمپ اپنے ٹریڈ مارک ٹویٹس کے ذریعے پاکستان کو دھمکیاں دے رہے تھے کیونکہ ان کے مطابق پاکستان افغان مسئلے کا حل نہیں بلکہ خود مسئلہ ہے ۔ٹرمپ کی ہارڈ لائن کی ایک بنیادی علامت پاکستان کے لیے فوجی اور اقتصادی امداد کی مکمل بندش ہے ۔امریکی صدر ایک موقع پر یہ بھی کہہ چکے ہیں کہ ہم اسلام آباد کو جو امداد دیتے ہیں وہی افغانستان میں ہمارے فوجیوں کو قتل کرنے والے افراد کو پالنے کے لیے استعمال ہوتی ہے۔ اب اچانک امریکی صدر نے پاکستان کے وزیراعظم عمران خان کے نام خط کے ذریعے طالبان کو مذاکرات کی میز پر لانے کے لیے مدد مانگی گئی ہے اورافغان جنگ سے امریکہ اور پاکستان دونوں کا نقصان ہوا، کہہ کر مل کر کام کرنے کے مواقع تلاش کرنے کی دعوت دی ۔امریکی سینٹکام کے نئے متوقع سربراہ لیفٹیننٹ جنرل کینیتھ مکینزی نے افغانستان میں فورسز کی مدت میں اضافے کو ناگزیر قرار دیا ہے تاکہ افغانستان میں امن قائم ہو جو پاکستان کا تعاون حاصل کئے بغیر ممکن نظر نہیں آتا۔ گویا کہ بقول میرتقی میر : میر کیا سادے ہیں،بیمار ہوئے جس کے سبب اسی عطار کے لڑکے سے دوا لیتے ہیں خط موصول ہونے کے ساتھ ہی افغانستان کے لیے امریکہ کے خصوصی نمائندے زلمے خلیل زاد اسلام آباد آ دھمکے ،یہاں ان کی وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی سے دو بدو ملاقات ہوئی ۔زلمے خلیل زاد انتہائی ہارڈ لائنر اور سابق امریکی وزیر دفاع ڈک چینی اور قومی سلامتی کے مشیر جان بولٹن کے دست راست ہیں ۔ انھوں نے کبھی پاکستان کے بارے میں اچھے کلمات ادا نہیں کئے اور ہمیشہ اسلام آباد کو ہی سارے مسئلے کی جڑ قرار دیتے رہے ہیں ۔ وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے زلمے خلیل زاد کو اسلام آباد میں جی آیاں نوں کہا اور انھیں یہ یقین دلایا کہ افغانستان میں امن کے لیے تعاون جاری رکھا جائے گا ۔سفارتی آداب کا بھی یہی تقاضا تھا لیکن سیاسی وعسکری لیڈر شپ اس حقیقت سے بخوبی واقف ہو گی کہ زلمے خلیل زاد اس معاملے میں Honest Brokerنہیں ہیں لہٰذا امریکہ کی افغانستان میں امن کی تازہ کاوش پر ہمیں زیادہ پھولے نہیں سمانا چاہیے ۔زلمے خلیل زاد بہت پرامید ہیں کہ افغانستان میں ہونے والے صدارتی انتخابات سے چند ماہ پہلے افغان طالبان اور کابل انتظامیہ کا معاہدہ طے پا جائے گا لیکن زمینی حقائق اس خوش فہمی سے لگا نہیں کھاتے ۔ افغان طالبان افغانستان کے زیادہ تر علاقے پر قابض ہیں یا وہاں ان کا گہرا اثر ونفوذ ہے ۔ 2001ء میں جب افغانستان میں امریکی فوجی یلغار کے بعد طالبان کی حکومت کو ختم کیا گیا اور امریکہ کو اس کی تاریخ کی سب سے طویل جنگ میں جھونک دیا گیا ۔ ایک امریکی ادارے کی حالیہ رپورٹ کے مطابق رواں برس 31جنوری تک کابل انتظامیہ کا افغانستان کے محض56.3فیصد علاقے 229)اضلاع )پر کنٹرول تھا جبکہ 14.5فیصد (59اضلاع ) طالبان کے زیر کنٹرول تھے اور 29فیصد علاقہ ان دونوں کے کنٹرول سے باہر تھا ۔ اس پیچیدہ صورتحال میںجہاں افغان طالبان اور اسلامی سٹیٹ کی پرتشدد کارروائیاں بھرپور طریقے سے جاری ہیں جن میں افغان اور امریکی فوجی و شہری ہلاک ہو رہے ہیں‘ اتنی جلدی امن کا قیام ممکن نظر نہیں آتا۔حال ہی میں اکتوبر میں پارلیمانی انتخابات میں طالبان کی کارروائیوں میں دس امیدوار مارے گئے تھے۔ امریکہ اور افغان صدر اشرف غنی اس گھمبیر صورتحال کا ذمہ دار پاکستان کو ٹھہراتے ہیں۔ ان کے مطابق افغان طالبان پاکستان کے مختلف علاقوں میں پناہ لیتے اور افغانستان میں کارروائیاں کرتے ہیں۔ ہماری حکومت اس بات کی سختی سے تردید کرتی ہے اور یہ بھی کہا جاتاہے کہ ہم خود بھی دہشت گردی کا شکار ہیں ۔ ہم نے افغان طالبان کو نہیں پالا بلکہ ہم نے اس بارے میں ہمیشہ امریکہ کی مدد کی لیکن واشنگٹن اور اس کے حواری اس کو تسلیم کرنے سے مسلسل انکاری ہیں ۔مزید برآں پاکستان کو دھتکار کر اس سے توقع رکھنا کہ وہ افغان طالبان کو مذاکرات کی میز پر لے کر آئے عبث ہے ۔ویسے بھی جب امریکہ اور بھارت ایک دوسرے کو جپھی ڈالے بیٹھے ہیں پاکستان کے پالیسی کارپردازان اس ضمن میں امریکہ کی کیا مدد کر سکتے ہیں ۔ امریکہ اور اس کے حواریوں کی یہ بہت بڑی پسپائی ہے کہ انھیں بالآخر تسلیم کرنا پڑا ہے کہ طالبان محض دہشت گردوں کا ٹولہ نہیں ہے اور ان سے مذاکرات کرنا ہی پڑیں گے، اس کا بین ثبوت یہ بھی ہے کہ قطر کے دارالحکومت دوحہ میں زلمے خلیل زاد اور طالبا ن کے نمائندوں کے درمیان مذاکرات کے دو دور ہو چکے ہیں ۔ظاہر ہے کہ مذاکرات کچھ دو اور کچھ لو کی بنیاد پر ہو سکتے ہیں ۔ جب تک واشنگٹن ان کے کسی نہ کسی شکل میں مطالبات تسلیم نہیں کرتا اور دوحہ میں ان کے دفتر کو تسلیم نہیں کرتا مذاکرات کی کامیابی کیسے ممکن ہو سکتی ہے ۔ اس سے بھی زیادہ کڑی شرط یہ ہے افغانستان سے امریکی فوجیں نکل جائیں تب ہی بامقصد مذاکرات کا آغاز ہو گا ۔ مذاکرات کی کامیا بی کے لیے پاکستان کے علاوہ بنیادی سٹیک ہولڈرز افغان صدر اشرف غنی کو بھی آن بورڈ لینا پڑے گا جوسب سے کٹھن اور پیچیدہ معاملہ ہے ۔ اشرف غنی ایسے مذاکرات کے حق میں ہیں جن کی قیادت بھی افغان کر رہے ہوں اور حصہ دار بھی وہی ہوں ۔ اگر آج امریکہ اپنی عسکری اور سیاسی حمایت سے ہاتھ کھینچ لے تواشرف غنی کی حکومت زیادہ دن نہیں ٹھہر سکے گی اور طالبان کی یلغار کو کوئی نہیں روک نہیں سکے گا ۔ امریکہ کے لیے بھی پائے رفتن نہ جائے ماندن کی صورتحال ہے اگر وہ اور بھارت اپنے کٹھ پتلی افغان صدر کی پشت پناہی سے دستبردار ہو جاتے ہیں تو مذاکرات کی ضرورت ہی نہیں رہے گی ۔دوسری طرف اگر مذاکرات کیے جاتے ہیں تو طالبان کی شرائط مانے بغیر بامقصد مذاکرات نہیںہو پائیں گے۔جہاں تک پاکستان کا تعلق ہے، اگر فرض کر لیا جائے کہ افغان طالبان اس کے تابع مہمل ہیں جو یقینا نہیں ہیں ، وہ کیونکر زمین پر جدوجہد کے ذریعے حاصل کی ہوئی فتوحات کو مذاکرات کی میز پر تج کر کے گھر چلے جائیں گے۔ گزشتہ ماہ جینوا میں افغانستان پر ہونے والی امن کانفرنس جس میں اشرف غنی بھی شریک تھے‘ میں زور دیا گیا کہ مذاکرات کے ذریعے مسئلہ حل کیا جائے اور اس کے لیے طالبان افغانستان کے آئین اور حکومت کو تسلیم کریں۔اکتوبر میںماسکو میں بھی ہونے والے اجلاس میںطالبان کو پہلی بار دعوت دی گئی جس میں گیارہ ممالک شریک تھے اور مطالبہ کیا گیا کہ افغانستان سے تمام غیر ملکی افواج نکل جائیں ۔ظاہر ہے یہ بات امریکہ کے لیے قابل قبول نہیں ہے اس تناظر میں اسلام آباد کو واشنگٹن کے علاوہ ماسکو اور بیجنگ کو اعتماد میں لے کر کوئی مربوط پالیسی مرتب کرنی چاہیے کیونکہ افغانستان میں پائیدار امن پاکستان کے وسیع تر مفاد میں ہے ۔ اسی صورت میں بھارت اور افغانستان کے ساتھ تجارتی اور اقتصادی تعلقات پروان چڑھ سکتے ہیں جن کی ہمیں اشد ضرورت ہے ۔یقینا نان سٹیٹ ایکٹرز کو ہماری سرزمین استعمال کرنے کی اجازت نہیں ہونی چاہیے۔اس حوالے سے پاکستان پا ک افغان سرحد پر باڑ لگانے کی ہر ممکن سعی کر رہا ہے۔ دوسری طرف امریکہ اگر پاکستان کا تعاون چاہتا ہے تو اسے پاکستان کو دیوار سے لگانے کی پالیسی ترک کرنا ہو گی ۔

 351