تاریخ کے چوراہے پر

تمام توجہ صوبے میں حکومت کاری بہتربنانے کی بجائے‘ عمران خان سارا وقت یہ ثابت کرنے میں لگے رہے کہ ان کے دونوں بڑے مخالفین ٹھگ‘ چور اور ڈاکو ہیں۔ الیکشن سر پہ کھڑے ہیں اور اب بھی ان کی روش یہی ہے۔ خان کا جذبۂ انتقام کسی طرح تسکین نہیں پاتا۔ سامنے کی اس حقیقت کو اس نے نظرانداز کر دیا ہے کہ ان حالات میں الیکشن وہ جیت بھی جائے تو حکومت کیسے کرے گا۔ اس امن کا حصول کیوں کر ممکن ہو گا جس کے بغیر استحکام حاصل ہوتا ہے اور نہ معاشی نمو۔ بے روزگاری کا خاتمہ کیا جا سکتا ہے‘ صحت اور تعلیم کی سہولتیں مہیا کی جا سکتی ہیں اور نہ آزاد خارجہ پالیسی کی تعمیر۔

مقدر کے قیدی‘ہم سب انتظار میں ہیں Waiting for Allah۔پوری قوم تاریخ کے چوراہے پر کھڑی چیخ رہی ہے۔ غوروفکر کی فرصت کسی کو نہیں۔

کہا نہیں جا سکتا کہ کیا ہوگامگر کوئی نہ کوئی غیر متوقع چیز رونما ہو کر رہے گی۔ معاشرے جب ہیجان کا شکار ہو جاتے ہیں تو حادثہ لازمی طور پہ برپا ہوتا ہے۔ آخری نتیجے میں یہ مثبت بھی ہو سکتا ہے مگر شکست و ریخت کے بعد۔ ایسی شکست و ریخت جو ایک بار قوم کو لرزا کے رکھ دے۔

عمران خان کے سب سے بڑے مشیر شیخ رشید نے پارلیمنٹ پہ ہزار بار لعنت کی تو ایک بار کپتان نے بھی بھیج دی۔ پورے کے پورے میڈیا نے‘ جس میں ان کے حامی بھی شامل تھے‘ اس حرکت کو افسوس ناک قرار دیا۔ جنونیوں کی بات دوسری ہے‘کسی بھی مکتب فکر کا کوئی ایک ہوش مند آدمی بھی ان کا دفاع کرنے کے لئے تیار نہ تھا۔ اس سے بڑا حادثہ یہ ہوا کہ خلق سے جب پوچھا گیا تو 64سے 70 فیصد لوگوں نے عوامی نمائندوں کو لعنت کا مستحق سمجھا۔ صرف پارلیمنٹ نہیں یہ جمہوریت پہ عدم اعتماد ہے۔ اس جعلی جمہوریت پہ جس کے گیت سب سے بڑھ کر آصف علی زرداری گاتے ہیں۔ نواز شریف ‘عمران خان‘ تمام فعال طبقات بھی۔ اس سوال کا جواب کوئی نہیں دیتا کہ یہ جمہوریت ناکام کیوں ہے۔ معاشی ترقی اور امن کا قیام صرف فوجی ادوار میں کیوں ہوا؛ اگرچہ اس کے اپنے عوارض ہیں۔اتنے زیادہ کہ مدتوں قیمت چکانی پڑتی ہے۔ مشرقی پاکستان کی جدائی کا المیہ‘ دو جنرلوں کے اقتدار کا ثمر بھی تھا۔ذوالفقار علی بھٹو اور ان سے زیادہ شیخ مجیب الرحمن نے بھی اپنا حصہ ڈالا ۔ حسب توفیق چھوٹی جماعتوں نے بھی‘ سیاسی شکست پر جو صدمے سے دوچار تھیں۔

1970ء کا بحران ٹالا جا سکتا تھا مگر کیوں نہ ٹالا جا سکا۔ اسی جذباتی ہیجان کی وجہ سے‘ اسی ہوس اقتدار اور اسی خوئے انتقام کے طفیل جو آج بھی طاری ہے۔ نواز شریف نے کہہ دیا ہے کہ اقتدار نہ ملا تو وہ شیخ مجیب الرحمن بننے کے لئے تیار ہیں۔ یعنی اگر عدلیہ اور فوج نے ان کے سامنے ہتھیار نہ ڈالے۔ دوسرے بھی وحشت میں کم مبتلا نہیں۔ سندھ پولیس بھتہ وصول کرنے والا ایک گروہ بن چکی اور سب جانتے ہیں کہ جناب آصف علی زرداری کے سائے میں۔سندھ پولیس نے الطاف حسین کی ایم کیو ایم کا خلا بہ تمام و کمال پر کر دیا ہے۔ رائو انوار جیسے کردار اس میں ابھرے ہیں‘ جنہوں نے اپنی چھوٹی چھوٹی مافیا بنا رکھی ہیں۔ ان کے اپنے جیل خانے ہیں‘ اپنا جاسوسی نظام۔ ڈنکے کی چوٹ جو بے گناہوں کو اغوا کرتے اور بعض اوقات بے دردی سے قتل کر ڈالتے ہیں۔ اندرونِ سندھ تقریباً ہر بارسوخ اب پیپلز پارٹی کا حصہ ہے۔ عامیوں کے ساتھ وہ جانوروں سے بدتر سلوک کرتے ہیں اور پولیس وڈیروں کا بازوئے شمشیر زن ہے۔ ایک منصفانہ الیکشن میں پیپلز پارٹی آدھی سیٹیں ہی لے سکتی ہے مگر منصفانہ الیکشن کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ بلوچستان میں کوئٹہ کے سوا پولیس کہیں موجود ہی نہیں۔ لیویز ہیں‘ جن میں بھرتی قبائلی سرداروں کی مدد سے ہوتی ہے۔ وہی ان کی تنخواہیں وصول کرتے اور انہی کے احکامات کی وہ پیروی کرتے ہیں۔ سولہ برس پہلے ان لیویز کو پولیس میں ڈھالنے کا منصوبہ بنایا گیا مگر 2002ء میں منتخب ہونے والی اسمبلی نے بیک جنبشِ قلم مسترد کر دیا‘ جب کہ اربوں خرچ کیے جا چکے تھے۔ پھر اس میں تعجب کیا کہ اسمبلی کے بہت سے ارکان خرید لیے گئے۔ اب پختون خوا پہ نظر ہے۔ملک ایک منڈی بن گیا ہے اور اسے جمہوریت کا حسن کہا جاتا ہے۔

پختون خوا پولیس کو عمران خان نے بہتر بنایا ہے۔ سیاسی مداخلت کم ہو گئی‘ برائے نام۔ سکول اور ہسپتال بھی قدر بہتر ہوئے ہیں۔ شہباز شریف کچھ ہی کہیں‘ ماحولیات پر بھی توجہ دی گئی۔ واقعہ یہ ہے کہ ایک ارب درخت واقعی گاڑے گئے۔ عالمی ادارے توثیق کرتے ہیں۔ اپوزیشن مگر مان کر نہیں دیتی۔ اب ایسا کوئی طریقہ موجود نہیں کہ ایک ارب درخت اکھاڑ کر اسلام آباد کی شاہراہ دستور پہ رکھ دئیے جائیں اور مخالفین کو گنتی کرنے کی دعوت دی جائے۔ حقائق واضح کرنے سے میڈیا کو کوئی دلچسپی نہیں۔ اس کی ترجیح ٹاک شو ہیں‘ جن میں لوگ ایک دوسرے پر چیختے چلاتے ہیں تاکہ پہلے سے ہی موجود ہیجان میں اور اضافہ ہو۔ مقبولیت بڑھے اور اشتہارات بھی۔

تمام توجہ صوبے میں حکومت کاری بہتربنانے کی بجائے‘ عمران خان سارا وقت یہ ثابت کرنے میں لگے رہے کہ ان کے دونوں بڑے مخالفین ٹھگ‘ چور اور ڈاکو ہیں۔ الیکشن سر پہ کھڑے ہیں اور اب بھی ان کی روش یہی ہے۔ خان کا جذبۂ انتقام کسی طرح تسکین نہیں پاتا۔ سامنے کی اس حقیقت کو اس نے نظرانداز کر دیا ہے کہ ان حالات میں الیکشن وہ جیت بھی جائے تو حکومت کیسے کرے گا۔ اس امن کا حصول کیوں کر ممکن ہو گا جس کے بغیر استحکام حاصل ہوتا ہے اور نہ معاشی نمو۔ بے روزگاری کا خاتمہ کیا جا سکتا ہے‘ صحت اور تعلیم کی سہولتیں مہیا کی جا سکتی ہیں اور نہ آزاد خارجہ پالیسی کی تعمیر۔

امریکہ پاکستان کے در پے ہے۔ اسی ہفتے اقوام متحدہ کی ایک ٹیم اسلام آباد آنے والی ہے‘ جوجائزہ لے گی کہ کیا پاکستان کو ایک دہشت گرد ریاست قرار دے کر‘ اقتصادی پابندیاںعائد کر دی جائیں۔ سلامتی کونسل میں امریکہ‘ بھارت اور افغانستان نے ایک متحدہ محاذ بنا لیا ہے۔ اس کا مقصد بھی پاکستان کو دہشت گردثابت کرنا ہے۔ حافظ محمد سعید بسِ کی گانٹھ ہیں۔ قومی مفادات سے بے نیاز یہ آدمی جہاد کا علم اٹھائے کھڑا ہے‘ جس کی ذمہ داری قوم نے اسے نہیں سونپی۔ اس کا ہاتھ پکڑنے والا بھی کوئی نہیں۔ وزیراعظم شاہد خاقان عباسی فرماتے ہیں کہ حافظ سعید پہ کوئی الزام ہی نہیں۔ خیر وہ تو یہ بھی فرماتے ہیں کہ نواز شریف ایک دیانتدار اور نفیس آدمی ہیں‘ جن کی زندگی کا سب سے بڑا مقصد ملک کو ایک عظیم اقتصادی قوت بنانا ہے۔برسوں کی چیخ و پکار کے باوجود‘ قومی میڈیا عسکری قیادت کو قائل نہیں کر سکا کہ حافظ سعید ایسے لیڈروں کو ذاتی لشکر بنانے سے روکا جائے‘ خاموش رہنے کی درخواست کی جائے۔ ارض وطن بلک رہی ہے اور کوئی سننے والا نہیں ؎

کتنی آہوں سے کلیجہ تیرا ٹھنڈا ہوگا

کتنے آنسو تیرے صحرائوں کو گلزار کریں

کشمیر میں قتلِ عام جاری ہے۔ رتی برابر کسی کو پروا نہیں۔ بھارت پہ دبائو ڈالنے کے لئے کوئی عالم گیر کوشش تو کجا ایک آدھ سیمینار اور جلوس بھی نہیں‘ حتیٰ کہ جماعت اسلامی نے بھی اپنا مقدس فرض بھلا دیا۔ اب وہ مولانا فضل الرحمن کی حلیف ہے۔ اول جنہیں آصف علی زرداری اور پھر میاں محمد نواز شریف نے کشمیر کمیٹی کا چیئرمین بنائے رکھا۔ کشمیر کمیٹی کا کارنامہ کیا ہے؟ کل یہ سوال صرف مولانا فضل الرحمن اور ان کے سرپرستوں سے کیا جاتا تھا۔آئندہ سینیٹر سراج الحق سے بھی کیا جائے گا۔ پنجابی محاورہ کے مطابق اس کے لئے ابھی سے وہ شلغموں سے مٹی جھاڑنے کے لئے تیار ہیں۔ سید ابوالاعلیٰ مودودی کی جماعت بہت تیزی سے نمک کی کان میں نمک بنتی جا رہی ہے۔ صوبائی اور قومی اسمبلی کی چند سیٹیں ہی اب اس کا خواب ہیں۔

آسمان کی طرف نگاہ اٹھا کر‘ اقبالؔ نے سوال کیا تھا'' چرا مسلماناں بہ زارند و نالند‘‘ مسلمان کیوں خوار و زبوں ہیں۔ آسمان سے جواب آیا'' نمی دانی کہ ایں قوم‘ دلے دارندو محبوبے ندارند‘‘ کیا تجھے معلوم نہیں کہ یہ وہ قوم ہے‘ کہ جو دل تو رکھتی ہے مگر اس دل میں تمنا کوئی نہیں۔

اقوام متحدہ اور امریکہ کی مجوزہ پابندیوں کے باب میں‘ دل کو تسلی دینے کا جواز یہ ہے کہ چین ایک بار پھر ویٹو کا ہتھیار استعمال کرے گا۔ اقتصادی پابندیاں عائد کرنے میں امریکہ تامل کا شکار ہوگا کہ پاکستان‘ افغانستان کے لئے رسد کی فراہمی روک سکتا ہے۔ سیاسی استحکام اور معاشی نمو کے لئے‘ دیرپا منصوبہ بندی تو الگ‘ ایک نئے عمرانی معاہدہ کی تگ و دو کجا‘ کسی لیڈر‘ کسی پارٹی کو پروا ہی نہیں کہ ملک پر کیا بیت رہی ہے۔ کیا بیت سکتی ہے ؎

سب کے اپنے اپنے دکھ ہیں‘ سب کو اپنی اپنی پڑی ہے

اے دلِ ناداں تیری کہانی کون سنے گا‘ کس کو سنائیں

مقدر کے قیدی‘ہم سب انتظار میں ہیں Waiting for Allah۔پوری قوم تاریخ کے چوراہے پر کھڑی چیخ رہی ہے۔ غوروفکر کی فرصت کسی کو نہیں۔