دیوار پہ لکھی ہوئی تحریر

اللہ ان پہ رحم کرے‘ ساری کی ساری سیاسی قیادت ازکارِ رفتہ ہوتی دکھائی دیتی ہے۔ بینر پہ لکھے حرفِ خوشامد پہ جو خوش ہے/ دیوار پہ لکھی ہوئی تحریر بھی دیکھے۔

اللہ ان پہ رحم کرے‘ ساری کی ساری سیاسی قیادت ازکارِ رفتہ ہوتی دکھائی دیتی ہے۔ بینر پہ لکھے حرفِ خوشامد پہ جو خوش ہے/ دیوار پہ لکھی ہوئی تحریر بھی دیکھے۔

کوڑا کرکٹ جلد یا بدیر ٹھکانے ہی لگانا ہوتا ہے۔ زرداری صاحب کا خیال اگر یہ ہے کہ دیہی سندھ میں پولیس گردی‘ بلوچستان میں دعا اور دوا سے اور آئندہ عام انتخابات میں دھن دولت کے بل پر وہ بچ نکلیں گے۔ پھر شریکِ اقتدار ہوں گے تو وہ مغالطے کا شکار ہیں۔ شہری سندھ نے آخرکار بغاوت کردی تھی‘ دیہی سندھ بھی ایک دن کرے گا۔

سال گزشتہ بلوچستان‘ پنجاب اور پختون خوا میں زیادہ سے زیادہ اٹھارہ فیصد ووٹروں نے فوج کو جمہوریت پر ترجیح دی۔ سندھ میں باسٹھ فیصد نے۔ سب جانتے ہیں کہ خوف کا ایک حصار زرداری خاندان نے صوبے میں قائم کر رکھا ہے۔ مگر کب تک‘ آخر کب تک۔ خوف کی زنجیریں پگھلیں گی تو زرداری خاندان کو کہیں پناہ نہ ملے گی۔

شریف خاندان سے ملک نالاں ہے۔ من مانی اور زر اندوزی میں کوئی کسر انہوں نے چھوڑی نہیں۔ اس کے باوجود فعال طبقات کے علاوہ فوج‘ کاروباری طبقات‘ صنعتی کارکنوں اور کسانوں نے اگر انہیں گوارا کئے رکھا تو اس کی وجوہات تھیں۔ طرزِ حکمرانی میں پیپلزپارٹی کی موجودہ قیادت ان سے بھی بدتر ہے۔ رہی تحریکِ انصاف تو نئی نسل میں عمران خان کی غیرمعمولی مقبولیت کے باوجود‘ اب تک وہ ایک پارٹی نہیں بن سکی۔ تنظیم نام کی کوئی چیز اس میں پائی ہی نہیں جاتی۔ دھڑے بندی اقتدار کے سب بھوکوں میں ہوتی ہے۔ غیر تربیت یافتہ سیاسی کارکنوں اور دولت کے بل پر نمود کے خواہش مند لیڈروں میں۔ اس باب میں مگر تحریکِ انصاف اپنی مثال آپ ہے۔ سارا وقت اس کے مختلف لوگ باہم متصادم رہتے ہیں۔ ان کی زیادہ تر توانائی ایک دوسرے کے خلاف صرف ہوتی ہے۔ اس میں نہ تو آسانی سے الیکشن ممکن ہیں اور نہ ہی نامزدگیوں سے کام چلایا جا سکتا ہے۔ ایک جماعت نہیں بلکہ یہ کپتان کا فین کلب ہے‘ موقع پرست لیڈروں کی ایک بڑی تعداد جس میں شامل ہو چکی۔ بعض نے عمران خان کے گرد حصار قائم کر لیا ہے‘ مردم شناسی اور معاملہ فہمی جنہیں چھو کر نہیں گزری۔ جب وہ پارلیمنٹ پر لعنت بھیجتے ہیں اور اس کا دفاع بھی کرتے ہیں تو آدمی حیرت زدہ رہ جاتا ہے۔ ڈاکٹر فردوس عاشق اعوان اور نذر گوندل جیسے عظیم رہنمائوں کو خوش آمدید کہنے والا‘ باقیوں پہ کیوں معترض ہے۔ بے شک کچھ کارنامے اس نے زندگی میں انجام دیئے ہیں۔ بے شک استقامت کا مظاہرہ اس نے کیا اور مشکل حالات میں ڈٹا رہا لیکن یہ بات وہ نہیں سمجھ سکا کہ زندگی دوسروں کے عیوب نہیں‘ اپنے محاسن پہ بسر کی جاتی ہے۔ عمران خان کو اقتدار اگر مل سکا‘ ہر گزرتے دن کے ساتھ جس کا امکان کم ہوتا جا رہا ہے تو بے شک وہ پولیس اور سول سروس کو بہتر بنا دے گا۔ بڑے پیمانے کی کرپشن بھی کچھ کم ہو جائے گی لیکن اس کا سب سے بڑا دردِسر اس کی پارٹی ہوگی۔ جوش و خروش سے بھرے لوگوں کے یہ ایسے بے لگام ٹولے ہیں جو کچھ بھی سیکھنے کے لیے تیار نہیں۔ کچھ بھی سمجھنے پر آمادہ نہیں۔ مزید برآں شخصیت پرستی ان میں اس قدر رچ بس گئی ہے کہ ان کا لیڈر کچھ بھی کہہ دے‘ بہرحال وہ اس کی تائید پر تلے رہتے ہیں۔ جدید تاریخ میں شاید وہ پہلا آدمی ہے جس نے ایک نیا قبیلہ استوار کیا ہے۔ غیظ و غضب پر تلا ہوا۔ شریف خاندان کی شعبدہ بازی پہ تنقید کی جاتی ہے۔ ان کی تمام تر امنگیں ذاتی ہیں۔ وہ بے دردی سے روپیہ کمانے اور خلقِ خدا کو چکما دینے کے قائل ہیں۔ کچھ بھی کر گزریں‘ میڈیا میں ان کا رسوخ گہرا ہے۔ بیک وقت کئی اخبارات اور چینل‘ سینکڑوں اخبار نویس ان کا دفاع کرنے کے لیے اٹھ کھڑے ہوتے ہیں۔ فقط ان کا دفاع ہی نہیں بلکہ مخالفین کی تذلیل کے لیے۔ بجا طور پر‘ ملک کی سب سے بڑی عدالت نے ان لوگوں کو مافیا کا نام دیا۔ آج کوئی کچھ بھی کہے تاریخ اسی نام سے انہیں یاد رکھے گی اور اس قوم پہ حیرت کرے گی‘ جس نے عشروں تک ان کا قلادہ پہنے رکھا۔ اس کا مطلب مگر یہ بالکل نہیں کہ شعبدہ بازوں کے ایک گروہ سے نجات پا کر‘ موقع ملنے پر جو ملک دشمنوں تک سے رہ و رسم پیدا کر لیتا ہے‘ دیوانوں کا ایک جلوس مسندِ اقتدار پر بٹھا دیا جائے۔ تحریکِ انصاف کو اپنی اصلاح کرنا ہوگی ورنہ اس کا انجام اس ندی کی طرح ہوگا جو پہاڑوں میں شورمچانے‘ وادیوں میں بل کھانے کے بعد‘ کسی صحرا میں جذب ہو جائے۔

مولانا طاہرالقادری غیظ و غضب میں اگر برہم ہوں تو اس پر تعجب کیا۔ جو شخص بڑے بڑے مذہبی دعوے کر سکتا ہے ‘ دنیا کے کسی دوسرے معاملے میں اس سے توازن اور صداقت شعاری کی امید کیسے کی جا سکتی ہے۔ یہی عالم شیخ رشید کا ہے وہ یکسر ذاتی زندگی گزارنے والے آدمی ہیں۔ عمران خان کو وہ بتا چکے کہ کسی طرح اگر ٹیکنوکریٹس کی حکومت قائم ہو سکی تو وہ وزارت کا منصب حاصل کرنے کی کوشش کریں گے۔ اصول نام کی کسی چیز سے وہ واقف ہی نہیں۔ فوجی آمروں اور منتخب حکومتوں کی ایک سے جوش و ولولے کے ساتھ وہ خدمت کرتے رہے۔ شریف خاندان کے مخالف وہ اس لیے نہیں کہ 2008ء کے بعد اچانک وہ بے اصولیوں کے مرتکب ہونے لگے۔ 1988ء سے 1999ء تک وہ یہی کچھ کیا کرتے۔ 2007ء میں پاکستان واپسی کے بعد‘ شریف خاندان شیخ صاحب کو قبول کر لیتا تو آج اسی ولولے کے ساتھ عمران خان کی وہ کردار کشی کر رہے ہوتے‘ جیسی کہ شریف خاندان کی کرتے ہیں۔

شریف خاندان سے لوگ کتنے ہی تنگ آ چکے ہوں‘ بدھ کو اپوزیشن سے سردمہری کا مظاہرہ کرکے‘ واضع پیغام انہوں نے دیا ہے کہ عمران خان‘ علامہ طاہرالقادری‘ آصف علی زرداری اور شیخ رشید سے بھی وہ شاد نہیں۔ ہر وہ شخص جسے اللہ نے آنکھیں عطا کی ہیں‘ دیکھ سکتا ہے کہ لاہور میں تحریکِ انصاف اسی طرح زوال پذیر ہے‘ جیسے 2013ء میں یکایک کراچی میں ابھرنے کے بعد تحلیل ہونے لگی تھی۔ ایک دن وہ تھا کہ مینار پاکستان پر لاکھوں انسان عمران خان کی ایک جھلک دیکھنے امڈ آئے تھے۔ بدھ کو ان کی تعداد پانچ ہزار سے زیادہ نہ ہو سکی۔ پندرہ برس سے میڈیا چینل پل پل کی خبر ووٹروں کو دے رہے ہیں۔ محض شعبدہ بازی سے اب انہیں لبھایا نہیں جا سکتا۔ ہر آدم زاد کو اللہ نے 1300 سی سی کا دماغ بخشا ہے۔

خلقِ خدا پروگرام اور منشور طلب کرتی ہے۔ کسان اس امر کی ضمانت چاہتے ہیں کہ اچھا بیج اور کم قیمت پر کھاد انہیں میسر آئے گی۔ ملاوٹ کے بغیر کرم کش ادویات ملیں گی۔ پٹواری ان کا لہو نہ چوسے گا۔ سرمایہ کار بہترین کاروباری مواقع کا آرزومند ہے۔ تگ وتاز کا میدان کھلا ہو۔ سرکاری کارندے اسے بلیک میل نہ کریں۔ کارخانہ نصب کرنے یا ہوٹل کھولنے کے لیے کسی دربار میں حاضری نہ دینی پڑے۔ صنعتی مزدور اور کاریگر دربدر ہیں۔ کوئی ان کا حال پوچھنے والا ہی نہیں۔ کوئی عدالت انہیں انصاف نہیں دیتی۔ اوّل تو قوانین ہی ناقص ہیں اور جو ہیں‘ طاقت ور لوگ ان میں سوراخ کرکے نکل جاتے ہیں۔ کبھی کسی سیاسی پارٹی نے ان کے مصائب پر غور کیا؟

خلقِ خدا‘ اچھی پولیس‘ جدید سول سروس اور فیصلہ کن عدالت چاہتی ہے۔ وہ چاہتی ہے کہ محلات زمیں بوس ہوں اور حاکم انسانوں کی طرح جینا اور بسر کرنا سیکھیں۔ ان کی خواہش ہے کہ ایک مہذب نوکرشاہی‘ دربار داروں کی جگہ لے۔

سیاسی پارٹیوں کے پاس چیخ و پکار کے سوا‘ کردار کشی کی مہمات کے سوا کچھ بھی نہیں۔ لوحِ زماں پہ عبارتیں بدلتی رہتی ہیں۔ وقت کی تحریر جو لوگ نہیں پڑھ سکتے‘ زمام کار ان کے حصے میں نہیں آتی۔ وقت کا بے رحم دھارا انہیں کچلتے ہوئے گزر جایا کرتا ہے۔

اللہ ان پہ رحم کرے‘ ساری کی ساری سیاسی قیادت ازکارِ رفتہ ہوتی دکھائی دیتی ہے۔ بینر پہ لکھے حرفِ خوشامد پہ جو خوش ہے/ دیوار پہ لکھی ہوئی تحریر بھی دیکھے۔