احتساب عدالت کو نوازشریف کے خلاف نیب ریفرنسز کا فیصلہ 24 دسمبر تک سنانے کا حکم

07 دسمبر 2018

ehatasab adalat ko Nawaz Sharif ke khilaaf neb rifrnsz ka faisla 24 decemeber tak sunanay ka hukum

اسلام آباد: سپریم کورٹ نے احتساب عدالت کو نوازشریف کےخلاف العزیزیہ اور فلیگ شپ ریفرنسز کا فیصلہ 24 دسمبر تک سنانے کا حکم دے دیا۔

احتساب عدالت کے جج ارشد ملک نوازشریف کے خلاف العزیزیہ اور فلیگ شپ ریفرنسز کے ٹرائل کی مدت میں آٹھویں بار توسیع کے لیے درخواست کی۔

سپریم کورٹ نے احتساب عدالت کے جج کی درخواست کو فوری سماعت کے لیے مقرر کرتے ہوئے نوازشریف کے وکیل خواجہ حارث کو عدالت طلب کرلیا۔

اس دوران احتساب عدالت میں نوازشریف کے خلاف العزیزیہ اسٹیل مل ریفرنس کی سماعت میں وقفہ کردیا گیا جب کہ جج نے نوازشریف کو عدالت سے جانے کی اجازت دے دی۔

چیف جسٹس پاکستان Pakistan کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے احتساب عدالت کے جج کی درخواست پر سماعت کی، اس دوران نوازشریف کے وکیل خواجہ حارث بھی عدالت میں موجود تھے۔

جسٹس ثاقب نثار نے خواجہ حارث پر برہمی کا اظہار کیا اور اس دوران دونوں میں گرما گرم بحث ہوئی۔

چیف جسٹس نے مکالمہ کیا کہ خواجہ صاحب کونسی الف لیلیٰ کی کہانی تیار کرنی ہے، آپ نے ساری قوم اور عدلیہ کو محصور بنا کر رکھا ہوا ہے، کیوں آپ اس کیس کو لٹکانے کی کوشش کرتے ہیں۔

خواجہ حارث نے چیف جسٹس سے استفسار کیا کہ کیا آپ کو کوئی شکایت موصول ہوئی ہے؟ اس پر چیف جسٹس نے کہا کہ جی شکایت نہیں لیکن ایسا تاثر ضرور دیا جا رہا ہے۔

جسٹس ثاقب نثار نے کہا کہ یہ ہے آپ کی وکالت،کیوں معاملہ لٹکا رہے ہیں، کیسے بڑے وکیل ہیں آپ، اس پر خواجہ حارث نے جواباً کہا کہ میں نے کبھی بڑا وکیل ہونے کا دعویٰ نہیں کیا۔

چیف جسٹس نے خواجہ حارث سے کہا کہ اگر آپ وقت پر کام مکمل نہیں کرسکتے تو کیس لیا ہی نا کریں، نوازشریف کے وکیل نے جواب دیا کہ اگر آپ کو ایسا لگتا ہے تو مقدمہ چھوڑ دیتا ہوں، میرے خیال سے یہ کہنا مناسب نہیں ہے کہ میں معاملہ کھینچ رہا ہوں۔

جسٹس ثاقب نثار نے مزید مکالمہ کیا کہ آپ ہمیشہ عدالت پر غصہ کر جاتے ہیں، آپ مقررہ مدت تک اپنی بحث مکمل کریں۔

خواجہ حارث نے مؤقف اپنایا کہ میں نہیں کر سکوں گا، چیف جسٹس نے کہا کہ اب آپ کیس چھوڑنے کی بات کررہے ہیں یہ بھی تاخیری حربہ ہے۔

نوازشریف کے وکیل نے چیف جسٹس سے کہا کہ میرے لیے ممکن نہیں اور نہ میرے پاس آپ جیسی توانائی ہے، اس پر جسٹس ثاقب نثار نے استفسار کیا کہ خواجہ صاحب آپ بتائیں کب تک بحث مکمل کر لیں گے؟ہمیں تاریخ دیں آپ کس دن اور کتنے بج کر کتنے منٹ تک بحث مکمل کریں گے؟

اس پر خواجہ حارث نے کہا کہ میں 17 دسمبر شام 4 بجے تک بحث مکمل کرلوں گا۔

خواجہ حارث کے مؤقف پر عدالت نے انہیں 17 دسمبر کی شام 4 بجے تک دلائل مکمل کرنے کی ہدایت کی اور احتساب عدالت کو ریفرنسز کا فیصلہ 24 دسمبر تک سنانے کا حکم دیا۔

عدالت نے کہا کہ 4 دن احتساب عدالت کو فیصلہ لکھنے کیلئے دے رہے ہیں، احتساب عدالت 24 دسمبر تک فیصلہ سنائے۔

سماعت کے اختتام پر چیف جسٹس نے خواجہ حارث سے مکالمہ کیا کہ خواجہ صاحب ہم نے آپ کی بات مان لی ہے، اب آپ بھی اس مقدمے کو جلد نمٹانے کی کوشش کریں۔

نیب ریفرنسز کا پسِ منظر

سپریم کورٹ کے پاناما کیس سے متعلق 28 جولائی 2017 کے فیصلے کی روشنی میں نیب نے شریف خاندان کے خلاف 3 ریفرنسز احتساب عدالت میں دائر کیے، جو ایون فیلڈ پراپرٹیز، العزیزیہ اسٹیل ملز اور فلیگ شپ انویسٹمنٹ سے متعلق ہیں۔

نیب کی جانب سے ایون فیلڈ پراپرٹیز (لندن فلیٹس) ریفرنس میں سابق وزیراعظم نواز شریف، ان کے بیٹوں حسن اور حسین نواز، بیٹی مریم نواز Maryam Nawaz اور داماد کیپٹن ریٹائرڈ محمد صفدر کو ملزم ٹھہرایا گیا تھا۔

اس کیس میں احتساب عدالت کی جانب سے 6 جولائی کو نواز شریف، مریم نواز Maryam Nawaz اور کیپٹن (ر) صفدر کو سزا سنائی گئی تھی اور وہ اڈیالہ جیل میں قید تھے، تاہم 19 ستمبر کو اسلام آباد ہائیکورٹ نے تینوں کی سزائیں معطل کرکے انہیں رہا کرنے کا فیصلہ سنا دیا۔

ایون فیلڈ ریفرنس میں نواز شریف Nawaz Sharif اور دیگر کی سزا معطلی اور بریت کی درخواستوں پر اسلام آباد ہائیکورٹ میں بھی اپیلیں زیرِسماعت ہیں۔

العزیزیہ اسٹیل ملز اور 15 آف شور کمپنیوں سے متعلق فلیگ شپ انویسٹمنٹ ریفرنس میں نواز شریف Nawaz Sharif اور ان کے دونوں بیٹوں حسن اور حسین نواز کو ملزم نامزد کیا گیا ہے، جو اس وقت زیرِ سماعت ہیں۔

نواز شریف Nawaz Sharif کے صاحبزادے حسن اور حسین نواز اب تک احتساب عدالت کے روبرو پیش نہیں ہوئے جس پر عدالت انہیں مفرور قرار دے کر ان کا کیس الگ کرچکی ہے جبکہ نواز شریف Nawaz Sharif ٹرائل کا سامنا کر رہے ہیں۔

سپریم کورٹ نے پاناما کیس کے فیصلے میں احتساب عدالت کو 6 ماہ میں ریفرنسز پر فیصلہ سنانے کی ہدایت کی تھی تاہم عدالت کی مقرر کردہ مدت میں ریفرنسز مکمل نہ کیے جاسکے۔

 63