دوسرا دور

پاک امریکہ تعلقات کا ایک عہد ختم ہوا اور دوسرے کا آغاز ہونے والا ہے ۔
ان رابطوں کے علاوہ، اخبارات اور ٹیلی ویژن میں جن کا ذکر رہتا ہے،الگ سے مذاکرات کا ایک عمل خاموشی سے بھی جاری ہے ۔ چند باتیں طے شدہ ہیں ۔ ایک یہ کہ دونوں ملکوں کے مراسم اب کبھی اس سطح پہ بحال نہیں ہوں گے ، جیسے کبھی ماضی میں تھے ۔ کبھی پاکستان واشنگٹن کا ایک پرجوش اتحادی تھا۔وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ امریکہ پہ اسلام آباد کا انحصار بڑھتا گیا۔ پاکستان کی کمزوریوں کا عالمی طاقت نے ادراک کر لیا ۔ پے بہ پے تجربات سے پاکستانی قوم نے بھی دریافت کرلیا کہ مشکل حالات میں امریکہ پر انحصار نہیں کیا جا سکتا ۔

پاک امریکہ تعلقات کا ایک عہد ختم ہوا اور دوسرے کا آغاز ہونے والا ہے ۔

ان رابطوں کے علاوہ، اخبارات اور ٹیلی ویژن میں جن کا ذکر رہتا ہے،الگ سے مذاکرات کا ایک عمل خاموشی سے بھی جاری ہے ۔ چند باتیں طے شدہ ہیں ۔ ایک یہ کہ دونوں ملکوں کے مراسم اب کبھی اس سطح پہ بحال نہیں ہوں گے ، جیسے کبھی ماضی میں تھے ۔ کبھی پاکستان واشنگٹن کا ایک پرجوش اتحادی تھا۔وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ امریکہ پہ اسلام آباد کا انحصار بڑھتا گیا۔ پاکستان کی کمزوریوں کا عالمی طاقت نے ادراک کر لیا ۔ پے بہ پے تجربات سے پاکستانی قوم نے بھی دریافت کرلیا کہ مشکل حالات میں امریکہ پر انحصار نہیں کیا جا سکتا ۔

گزشتہ چند برس کے دوران عالمی منظر پہ سب سے بڑا انقلاب یہ ہے کہ چین ایک عالمی طاقت بن کر ابھرا ہے ۔ اب وہ دنیا کی دوسری بڑی معیشت ہے ۔ ایک ڈیڑھ عشرے میں وہ امریکہ کو مات دے سکتی ہے ۔ سفارتی مدبر ہنری کسنجر نے کہا تھا کہ امریکی دوستی اس کی دشمنی سے بھی زیادہ خطرناک ہے۔ اس کے برعکس چین کم از کم مداخلت کرنے والا ملک ہے ۔ ان کی ترجیح معاشی فتوحات ہیں ، سیاسی اور عسکری برتری نہیں ۔ تازہ ترین مثال یہ ہے کہ ہرچند چینی کمپنیوں اور لیڈروں سے شریف خاندان کے قریبی مراسم ہیں لیکن پاکستان کے حالیہ سیاسی ہنگامے سے یکسر وہ لا تعلق رہا ۔ اوّل دن سے چینیوں کی فرمائش یہ تھی کہ تجارتی راہداری سے متعلق معاملات میں پاکستانی فوج کو شریک رکھا جائے ؛تاہم انہوں نے ایک دوسرے سے نبرد آزما شریف خاندان کی پیٹھ ٹھونکی اور نہ عسکری قیادت کی ۔امریکہ تو رہا ایک طرف ، ترکی اور برطانیہ نے بھی فوجی قیادت سے رابطہ کیا اور شریف خاندان کے ساتھ نرم سلوک کی درخواست کی ۔ چینی خاموش رہے اور یہ ان کی بہت بڑی قوت ہے ۔ امریکی اپنے استعماری گھمنڈ کو آسودہ کرنے کی کوشش کرتے ہیں اور اب تو ڈونلڈ ٹرمپ سمیت امریکی عہدیداروں نے کھلے عام پاکستان کو دھمکیاں دینا شروع کی ہیں ۔ ان کے طرزِ احساس پر غالباً نائن الیون کے فوراً بعدہونے والے فیصلوں کاتاثر برقرار ہے ۔ صدر ٹرمپ نے غالباً یہ اندازہ لگایا کہ جس طرح اس وقت پاکستا ن کو بلیک میل کر لیا گیا تھا ، اب بھی کر لیا جائے گا ۔ بدلے ہوئے حالات کا وہ اندازہ نہ کر سکے ۔

شہباز شریف کا شمار دانا لوگوں میں نہیں ہوتا لیکن ایک بات وہ بالکل ٹھیک کہتے ہیں ۔ علانیہ نہیں، نجی محفلوں میں کہ امریکہ سے پنڈ چھڑائے بغیر پاکستان ترقی نہیں کر سکتا ‘ مستحکم اور خوشحال نہیں ہو سکتا ۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ امریکہ پاکستان کو انحصار کرنے والا ایک کمزور ملک دیکھنا چاہتا ہے۔ چین کو محدود کرنے کی خواہش میں اس کی تمنا یہ ہے کہ بھارت کو علاقے کا تھانیدار بنا دیا جائے ۔ اس باب میں امریکی خواہش اتنی منہ زور ہے کہ وہ بھارت کو افغانستان میں ایک بڑا کردار سونپنے پر بضد ہے۔ اسی لیے افغان سرزمین سے پاکستان میں کی جانے والی دہشت گردی کی کارروائیوں پر امریکی خاموش رہتے ہیں۔ آنکھیں بند کیے رکھتے ہیں ۔غلبے کے جنون میں مبتلا افراد کی طرح اقوام کا مسئلہ بھی یہ ہوتا ہے کہ رفتہ رفتہ فکر و دانش سے وہ محروم ہوتے چلے جاتے ہیں ۔ زعم اور تکبر توازن کو تحلیل کر دیتا ہے ۔ 2001ء نہیں ، یہ 2017ء ہے۔ صاف صاف چینی قیادت نے پاکستان کو اشارہ دیا ہے کہ اگر امریکہ نے اس کی معیشت کو تباہ کرنے کی کوشش کی تو چین اس کی مدد کو آئے گا ۔ کسی نہ کسی درجے میں خود امریکی اداروں ، خاص طور پر پنٹا گان میں یہ احساس جنم لے چکا ہے کہ پاکستان کے ساتھ تعلقات مزید نچلی سطح پر نہیں جانے چاہئیں ۔ اسی لیے افغانستا ن میں تعینات امریکی جنرل نے جنرل باجوہ سے رابطہ کیا ۔ جواب میں جو بات سپہ سالار نے ان سے کہی، وہی پاکستانی موقف کا خلاصہ ہے ۔ 1۔ ''را ‘‘ اور این ڈی ایس کو پاکستان میں تخریب کاری سے روکا جائے ۔ اس مقصد کے لیے انہیں افغان سرزمین استعمال کرنے کی اجازت نہ دی جائے ۔ 2۔ تیس لاکھ افغان مہاجرین کو واپس لے جانے کا بندوبست کیا جائے ، جو ہماری معیشت پر ایک بڑا بوجھ ہیں اور جن کے پاس سرحد پار سے آنے والے پناہ لے سکتے ہیں ۔ 3۔ مقبوضہ کشمیر میں بھارتی مظالم پر امریکہ اپنی خاموشی ختم کرے ۔ وہی طرزِ عمل اختیار کرے جو ماضی میں اس کا شعار رہا ہے ۔

افغان مہاجرین کی واپسی کا مطالبہ پاکستان کا سب سے بڑا جوابی کارڈ ہے۔ دنیا کا کوئی ملک اس دلیل کو جھٹلا نہیں سکتا کہ 2400کلومیٹر پر پھیلی ہوئی افغان سرحد سے طالبان لیڈر ، ہوٹلوں میں نہیں افغان مہاجرین کے پاس پناہ پاتے ہیں ۔ اسلام آباد میں اگر کوئی ہوشمند حکمران ہوتا ، وزارتِ اطلاعات اگر زندہ ہوتی ، یورپ اور امریکہ کے اخبارات میں اپنا موقف اگر وہ شائع کر اسکتی تو امریکہ کے ہوش ٹھکانے آجاتے ۔ وزارتِ اطلاعات مگر مری پڑی ہے ۔ ایک ایسی خاتون کو یہ منصب سونپا گیا ہے ، جن کے خیال میں عمران خان کی کردارکشی ان کا واحد فریضہ ہے ۔ پاکستان کا وزیرِ اعظم ایک ایسا شخص ہے ، جو یہ سمجھتا ہے کہ یہ منصب اسے خیرات میں ملا ہے ۔ حقائق سے با خبر ہونے کے باوجود ہمیشہ یہ فکر اسے لاحق رہتی ہے کہ اس کا آقائے ولی نعمت اس سے ناراض نہ ہو جائے ۔

پاکستان کے پاس ''را‘‘ اور این ڈی ایس کی مداخلت کے دستاویزی شواہد بھی موجود ہیں ۔ بعض سفیروں کو وہ دکھائے بھی گئے ہیں ۔ عالمی پریس میں ان کا چرچا بھی کیا جا سکتا ہے مگر کون کرے۔ جیسا کہ عرض کیا ، اطلاعات کی وزارت تو نیم جان ہے اور ظاہر ہے کہ یہ عسکری قیادت کے بس کی بات نہیں ۔

گھمنڈ اور زعم کے عالم میں صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے جو وار پاکستان پہ کیا ہے ، اسے انہی پر الٹایا جا سکتا ہے ۔ امریکی رائے عامہ کو بتایا جا سکتا ہے کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پاکستان نے 70ہزار زندگیاں قربان کی ہیں ۔ امریکی فوجیوں کے مقابلے میں ، انتہا پسندوں سے نبرد آزما دو گنا پاکستانی فوجی شہید ہوئے ہیں ۔ کچھ اور نہیں تو امریکی اخبارات میں اشتہار دے کر دانشوروں سے یہ پوچھا جا سکتا ہے کہ اس کے باوجود پاکستانی قوم کی توہین کیوں ہے ۔ سلیقہ مندی سے یہ سوال بھی اٹھایا جا سکتا ہے کہ کیا امریکی افواج ایک آزاد ملک پہ قبضے کی مرتکب نہیں ہوئیں ؟ اگر اس خیال کو قابلِ عمل پایا جائے اور وفاقی وزارتِ اطلاعات میں اگر کوئی پڑھا لکھا آدمی موجود ہو تو انیسویں صدی کے وسط میں ابرہام لنکن کی ان تقاریر کا حوالہ دیا جا سکتا ہے جو میکسیکو سے چھیڑ چھاڑ پر انہوں نے پارلیمنٹ میں کی تھیں ۔

وہ تو مگر راکھ کا ایک ڈھیر ہے ۔ حکومت ہی کا کیا ذکر کہ شریف خاندان کے مفادات اس کی سب سے بڑی ترجیح ہیں اور میاں محمد نواز شریف امریکہ کو ناراض نہیں کر سکتے ۔ اپوزیشن کا حال بھی پتلا ہے ۔ آصف علی زرداری واشنگٹن کی خوشنودی کے آرزومند رہتے ہیں ۔ ایک چھوٹا سا کاروباری آدمی ، جو ایک سیاستدان سے بیاہ کر کے کھربوں روپے جمع کر چکا ۔ کپتان کا عالم یہ ہے کہ اس کے نزدیک شریف خاندان کی مخالفت اور مذمت ہی جہادِ اکبر ہے ۔ عالمی رائے عامہ کو پاکستان کے حق میں ہموار کرنے کی ذمہ داری اس نے کبھی محسوس نہیں کی ۔ اقتدار تو وہ سنبھالنا چاہتا ہے لیکن اس کا خیال یہ ہے کہ فرائض تب عائد ہوں گے جب وہ وزیرِ اعظم بن جائے گا ۔ اس سے پہلے قوم کا دکھ درد اس کا مسئلہ نہیں ۔ اسی لیے نہ وہ تحریکِ آزادی ٔ کشمیر کے بارے میں فکر مند ہوتا ہے اور نہ افغانستان سے ہونے والی تخریب کاری پہ ۔ سادہ لوحی کی انتہا ہے ۔ بہرحال انکل سام کے غلبے سے جان چھوٹنے والی ہے ۔ پاک امریکہ تعلقات کا ایک عہد ختم ہوا اور دوسرے کا آغاز ہونے والا ہے ۔