Add new Article

صحافت اور آج کی سوشل میڈیا

contentModel.content.description

آج کل ہر بندہ صحافی اور تجزیہ نگار بنا ہوا ہے۔جس کو دیکھو تجزیہ نگار بنا بیٹھا ہے۔آج کا دور سوشل میڈیا کا دور بن گیا ہے سوشل میڈیا وہ بلا ہے جس میں آپ کسی کو بھی ایک دن میں ہیرو اور اگلے لمحے زیرو بنا سکتے ہیں۔

ابھی کل ہی کی بات ہے اسلام آباد ایکسپریس وے پر ایک بس کسی خاتون ڈاکٹر کی گاڑی کو زرا سی لگ گئی جس کا خمیازہ بہت سے لوگوں کو چکانا پڑ گیا۔ خاتون نے سڑک بلاک کر دی اور موبائل نکال کر اس بس والے ڈرائیور کی ویڈیو بنانا شروع کر دی تاں کہ سوشل میڈیا پر ویڈیو ڈال کر ڈرائیور کو منطقی انجام تک پہنچا دوں۔اب غلطی ان دو لوگوں کی اور سزا باقیوں کو ٹریفک جام کی صورتحال میں بھگتنا پڑی۔

خیر بات کہاں سے کہاں نکل گئی بات ہو رہی تھی صحافت اور سوشل میڈیا کی۔

مٰیں تحریک انصاف کا کا رکن ہوں پر سوشل میڈیا پر آج کل جس طرح تحریک انصاف کے کارکنوں نے گالم گلوچ اور بدتمیزی شروع کی ہوئی کبھی کبھی تو مجھے شرم آنے لگتی کہ میں تحریک انصاف کا کارکن ہوں۔سوشل میڈیا کا ٹرینڈ تحریک انصاف نے شروع کیا اور اس کو عروج مریم نواز کی سوشل میڈیا سیل نے دیا۔ آج کل سوشل میڈیا پر جو تحریک انصاف کے کارکن نظر آرہے ہوتے آدھے تو ن لیگ کے کارکن ہوتے جو تحریک انصاف کے کارکن بن کر اپنا کام پورا کر لیتے پر اس میں آدھا قصور ہماری تحریک انصاف کی ٹیم کا بھی ہے جو عمران خان پر زرا سے تنقید برداشت نہیں کرتے اور وہ بھول جاتے ہیں کہ اب ہم حکومت میں ہیں۔

اگلے دن محترم ہارون الرشید صاحب نے اپنی طبعیت کے حوالے سے ٹوئیٹ کیا جس پر لوگوں کے تبصرے پڑھ کر افسوس ہوا ایک صاحب نے تو یہاں تک لکھ ڈالا کہ آپ مر کیوں نہیں جاتے ۔

افسوس سے کہنا پڑ رہا ہے سوشل میڈیا کی ٹیم بدتمیز اور بد اخلاق ہوگئی ہے۔کیا ہمیں دوسروں کو گالیاں اور مرنے کا مشورہ اس وجہ سے دینا پڑ رہا کہ انہوں نے عمران خان کے غلط فیصلوں پر ان کی تعریف نہیں کی۔یہ وہی ہارون الرشید ہیں جنہوں نے عمران خان کا تب ساتھ دیا جب کوئی سوچ بھی نہیں سکتا تھا کہ عمران خان وزیراعظم بن سکتا ہے۔پہلے ہارون الرشید اور رؤف کلاسرا جیسے صحافی ہمیں اس لیے اچھے لگتے تھے کہ وہ حکومت پر تنقید کرتے تھے آج اس لیے برے لگنے لگے کہ وہ عمران خان پر تنقید کر رہے حالانکہ ہم جانتے بھی ہیں کہ انہوں نے ہمیشہ ہر حکومت کی سکینڈل بریک کیے ہیں۔

اگر کل وہ آپ کو اچھے لگتے تھے تو آج بھی لگنے چاہیے ہمیں ان سے کسی بات پر اختلاف ضرور ہوسکتا پر اس کا مطلب یہ نہیں کہ پوری سوشل میڈیا ان کو گالیاں دینا شروع کر دے ہمیں پتا بھی ہے کہ گالیاں دے کر گنہاہ گار ہم ہو رہے ان کا کچھ نہیں بگڑ رہا۔

تحریک انصاف کارکنوں کو ایک بات سمجھ لینی چاہیے کہ اب ہم حکومت میں ہیں ہمیں جواب منہ سے نہیں کاکردگی سے دینا ہے نہ کے تجزیہ نگار بن کر دوسروں کو گالیاں دینے سے۔

تحریک انصاف کے سب کارکن بھی غلط نہیں ہیں اچھے کارکنوں کا بھی ذکر کروں گا جو حکومت کے اچھے کاموں کی دل سے تعریف کرتے اور غلط کاموں کی کھل کر تنقید کرتے ہیں ان کو سلام ہے میرا۔صحافیوں کا کام حکومت کی غلط پالیسیوں پر تنقید کرنا ہوتا ہے مقصد اتنا ہوتا ہے کہ حکومت کو ان مسائل کا پتا لگ جائے جن مسائل کا ان کو پتا نہیں ہوتا۔صحافی کل بھی تنقید کرتے تھے آج بھی کر رہے ہیں ہر صحافی کرپٹ نہیں ہوتا پر ہمیں کوئی حق نہیں پہنچتا گالیوں کا ہمارا جواب صرف کارکردگی ہوگی۔

آخر میں اپنے تحریک انصاف کے کارکن بھائیوں کو اتنا کہوں گا خدارا گالم گلوچ سے پرہیز کریں اس میں گناہ ہمیں ملنا ہے۔ہم حکومت میں ہیں ہمیں اپنے ارد گرد کے مسائل پر توجہ دینی چاہیے تاں کہ وہ مسائل ہم اپنی حکومت تک پہنچا کر اس مسائل کا خاتمہ کر سکیں۔آخر میں دوبارہ کہوں گا کہ ہم حکومت میں ہیں ہمیں اپنی کارکردگی سے مخالفین کو جواب دینا ہوگا ناں کہ گالم گلوچ سے۔