برکھا دت مودی کی جانب بھی توجہ دیں

برملا - نصرت جاوید

06 دسمبر 2018

barkha dt moodi ki janib bhi tawajah den

بھارتی Indian صحافی برکھادت پاکستان Pakistan میں بھی خاصی مشہور ہیں۔کارگل کی جنگ کے دوران CNNکی کرسٹینا امان پور کے انداز میں محاذِ جنگ سے رپورٹنگ کی۔مقبوضہ کشمیر کی صورت حال پر گہری نگاہ رکھتی ہیں۔ ان امور پر توجہ دینے کی وجہ سے انہیں پاک۔بھارت India امور کا ایک ماہر تبصرہ نگار بھی سمجھا جاتا ہے۔حال ہی میں وہ کرتار پور راہداری کی افتتاحی کی تقریب میں شرکت کے لئے پاکستان Pakistan تشریف لائیں اور انہیں اپنے ملک سے آئے صحافیوں کے ہمراہ وزیر اعظم Prime Minister عمران خان Imran Khan صاحب سے خصوصی گفتگو کا موقعہ بھی ملا۔

غالباََ اس دورے اور وزیر اعظم Prime Minister پاکستان Pakistan سے ملاقات کے بعد وہ امریکی روزنامہ ’’واشنگٹن پوسٹ‘‘ کے لئے ایک خصوصی تحریر لکھنے کو مائل ہوئیں۔ ان کا لکھا کالم سوشل میڈیا پر بھی بہت مقبول ہوا ہے۔ میرے کئی دوستوں نے اسے فیس بک پر شیئر کیا یا ٹویٹر کے ذریعے ری ٹویٹ کیا۔

پاک-بھارت India تعلقات پر نظر رکھنا میری بھی پیشہ وارانہ عادت ہے۔حیران کن حقیقت مگر یہ بھی ہے کہ میں نے برکھادت کے مذکورہ کالم کو پڑھنے کا تردد ہی نہیں کیا۔میری عدم دلچسپی کی وجہ اس کا عنوان تھا جس کے ذریعے بھارتی Indian وں کو یہ باور کروایا گیا تھا کہ اگر وہ واقعتا پاکستان Pakistan کے ساتھ تعلقات کو معقول حد تک معمول کی سطح پر لانے کے بعد دیرپا امن کے قیام کے لئے سنجیدہ ہیں تو پاکستان Pakistan کے وزیر اعظم Prime Minister عمران خان Imran Khan صاحب ان کے لئے "Best Bet"ثابت ہوسکتے ہیں۔

"Best Bet"کے جو معنی اس کالم کے عنوان کے حوالے سے میرے ذہن میں آئے ان کا اظہار مناسب نہیں سمجھتا۔ بہتر یہی ہے کہ میرے قاری آزاد ذہن کے ساتھ اپنی کوئی رائے بنائیں۔عمران خان Imran Khan کو بہترین Betٹھہراتے ہوئے برکھادت نے تاہم اس پر بہت زور دیا ہے کہ پاکستان Pakistan آرمی ان پر مکمل بھروسہ کرتی ہے۔

ان کے کالم کے تعارفی عنوان میں نمودار ہوئی اس دلیل کے سبب ہی میرا جھکی ذہن برکھادت کے مذکورہ کالم کو ’’واشنگٹن پوسٹ‘‘ کی ویب سائٹ پر جاکر تفصیل سے پڑھنے کی طرف مائل نہیں ہوا۔ صوفی تبسم کے ’’دیکھے ہیں بہت ہم نے …‘‘ اور باقی صدیقی کے ’’داغ دل ہم کو …‘‘ والے مصرعے یاد آگئے۔ ان مصرعوں کے سبب پھر یاد آیا 1998۔اس برس بھارت India اور پاکستان Pakistan نے بہت ڈرامائی انداز میں خود کو دنیا کے سامنے ایٹمی قوت کے حامل ممالک کے طورپر پیش کردیا تھا

ایٹمی دھماکے ہوگئے تو چند ہفتوں کے بعد ان دنوں کے بھارتی Indian وزیر اعظم Prime Minister اٹل بہاری واجپائی امرتسر پہنچ کر ایک بس میں سوار ہوئے اور لاہور تشریف لے آئے۔ بھارتی Indian وزیر اعظم Prime Minister کے اس سفر نے انگریزی زبان میں خارجہ امور پر لکھنے والے ہمارے کئی ماہرین کو حیران وشاداں کردیا۔ کئی افراد کی جانب سے مسلسل لکھے مضامین کے ذریعے ہمیں سمجھایا گیا کہ چونکہ پاکستان Pakistan اور بھارت India اب ایٹمی قوت کے حامل ملک ثابت ہوچکے ہیں لہذا ان دونوں کے مابین اب جنگ ممکن نہیں رہی۔ چونکہ جنگ کے امکانات معدوم ہوچکے ہیں اس لئے ان ممالک کے قائدین کو باہمی مذاکرات کے ذریعے دیرپاامن کے راستے تلاش کرنا ہوں گے۔

کہانی یہاں ختم نہیں ہوا کرتی تھی۔ ہمیں یہ بھی سمجھایا جاتا کہ نواز شریف Nawaz Sharif اور اٹل بہاری واجپائی ہی وہ رہ نما ہیں جو پاکستان Pakistan اور بھارت India کے مابین دائمی امن کو یقینی بناسکتے ہیں۔ اس ضمن میں دلیل یہ پیش کی جاتی کہ نواز شریف Nawaz Sharif پنجابی ہیں اور واجپائی ہندو انتہا پسند جماعت BJPکے نمائندے۔پنجاب اور BJPپاکستان Pakistan اور بھارت India میں جارحانہ یا شدت پسند سوچ کے حامی تصور ہوتے ہیں۔اگر وہ دونوں کسی سمجھوتے پر راضی ہوجاتے تو کسی اور جانب سے ان کی شدید مخالفت کی گنجائش موجود نہ رہتی۔

ذات کا محض ایک رپورٹر ہوتے ہوئے میں بارُعب انگریزی زبان میں پیش کئے ان دلائل کا مؤثر جواب فراہم نہیں کرسکتا تھا۔ چپ رہا لیکن کارگل ہوگیا اور ہم آنے والی تھاں پر واپس آگئے۔ کارگل ہی کی وجہ سے نواز شریف Nawaz Sharif اور پاکستان Pakistan کی عسکری قیادت کے درمیان بدگمانیوں نے جنم لیا۔ان بدگمانیوں میں آئی شدت کی بدولت 12اکتوبر1999ء ہوگیا۔ جنرل مشرف نے اقتدار سنبھال لیا۔

جنرل مشرف کے اقتدار سنبھالنے کے بعد تقریباََ ایک سال تک بھارت India پاکستان Pakistan سے باہمی تعلقات کے ضمن میں سردمہر رہا۔ سن2000 کا آغاز ہوتے ہی لیکن واجپائی صاحب نے سرکاری امور سے رخصت لے کر تنہائی میں لکھی ایک چٹھی کے ذریعے جنرل مشرف کو آگرہ میں مذاکرات کے لئے مدعو کرلیا۔

واجپائی کی چٹھی آئی تو ایک بار پھر پاکستان Pakistan اور بھارت India کے میڈیا میںانگریزی زبان میں لکھے مضامین کے ذریعے ہمیں خارجہ امور کی نفاستیں ،پیچیدگیاں اور امکانات سمجھانے والوں نے یہ دلائل گھڑنا شروع کردئیے کہ پاکستان Pakistan کے مخصوص حالات کے سبب کوئی سیاستدان بھارت India سے مذاکرات کی جرأت دکھانے سے محروم ہے۔ جنرل مشرف جیسا وردی میں ملبوس حکمران ہی BJPکی انتہا پسند قیادت سے مذاکرات کی جرأت دکھا سکتا ہے۔

یہ دلائل دیتے ہوئے اکثر صدر نکسن کا ذکر بھی ہوتا رہا۔ جو کمیونسٹ دشمنی میں مشہور ری پبلکن پارٹی کا نمائندہ تھا لیکن مائوزے تنگ کے چین China کے ساتھ تعلقات استوار کرنے کا باعث ہوا۔آگرہ Summitمگر ناکام ہوگئی۔

میں اس سمٹ کے آغاز سے دس دن پہلے بھارت India پہنچ گیا تھا۔ سمٹ ناکام ہونے کے دو ہفتے بعد تک وہیں رہا۔ اس سمٹ کی ناکامی کے تقریباََ سارے اسباب کا مجھے کافی علم ہے لیکن وہ اس کالم کا موضوع نہیں۔

اس سمٹ کی ناکامی کے بعدبھی 2004ء میں واجپائی سارک سربراہ کانفرنس میں شرکت کے لئے اسلام آباد Islamabad تشریف لائے۔ اس کانفرنس کے دوران جنرل مشرف اور واجپائی کے درمیان مذاکرات کے ذریعے پاک-بھارت India امن کو یقینی بنانے کے لئے ایک تحریری معاہدے پر دستخط بھی ہوئے۔اس کانفرنس کے بعد واجپائی وطن لوٹے تو الیکشن ہارگئے۔ ان کے جانشین من موہن سنگھ کے ساتھ البتہ مشرف حکومت کے مذاکرات جاری رہے۔ خاطر خواہ نتیجہ برآمد نہ ہوا اور بالآخر مشرف صاحب بھی عدالتی تحریک کی وجہ سے اپنا اقتدار برقرار نہ رکھ پائے۔ان کی ایوان صدر سے رخصتی کے بعد آصف علی زرداری پاکستان Pakistan کے صدر منتخب ہوئے تو بمبئی والا واقعہ ہوگیا۔ اس واقعہ کے بعد سے اب تک من موہن سنگھ کی جگہ مودی اور پیپلز پارٹی کی جگہ نواز شریف Nawaz Sharif کے آنے کے باوجود پاک-بھارت India تعلقات میں معقولیت والا معمول بھی دیکھنے کو نہیں مل رہا۔

1998 ء سے 2018ء تک پہنچتے ہوئے تبدیلی صرف پاکستان Pakistan میں وزیر اعظم Prime Minister کی صورت ہوئی ہے۔ بھارتی Indian انتخابات 4ماہ بعد ہونا ہیں۔ میرا ذاتی خیال ہے کہ نریندرمودی ان انتخابات کے بعد بھی وزیر اعظم Prime Minister کے منصب پر فائز رہے گا۔پاکستان Pakistan کے بارے میں اسکی سوچ میں تبدیلی کے امکانات مجھ کم علم کو نظر نہیں آرہے۔ فقط اس امکان کی وجہ سے برکھادت کا بیچا یہ چورن چکھنے سے بھی اجتناب برتا ہے کہ عمران خان Imran Khan صاحب ہی پاک بھارت India امن کو یقینی بناسکتے ہیں۔ پاکستان Pakistan کی عسکری قیادت کو یقینا ان کی نیت پر کامل بھروسہ ہے۔ تالی مگر دو ہاتھوں سے بجتی ہے۔مودی کی جانب سے عمران خان Imran Khan صاحب کے لئے صلح کا ہاتھ بڑھانا مجھے ممکن دکھائی نہیں دے رہا۔ برکھادت کو مودی کی جانب توجہ دے کر مجھے کچھ روشنی عطا کرنا ہوگی۔

 54