گناہِ بے لذت

قلم کمان - حامد میر

06 دسمبر 2018

gnahِ be lazzat

ہمارے اردگرد ذہنی مریضوں کی تعداد بڑھتی جا رہی ہے۔ اختلاف رائے پر آستینیں چڑھا کر للکارنا، گالی دینا، غداری کے الزامات لگانا اور کفر کے فتوے لگانا معمول بنتا جا رہا ہے۔ ہماری سیاست و صحافت میں بھی اختلاف رائے کی جگہ ذاتی دشمنی نے لے لی ہے حالانکہ ذاتی دشمنی پر اترنے والوں کی سیاست اور صحافت دیرپا نہیں ہوتی۔ عمران خان Imran Khan کو دیکھ لیجئے۔ بہت سے سیاسی و صحافتی پنڈت کہتے تھے کہ خان صاحب کبھی اس ملک کے وزیر اعظم Prime Minister نہیں بن سکتے لیکن وہ اپنے دشمنوں کی توپوں میں کیڑے ڈال کر وزیر اعظم Prime Minister بن چکے ہیں تاہم خود اُنہیں بھی اکثر یہ بھول جاتا ہے کہ وہ وزیراعظم بن چکے ہیں۔ عمران خان Imran Khan کی حکومت نے بمشکل سو دن مکمل کئے ہیں لیکن مخالفین نے ابھی سے یہ کہنا شروع کر دیا ہے کہ عمران خان Imran Khan کی حکومت اپنی مدت پوری نہیں کرے گی۔ خان صاحب اپنے مخالفین سے پیچھے کیسے رہ سکتے ہیں۔ انہوں نے بھی یہ اعلان کر دیا ہے کہ وہ وقت سے پہلے انتخابات کرا سکتے ہیں حالانکہ یہ بات کہنے کی فی الحال کوئی ضرورت نہ تھی۔ عمران خان Imran Khan وزیر اعظم Prime Minister بن کر بھی اپوزیشن لیڈر کی طرح تقریریں کر رہے ہیں اور نواز شریف Nawaz Sharif نااہل ہونے کے باوجود اپنی پُراسرار خاموشی کے ذریعہ سیاست میں واپسی کا راستہ تلاش کر رہے ہیں۔ نواز شریف Nawaz Sharif اور عمران خان Imran Khan میں ایک بہت بڑا فرق ہے۔ نواز شریف Nawaz Sharif نے حکومت سنبھالنے کے بعد تین سال تک اپنی کارکردگی کا کوئی حساب نہیں دیا۔ عمران خان Imran Khan اپنی حکومت کے پہلے تین ماہ کا زبردستی حساب دینے میں مصروف ہیں۔ نواز شریف Nawaz Sharif جب حکومت میں نہیں تھے تو بہت سے ٹی وی انٹرویو دیا کرتے تھے لیکن حکومت میں آنے کے بعد انہوں نے کسی پاکستانی ٹی وی چینل کو ایک بھی باقاعدہ انٹرویو نہیں دیا۔ ہاں کبھی کبھی وہ کچھ صحافیوں کو اپنے ساتھ غیرملکی دوروں پر لے جاتے اور واپسی پر جہاز میں اُن کے کیمروں پر کچھ گفتگو کر لیا کرتے تھے۔ عام طور پر یہ مہربانی ایسے دوستوں پر کی جاتی جو جنرل راحیل شریف کے قریب سمجھے جاتے تھے باقی خواتین و حضرات کو یہ کہہ کر ٹرخا دیا جاتا کہ جمہوریت ابھی بہت کمزور ہے اس لئے فی الحال آپ صبر کر کے جمہوریت سے اپنی محبت کا ثبوت دیں۔ دوسری طرف عمران خان Imran Khan کے پاس اپنی حکومت کے سو دن پورے ہونے کے بعد کہنے کو کچھ زیادہ نہیں تھا لیکن انہوں نے انٹرویو دینے کا فیصلہ کر لیا۔ مسئلہ یہ تھا کہ پہلا انٹرویو کسے دیا جائے۔ پہلے انٹرویو کی تاریخ اور وقت طے کر لیا گیا تو انہیں کہا گیا کہ اگر ایک چینل کو انٹرویو دیا تو دوسرا ناراض ہو جائے گا اس لئے بہتر ہے کہ پانچ چھ چینلز کو مشترکہ انٹرویو دیا جائے جس کی ریکارڈنگ پی ٹی وی کرے گا۔ جن اینکرز کو اس پینل انٹرویو میں شرکت کی دعوت دی گئی اُن میں سے بعض نے اعتراض کیا کہ پہلا انٹرویو تو ہمیں ملنا چاہئے تھا اس پینل میں باقی چینلز کیوں شامل ہو رہے ہیں؟ ایک خاتون اینکر نے اس پینل میں شامل ہونے سے انکار کر دیا اور صرف اپنے لئے انٹرویو پر اصرار کیا کیونکہ اُن کا خیال تھا کہ تحریک انصاف کو اقتدار دلانے میں ان کا کردار نظرانداز نہیں کیا جانا چاہئے۔ افسوس کہ اُن کا یہ خودساختہ کردار نظرانداز کر دیا گیا۔

نواز شریف Nawaz Sharif حکومت میں تھے تو میڈیا کے معاملے میں بہت محتاط تھے۔ خود نہیں بولتے تھے۔ دوسروں سے بلواتے تھے۔ عمران خان Imran Khan حکومت میں آنے کے بعد سب سے زیادہ بول رہے ہیں اور اپنے پہلے پینل انٹرویو میں انہوں نے اپنے پہلے سو دن کی کامیابیاں گنوانے کے بجائے کمزوریاں بیان کیں۔ سب سے بڑی کمزوری یہ بیان کی کہ اسٹیٹ بینک ان کو بتائے بغیر روپے کی قدر کو گرا دیتا ہے۔ میرا سوال یہ تھا کہ آپ کہتے ہیں روپے کے گرنے پر گھبرائیں مت لیکن یہ تو بتائیں کہ ہم کیوں نہ گھبرائیں؟ ان کے جواب نے پوری قوم کی گھبراہٹ میں مزید اضافہ کر دیا۔ اسی انٹرویو میں اُنہوں نے یہ دعویٰ بھی کر دیا کہ فوج تحریک انصاف کے منشور کے پیچھے کھڑی ہے۔ اُن کے الفاظ کا چنائو مناسب نہیں تھا۔ وہ یہ کہہ دیتے کہ سیاسی قیادت اور فوج ایک دوسرے کے ساتھ ہیں یا حکومت اور فوج ایک ہی صفحے پر ہیں تو مناسب رہتا۔ فوج کو اپنی پارٹی کے منشور کے پیچھے کھڑا کر کے انہوں نے فوج کے لئے مشکلات پیدا کردیں کیونکہ اپوزیشن کی طرف سے مطالبہ کیا جا رہا ہے کہ فوج اب وضاحت کرے۔ عمران خان Imran Khan کی طرف سے زلفی بخاری اور وزیر اعلیٰ پنجاب عثمان بزدار کے معاملے میں چیف جسٹس آف پاکستان Pakistan پر تنقید بھی غیرضروری تھی۔ خان صاحب کو سپریم کورٹ سے کوئی شکایت تھی تو بھی صرف سو دن کے بعد انہیں اس شکایت کا سرعام اظہار نہیں کرنا چاہئے تھا۔ کچھ لوگ اسے ان کی سادگی اور کچھ لوگ بے وقوفی کہیں گے لیکن یہ سوچئے کہ اگر خان صاحب چاہتے تو چیف جسٹس کے بارے میں اپنے ریمارکس کو سنسر کروا سکتے تھے کیونکہ یہ انٹرویو ریکارڈنگ کے چھ گھنٹے بعد نشر ہوا۔ وزیر اعظم Prime Minister کے ایک میڈیا منیجر کا خیال تھا کہ چیف جسٹس کے بارے میں کہے گئے ریمارکس کو حذف کرانے میں کوئی حرج نہیں تھا کیونکہ یہ انٹرویو سرکاری ٹی وی پر نشر ہونا تھا لیکن آخرکار فیصلہ ہوا کہ اس انٹرویو میں سے کچھ بھی سنسر نہیں ہو گا۔ پی ٹی وی پر اس انٹرویو کا سنسر نہ ہونا خوش آئند ہے لیکن عمران خان Imran Khan یاد کریں کہ جب عدلیہ کے بارے میں اس قسم کے بیانات پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ (ن) کے دور حکومت میں سامنے آتے تھے تو عمران خان Imran Khan فوراً عدلیہ کی آزادی کے علمبردار بن جاتے تھے۔ پی ٹی وی کے انٹرویو میں انہوں نے چیف جسٹس کے بارے میں جو کچھ کہا اس سے اُن کی حکومت کے بارے میں یہ تاثر ختم ہو گیا کہ اس حکومت کو تمام ریاستی اداروں کی مکمل تائید حاصل ہے۔ تحریک انصاف کی نفرت میں اندھے ہو کر الزامات لگانے والے یہ بھی کہتے تھے کہ عمران خان Imran Khan کو ایک سازش کے تحت اقتدار میں لایا گیا ہے اور چیف جسٹس بھی اس سازش میں شامل ہیں۔ عمران خان Imran Khan کے حالیہ ریمارکس نے اس سازشی مفروضے کی دھجیاں بکھیر دی ہیں۔ میں نے عمران خان Imran Khan سے بار بار پوچھا کہ آپ کے پاس این آر او دینے کا اختیار ہی نہیں تو پھر آپ سے این آر او کس نے مانگا ہے؟ خان صاحب کے پاس کوئی واضح جواب نہیں تھا۔

عمران خان Imran Khan نے نیب کی کارکردگی پر کھل کر عدم اطمینان ظاہر کیا۔ خبر یہ ہے کہ نیب فواد حسن فواد کے خلاف کوئی ٹھوس ثبوت حاصل نہیں کر پائی اور اگر فواد حسن فواد کے خلاف ثبوت نہیں ملا تو فائدہ کس کس کو ہونے والا ہے آپ خود سمجھ دار ہیں۔ خان صاحب نیب قوانین میں کچھ تبدیلیاں کرنا چاہتے ہیں، جنوبی پنجاب صوبہ بھی بنانا چاہتے ہیں لیکن اس کے لئے اُنہیں اپوزیشن کا تعاون درکار ہے۔ اپوزیشن نے تعاون کر دیا تو وسطی پنجاب صوبے میں تحریک انصاف کے بجائے مسلم لیگ (ن) کی حکومت بنے گی اور یہی وہ سوال تھا جس پر وزیر اعظم Prime Minister کی زبان سے یہ الفاظ نکلے کہ اگر ایسا ہوا تو میں وقت سے پہلے انتخابات کرا دوں گا۔ وہ بھول گئے کہ سندھ میں اُن کی حکومت نہیں ہے۔ سندھ میں وقت سے پہلے انتخابات کرانے کے لئے انہیں پیپلز پارٹی کی مدد چاہئے۔ خان صاحب کو ان کے حال پر چھوڑ دینا چاہئے۔ اُن سے ایک سال بعد سوال جواب ہوں تو بہتر ہو گا اس ایک سال میں اُنہیں سگریٹ نوشوں پر گناہ ٹیکس لگا کر خوش ہونے دیں، ایک سال میں انہوں نے معیشت سنبھال لی تو بہت اچھا ہو گا ورنہ یہ حکومت اُن کے لئے خود ہی گناہ بے لذت بننے والی ہے۔

 243