’’را‘‘ کا وار ۔۔۔۔۔۔ سدھو ہوشیار

ایک اور ایک - منیر احمد بلوچ

06 دسمبر 2018

'' raw' ' ka waar. .. .. . sidhu hooshiyar

دنیا بھر میں پھیلے ہوئے ہندو انتہا پسندوں کے ہزاروں کی تعداد میں کام کرنے والے سوشل میڈیا سیل اور بھارت India کے الیکٹرانک میڈیا پر راجستھان میں نوجوت سنگھ سدھو کے جلسے کے دوران چند ایک لوگوں کی جانب سے پاکستان Pakistan زندہ باد کے نعروں کی‘ جس قدر تشہیر کی جا رہی ہے‘ اسے'' انٹیلی جنس کی زبان میں SABOTAGE کہا جاتا ہے اور یہ کام بھارت India کی خفیہ ایجنسی راء انتہائی مہارت سے اس لئے کروا رہی ہے‘ تاکہ سدھو کی بڑھتی ہوئی عوامی مقبولیت اور کرتار پور راہداری کی سہولت دینے پر پاکستان Pakistan کی نیک خواہشات اور سکھوں کے دلوں میں اس کی محبت کو شکوک و شبہات میں تبدیل کیا جا سکے‘ نوجوت سنگھ سدھو ہو سکتا ہے کہ اپنی روانی یا بھولپن میں راء کے اس وار کو سمجھ نہ رہے ہوں‘ لیکن میں اپنے تجربے کی بنیاد پر انہیں خبردار کررہا ہوں کہ ان کے جلسوں اور ریلیوں میں پاکستان Pakistan زندہ باد کے نعرے راء کی پلاننگ سے لگوائے جا رہے ہیں‘ تاکہ ان نعروں کی آڑ میں اسے پاکستان Pakistan اور آئی ایس آئی کے ایجنٹ کی صورت میں پیش کرتے ہوئے ان کی بھارت India میں یک دم بڑھنے والی عوامی مقبولیت کو کم کیا جا ئے اور کرتار پور راہداری کھلنے سے بھارت India کے عام اور غریب سکھوں کے دلوں اور ذہنوں پر اس کے بارے ابھرنے والے ہمدردی اور قیا دت کے اثرات کو کم کیا جا سکے۔

کیپٹن امریندر سنگھ اور نریندر مودی narendra modi سمیت راشٹریہ سیوک سنگھ اور جنتا پارٹی کے نام سے اس کی انتخابی ٹیم سمیت اس وقت پورے بھارت India کا میڈیا کرتار پور راہداری کے نام سے نوجوت سنگھ سدھو کی بے تحاشا بڑھتی ہوئی مقبولیت سے خائف ہو چکا ہے اور بھارت India کی تمام خفیہ ایجنسیوں کی مدد سے ان کی بھر پور کوشش ہے کہ سدھو کو پاکستان Pakistan سے منسلک کرتے ہوئے اپریل 2019ء میںہونے والے عام انتخابات میں نریندر مودی narendra modi اور بھارتی Indian ہ جنتا پارٹی کو نئی دہلی ‘یو پی‘ مہاراشٹر‘ گجرات ‘ہریانہ سمیت پورے بھارت India میں ایک مرتبہ پھر تمام ہندوئوں کا نجات دہندہ اور پاکستان Pakistan کے سب سے بڑے دشمن کے روپ میں پیش کرتے ہوئے انتخابات میں کامیابی سمیٹی جا سکے۔ بھارت India کی اسٹیبلشمنٹ کسی طور بھی نہیں چاہے گی کہ بھارتی Indian پنجاب میں کوئی ایسی حکومت آ جائے‘ جو پاکستان Pakistan کیلئے ہمدردی اور خیر سگالی کے جذبات رکھتی ہواور وہ تو کسی بھی صورت میں قابل قبول نہیں ہو گی ‘جو ننکانہ صاحب‘ کرتار پور صاحب اور پنجہ صاحب حسن ابدال جیسے سکھوں کے مقدس ترین مقامات کی دل و جان سے حفاظت اور صفائی ستھرائی سمیت ان کی عظمت کیلئے ہر سہولت مہیا کر رہی ہو ۔ کسی دوسرے کو نہیں ‘بلکہ خاص طور پر کسی واہ گرو جی کے خالصہ کو و تو یہ بتانے کی ضرورت ہی نہیں کہ براہمن ‘جس قدر مسلمانوں اورخاص طور پر پاکستان Pakistan کا دشمن ہے؟ اس سے اگر زیا دہ نہیں تو تھوڑا سا کم سکھوں کا بھی اسی طرح مخالف اور دشمن ہے۔ مسلمانوں کے بعد اگر کسی قوم سے اسے ہر وقت خطرے کا سامنا رہتا ہے تو وہ سکھ دھرم سے تعلق رکھنے والے نانک جی کے سچے پرستار ہیں۔

الغرض ‘براہمنوں کی سکھوں کے مذہبی جذبات اور رسومات سے نفرت اور ناپسندیدگی کی حال ہی میں ایک چھوٹی سی مثال پڑھنے سے ہی اندازہ ہو جائے گا کہ عام سکھ تو دور کی بات ہے‘ سکھوں کیلئے انتہائی قابل احترام رائے بلار بھٹی‘ جنہوں نے سب سے پہلے با با جی گرو نانک کی کرامات اور بزرگی کا مشاہدہ کرتے ہوئے اقرار کیا اور پھر با با نانک جی کی جانب لوگ مائل ہونا شروع ہوئے۔اس رائے بلار نے اسی وقت اپنی جاگیر میں سے 750 مربع زمین با با جی گرو نانک کیلئے وقف کر دی تھی۔ اس رائے بلار کی تصویر کی نمائش کی اجا زت دینے سے انکار کر دیا۔ با با جی گرو نانک کے550 برس مکمل ہونے پر سکھ دھرم سے تعلق رکھنے والے دنیا بھر میں ایک جشن منارہے ہیں اور اس سلسلے میں گولڈن ٹیمپل‘ امرتسر کے میوزیم میں رائے بلار بھٹی کی تصویر کی تقریب رونمائی کیلئے شرومنی گردوارہ پربندھک کمیٹی کے چیئرمین کی جانب سے رائے بلار بھٹی کی نسل در نسل چلنے والی پیڑھی کے موجو دہ چشم و چراغ رائے محمد اکرم بھٹی صدر ڈسٹرکٹ بار ننکانہ اور ان کے بڑے بیٹے رائے سلیم اکرم بھٹی ایڈو کیٹ اور رائے بلال اکرم بھٹی کو بھارت India سمیت دنیا بھر کے سکھوں کی جانب سے رائے بلار کی تصویر کی نقاب کشائی کیلئے خصوصی طور پر بلا وا بھیجا گیا۔ اس سلسلے میں ان تینوں باپ بیٹوں کی بھارت India آمد کیلئے چیف سیکرٹری انڈین پنجاب پوری صاحب اور شرومنی گردوارہ پربندھک کمیٹی نے بھارتی Indian حکومت اور اسلام آباد Islamabad میں بھارت India کے ہائی کمیشن کو خصوصی طور پر خطوط لکھتے ہوئے رائے فیملی کے ان تینوں فرزندان کو ویزے جاری کرنے کی درخواست کی‘لیکن بھارت India نے ان سکھوں کے سب سے مقدس مقام گولڈن ٹیمپل سے منسلک ان کی کمیٹی اور چیف سیکرٹری انڈین پنجاب کی درخواست کو پائوں تلے روندتے ہوئے بھٹی فیملی کیلئے ویزے جاری کرنے سے صاف انکار کر دیا ہے۔

دنیا بھر کے سکھ مذکورہ خبر کو سنتے ہوئے سکتے میں آگئے۔ انہیں اپنے کانوں پر یقین ہی نہیں آ رہا تھا ‘کیونکہ سکھوں کے نزدیک رائے بلار بھٹی کی قدر و منزلت اور احترام کا اندازہ اس سے کیجئے کہ بڑے بڑے اور انتہائی تعلیم یافتہ ارب پتی سکھ حضرات ننکانہ صاحب حاضری دیتے ہوئے جب ان بھٹی برادران سے ملتے ہیں ‘تو ان کے برا بر بیٹھنے کی بہت کم کوشش کرتے ہیںاور جب اس قسم کے بے ضرر‘ لیکن سکھوں کے قابل احترام خاندان کے لوگوں کونریندر مودی narendra modi سرکار ویزہ جاری کرنے سے صاٖ ف انکار کر دے ‘تو اسی ایک حوالے سے اندازہ ہو جا نا چاہئے کہ براہمن اور ان کے زیر سایہ پنپنے والے پیروکار انتہا پسند ہندوئوں کے نزدیک سکھوں اور ان کے گروئوں اور مقدس مقامات کی کیا عزت اور اہمیت ہے؟بھارتی Indian ہ جنتا پارٹی کا خیال تھا کہ سکھ گوردوارہ پربندھک کمیٹی کی اس بے عزتی پر بھارت India کے سکھ چپ رہیں گے ‘لیکن ایسا نہیں ہوا‘کیونکہ جیسے جیسے رائے بلار کی پیڑھی سے تعلق رکھنے والوں کو ان کی تصویر کی رونمائی تقریب میں شرکت سے روکنے کی یہ خبر عام سکھوں میں پھیلتی جا رہی ہے ‘ویسے ویسے ہی ان کے ویزوں کا معاملہ اب گھروں سے نکل کر بھارتی Indian پارلیمنٹ تک جا پہنچا ہے۔ اب دیکھئے مودی سرکار اس سلسلے میں پارلیمنٹ کے اندر کون سا نیا پینترا بدلنے کا ناٹک کرتی ہے؟ آخر چانکیہ کے چیلے ہی تو ہیں۔

براہمن ‘جس قدر اندر سے سکھوں سے نفرت کرتے ہیں‘ اس کا اندازہ1984ء میں اندر گاندھی کا ا س کے دو سکھ محافظوں کے ہاتھوں قتل کے بعد پورے بھارت India میں سکھوں کے ہونے والے قتل عام سے لگایا جا سکتا ہے۔سکھوں نے اپنی 70 سالہ زندگی میں دو بھیانک اور در بدر ہونے کے مشاہدات کئے پہلا قائد اعظم محمد علی جناح کی پاکستان Pakistan کے ساتھ شامل ہونے کی بات نہ مان کر اور دوسرا اندرا گاندھی کے قتل کے بعد جب ان کی مائوں‘ بہنوں‘ بیٹیوں کو نئی دہلی‘ سورت‘ کلکتہ‘ ممبئی‘ گجرات تک ہی نہیں ‘بلکہ بھارت India کے ہر شہر اور گائوں میں زندہ جلایا گیا۔( جس کی مکمل تفصیل کسی اورکالم میں پیش کروں گا)۔گوردواروں کے اندر سکھ خواتین سے اجتماعی زیا دتیاں کی گئیں اور پھر انہیںان گردواروں سمیت زندہ جلا دیا گیا تھا۔

واضح رہے کہ بھارت India کے ہندوؤں نے مذکورہ بالا ظلم و ستم کا بہانہ یہ تراشا کہ سکھ اندر گاندھی کے قتل کے بعد جذباتی ہو گئے تھے‘ جس پر میں نے سوال کیا تھا کہ جب مہاتما گاندھی کو قتل کیا گیا تو کیا کسی ہندو نے ا ن کے قاتل اس کے خاندان گھر یا قوم کے کسی فرد کے خلاف جذباتی ہو کر اس طرح کے رد عمل کا اظہار کیا تھا‘کیونکہ وہ قاتل ایک انتہا پسند ہندو تھا۔

 273