ان حقائق کا بہادری سے اعتراف کیجئے

برملا - نصرت جاوید

05 دسمبر 2018

un haqayiq ka bahaduri se aitraaf kijiyej

وزیر اعظم Prime Minister صاحب کا پیر کی شام سات سے نو بجے تک ہمارے تمام ٹی وی چینلوں پر جو انٹرویو چلا ہے وہ صبح کے وقت ریکارڈ ہوا تھا۔ حکومت کے میڈیا منیجروں کے لئے ضروری تھا کہ وہ اس کے نشر ہونے سے قبل فائنل ٹھہرائے ورژن کو غور سے دیکھتے۔ ایسا ہوجاتاتو "Manifesto"والا فقرہ کئی ذہنوں میں وہ سوال اٹھانے کی گنجائش مہیانہ کرتا جسے ٹھنڈے دل سے جانچا جائے تو دل پریشان ہوجاتا ہے۔کسی بھی معاشرے میں سیاسی تقسیم کی اصل وجہ سیاسی جماعتوں کے منشور ہوتے ہیں۔بسااوقات اہم ترین قومی مفادات کے تناظر میں بھی یہ منشور یکساں نہیں بلکہ انتہائی مخالفانہ سوچ اور ترجیحات کے حامل ہوتے ہیں۔سیاسی تقسیم سے بالاترٹھہرائے قومی اداروں کو کسی ایک سیاسی جماعت کے Manifestoکا مکمل حامی بناکر پیش کرنا ایک غیر مناسب رویہ ہے۔اس کے مضمرات طویل المدتی تناظر میں سنگین تر بھی ہوسکتے ہیں۔Manifestoوالے فقرے کی اہمیت کو اس تناظر میں لیکن وزیر اعظم Prime Minister کے میڈیا منیجروں میں سے کسی ایک نے بھی بروقت بھانپ لینے کی ہمت اور پیشہ وارانہ صلاحیت نہیں دکھائی۔انگریزی والا Damageہوگیا۔حیران کن بات یہ بھی ہے کہ عمران خان Imran Khan صاحب کے انٹرنیٹ شیدائی اس فقرہ کی من پسند توجیحات پیش کرتے ہوئے ’قوم کو گمراہ کرنے والے‘‘ صحافیوں کو مسلسل لتاڑرہے ہیں۔کھلے ذہن کے ساتھ اگرچہ یہ وضاحت کرتے ہوئے بھی کام چلایا جاسکتا تھا کہ وزیر اعظم Prime Minister صاحب شاید ہمارے ہاں بہت عرصے سے جاری One Pageوالی بحث کو ذہن میں رکھتے ہوئے Manifestoکا لفظ استعمال کرگئے۔ بے ساختگی میں دوتراکیب ایک دوسرے سے گڈمڈ ہوگئیں۔Manifestoوالے فقرے کو لہذا One Pageپر ہونا شمار کیا جائے۔غلطی کا اعتراف مگر ہمارے انا پرست معاشرے کی روایت نہیں۔ اندھی نفرت اور عقیدت میں تقسیم ہوئی قوم ہیں۔ ’’میرا پیا‘‘ جوبھی کہے اس کا دل وجان سے ڈٹ کردفاع کرنا ضروری ہے ورنہ سبکی محسوس ہوتی ہے۔PTIکا Manifestoاب قومی ایجنڈا بنادیا گیا ہے۔ ہر پاکستانی کو وطن سے اپنی محبت کے اثبات کے لئے اس Manifestoپر عمل درآمد کو ہر صورت یقینی بنانا ہوگا۔ اس ضمن میں دکھائی ہچکچاہٹ غداری شمار ہوگی۔فرانس کے بادشاہ سوال کیا کرتے تھے کہ ’’ریاست‘‘ کیا ہے۔ دربار میں موجود کسی ایک فرد کی جانب سے جواب آنے سے پہلے ہی سینہ پھلاکروضاحت فرمادیتے کہ وہ (یعنی ریاست’’میں (LES MOI)‘‘ہوں۔ ہمارے وزیر اعظم Prime Minister اسی منطق کے مطابق اب ریاستِ پاکستان Pakistan کی تجسیم بن چکے ہیں۔ریاستِ پاکستان Pakistan کا انسانی صورت میں حتمی مظہر ٹھہرا یہ وزیر اعظم Prime Minister مگر مذکورہ انٹرویو ہی میں بہت سادگی سے یہ اعتراف کرتا ہے کہ انہیں ٹی وی کے ٹِکردیکھتے ہوئے خبر ملی کہ سٹیٹ بینک آف پاکستان Pakistan نے ایک نہیں دو بار روپے کی قدر کو امریکی ڈالر کے مقابلے میں ’’اچانک‘‘ اور اپنے ’’خودمختارانہ‘‘ اختیارات کو استعمال کرتے ہوئے پریشان کن حد تک گرادیا۔ ’’اداروں کی خودمختاری‘‘ کا مکمل احترام کرتے اور ذاتی طورپر انتہائی ایمان دار وزیر اعظم Prime Minister صاحب کو شاید یہ خبر بھی نہیں ہوگی کہ IMFسے جنوری کے وسط میں 6سے 8ارب ڈالر billion dollor کا پیکیج مانگنے کے لئے مذاکرات سے قبل پاکستانی روپے کی قدر کو ایک اور جھٹکا لگایا جائے گا۔یہ فیصلہ ریاستِ پاکستان Pakistan کی مجسم علامت ٹھہرائے عمران خان Imran Khan صاحب کو پیشگی اطلاع دئیے بغیر کیا جائے گا۔’’اداروں کی خودمختاری‘‘ کا ذکر چلے تو فوراََ ذہن میں وہ خبریں آجاتی ہیں جن کے ذریعے ’’ذرائع‘‘ قوم کو تیار کرتے ہیں کہ بجلی،گیس اور پیٹرول کی قیمتوں میں اضافہ ہونے والا ہے۔ قیمتوں میں اضافوں کی سمریاں ’’خودمختار‘‘ ٹھہرائے نیپرا یا اوگرا کی جانب سے تیار کی جاتی ہیں۔ حکومتیں بہت مہارت سے قیمتوں میں ان اداروں کی جانب سے آئی اضافے کی تجویز والی خبروں کی تشہیر ہونے دیتی ہیں۔

بالآخر یہ خبر آتی ہے کہ عوام کی پریشانیوں کو ذہن میں رکھتے ہوئے وزیر اعظم Prime Minister نے ان دو اداروں کی جانب سے تجویز کردہ اضافے کی منظوری دینے سے انکارکردیا۔ فرض کیا نیپرا بجلی کے ایک یونٹ کی قیمت میں دو روپے اضافے کی تجویز دے تو کابینہ کے اجلاس کے بعد اعلان ہوتا ہے کہ جی کڑاکرکے مثال کے طورپر فقط ایک روپے اور 60پیسے بڑھانے کی اجازت دی گئی ہے۔ قوم کو مزید 40پیسوں کے اضافی بوجھ سے مہربان وزیر اعظم Prime Minister نے بچالیا۔ ہم سادہ لوح شہری ’’اضافی بوجھ‘‘ سے محفوظ رہنے پر وزیر اعظم Prime Minister کے شکرگزار محسوس کرتے ہیں۔’’عوام کی پریشانی‘‘ کے بارے میں ہمہ وقت پریشان رہنے والے وزیر اعظم Prime Minister کے لئے ضروری تھا کہ وہ امریکی ڈالر کے مقابلے میں پاکستانی روپے کی قدر میں پریشان کن گراوٹ کے ضمن میں بھی سٹیٹ بینک آف پاکستان Pakistan کی مبینہ (اور میں یہ لفظ بہت سوچنے کے بعد استعمال کررہا ہوں)’’خودمختاری‘‘ کو بھی خاطر میں نہ لاتے۔ فون اٹھاکر سٹیٹ بینک کے گورنر سے ’’یہ کیا ہورہا ہے‘‘ والے سوالات اٹھاتے۔ ایسا مگر ہوگا نہیں۔وزیر اعظم Prime Minister صاحب کو ان کے معاشی معاونین نے طویل بریفنگوں کے بعد سمجھادیا ہے کہ IMFسے رجوع کئے بغیر پاکستانی معیشت کو سہارا دینے کا اور کوئی راستہ موجود نہیں۔IMFکوئی بیل آئوٹ پیکیج دینے سے پہلے پاکستانی روپے کی قدر اور بجلی ،گیس اور پیٹرول کی قیمتوں کے بارے میں جو تقاضے کرتا ہے اس کی بابت بھی وزیر اعظم Prime Minister اب کئی بریفنگوں کے بعد بہت باخبر ہوچکے ہیں۔وہ اس ضمن میں باخبر نہ ہوتے تو ایک نہیں دو بار سعودی عرب Saudi Arabia اور متحدہ عرب امارات united arab emirates کے دورے پر نہ جاتے۔ شاید ابھی ان کا چین China میں پانچ دن گزارنے کا ارادہ بھی نہیں تھا۔وہ ان دوروں پر جانے کے لئے پاکستان Pakistan کے معاشی حقائق کے بارے میں دی گئی تفصیلی بریفنگوں کے بعد ہی مجبور ہوئے۔حکومتی ترجمانوں نے بہت محنت سے ہمارے ذہنوں میں یہ تصور بٹھانے کی کوشش کی ہے کہ وزیر اعظم Prime Minister دوست ممالک سے مدد مانگنے پر دل سے نہ چاہتے ہوئے بھی مجبورہوئے کیونکہ وہ عالمی سامراج کے بنائے مالیاتی نظام کی سب سے بڑی علامتIMFکے دروازے پر ہاتھ میں کشکول اٹھائے دستک نہیں دینا چاہتے۔ہمیں یہ کہانی بیچتے ہوئے حکومتی ترجمان انتہائی رعونت سے یہ حقیقت نظر انداز کرتے پائے گئے کہ سعودی عرب Saudi Arabia اور یو اے ای عالمی سامراج کے بنائے مالیاتی نظام کے اہم ترین کردار نہیں بلکہ ستون ہیں۔چین China بھی IMFکی فیصلہ سازی میں اپنا حصہ بقدرجثہ لینے کو بے قرار ہے۔سعودی عرب Saudi Arabia اور چین China کے دئیے ووٹ کے بغیر FATFپاکستان Pakistan کو گرے لسٹ پر ڈال ہی نہیں سکتا تھا۔یہ ممالک ہمارے قریب ترین دوست ہونے کے باجود پاکستان Pakistan کو وہ مالیاتی سرہانے(Financial Cushion)فراہم کرنے کو آمادہ نہیں جن کی بدولت ہم IMFسے رجوع کرنے کی ضرورت محسوس نہ کریں۔ان دوست ممالک کی طرف سے بھی پیغام یہ ملا ہے کہ ’’ہم حاضر ہیں‘‘ مگر پاکستان Pakistan IMFکو نظرانداز نہ کرے۔اس کی باتوں کو سنجیدگی سے لے۔سٹیٹ بینک کی ’’خودمختاری‘‘ کے باعث پاکستانی روپے کی قدر میں گراوٹ ان ممالک سے بات چیت کے بعد ہی انگڑائی لے کر حرکت میں آئی ہے۔ان حقائق کا بہادری سے اعتراف کیجئے۔

 103