میکاولی کا قول اور ڈاکٹرفرخ سلیم کا اعتراف

برملا - نصرت جاوید

04 دسمبر 2018

makwaly ka qoul aur doctor fahrak Saleem ka aitraaf

میکیاولی نے بادشاہوں کو بہت درشتی سے یہ سمجھانے کی کوشش کی تھی کہ لوگ سرکار کی جانب سے اپنے عزیز ترین افراد کا قتل تو بھول جاتے ہیں مگراپنے زریا زمین پر ڈالا ہاتھ کبھی معاف نہیں کرتے۔میکیاولی کی بتائی اس بات کو سمجھنے کے لئے پاکستان Pakistan پر نگاہ ڈال لیتے ہیں۔بھارت India کی فوجی جارحیت کی وجہ سے مشرقی پاکستان Pakistan کھودینے کے بعد ذوالفقار علی بھٹو نے بقیہ پاکستان Pakistan میں اقتدار سنبھالا تو بڑی صنعتوں کو قومیا لیا گیا۔یہ صنعتیں بنیادی طورپر 22بڑے خاندانوں کی ملکیت تھیں۔ ان خاندانوں کو سرکار کی پشت پناہی میں سرکاری زمینیں الاٹ کرنے اور آسان شرائط پر بینکوں سے بھاری رقوم دلواکر ’’ذہین صنعت کار‘‘ بنایا گیا تھا۔1950کی دہائی میں شروع ہونے والی یہ سرپرستی فیلڈ مارشل ایوب خان کے دور میں اپنے عروج پر پہنچی۔ ایوب خان کے دور کو ’’دس سالہ عہد ترقی‘‘بھی کہا گیا جس کی یاد ہمارے وزیر اعظم Prime Minister کو ہر وقت ستائے رکھتی ہے۔بہت کم لوگوں کو مگر یہ حقیقت یاد ہے کہ اسی دور کی ’’معاشی ترقی‘‘ پر تحقیق کرتے ہوئے ایک زمانے میں پاکستان Pakistan کی وزارتِ منصوبہ بندی کے اہلکار ڈاکٹر محبوب الحق نے 1967میںایک مقالہ لکھا تھا۔اس مقالے نے یہ حیران کن انکشاف کیا کہ سرکاری سرپرستی کی بدولت صرف22خاندان ہمارے ملک میں جاری ہرکاروبار کے اجارہ دار بن چکے ہیں۔ان کا اجارہ فقط صنعتوں تک محدود نہیں رہا۔ بینکنگ اور انشورنس کے شعبے بھی ان کی مکمل دسترس میں ہیں۔

ایوب خان سے جدا ہوکر ذوالفقار علی بھٹو نے پاکستان Pakistan پیپلز پارٹی بنائی تو اس جماعت نے سوشلزم کا نعرہ بلند کیا۔ 22خاندانوں کی اجارہ داری ختم کرنے کا عہد کیا۔ اس جماعت کیلئے اپنے منشور کے مطابق بھاری صنعتوں کو قومیانہ ضروری تھا۔عام حالات میں لیکن وہ اس وعدے کو نظرانداز کرسکتی تھی۔مشرقی پاکستان Pakistan الگ ہونے کی وجہ سے ہمارے صنعت کار مگر ایک بہت بڑی منڈی سے بھی محروم ہوگئے۔روزانہ کی بنیاد پر ہڑتالیں اور پولیس مقابلے شروع ہوگئے۔ وہ کاروبار جسے یہ ’’ذہین صنعت کار‘‘ چلا نہیں پارہے تھے قومیا لئے گئے۔ان دنوں کے معروضی حقائق کے جبر کی وجہ سے شاید اور کوئی آپشن میسر ہی نہیں تھا۔بھاری صنعتوں کو قومیانے کے بعد بھی لیکن انہیں چلانے یا وسعت دینے کے لئے سرمایہ دستیاب نہیں تھا کیونکہ ہمارے بڑے بینک بدستور انہی 22خاندانوں کی ملکیت تھے۔بالآخر انہیں بھی 1974میں قومیا لیا گیا۔

صنعتوں اور بینکوں کو قومی تحویل میں لینے والا بھٹو حکومت کا فیصلہ آج تک معاف نہیں ہوا۔ آج بھی کسی محفل یا ٹی وی پروگرام میں پاکستانی معیشت پر بحث کا آغاز ہو تو پاکستان Pakistan میں ’’صنعتی زوال‘‘ کی کہانی ذوالفقار علی بھٹو کی جانب سے صنعتوں کو قومیانے کے عمل سے شروع کی جاتی ہے۔

ذوالفقار علی بھٹو کی پھانسی کے بعد ان کی بنائی پاکستان Pakistan پیپلز پارٹی 3بار اقتدار میں رہی ۔ ان میں سے کسی ایک حکومت پر بھی ہمارے سرمایہ دار طبقے نے اعتماد نہیں کیا۔اسے ہمیشہ اپنا’’ویری‘‘ تصور کیا۔ 1980کی دہائی میں نواز شریف Nawaz Sharif کی دریافت اور ان کی دائمی ریاست کے اہم اداروں اور کاروباری افراد کی جانب سے کئی برس تک سرپرستی کی بنیادی وجہ یہ حقیقت بھی تھی کہ شریف خاندان کا کاروبار بھی بھٹو صاحب نے قومیا لیا تھا۔

نواز شریف Nawaz Sharif کے بارے میں یہ تصور پھیلایا گیا کہ ایک کاروباری خاندان کے فرزند ہونے کی وجہ سے وہ ملکی معیشت کو جلوے فراہم کرنے کی صلاحیت سے مالامال ہیں۔ پاکستان Pakistan کو ’’ایشیائی ٹائیگروں‘‘ کی فہرست میں لاسکتے ہیں۔ وفاق میں تین بار حکومت حاصل کرنے کے بعد بھی نواز شریف Nawaz Sharif لیکن وہ سب کچھ نہ کر پائے جس کی توقع باندھی جارہی تھی۔ اگرچہ غیر جانبدارانہ مبصرین یہ اعتراف کرنے کو مجبور ہیں کہ اپنے چند اقدامات کے ذریعے انہوں نے اس ملک میں کاروباری افراد کے لئے آسانیاں پیدا کرنے کی کوشش کی۔ غیر ملکی کرنسی پر سٹیٹ بینک کے اجارے کو ختم کرنا ایسا ہی ایک قدم تھا۔ اس کے علاوہ موٹرویز وغیرہ کی تعمیر کے ذریعے انفراسٹرکچر کی فراہمی اور آخری دور میں لوڈشیڈنگ ہر ممکن طریقے سے ختم کرنے پر بھرپور توجہ دینا۔نواز حکومت کے ان تمام اقدامات کو مگر ان کے سیاسی مخالفین نے شک و شبے کی نگاہ سے دیکھا۔ درست یا غلط یہ کہانی پھیلائی گئی کہ صنعتی ترقی کے نام پر شریف خاندان درحقیقت میگاپراجیکٹس کے ذریعے اپنی ذات ،خاندان، قریبی دوستوں اور پسندیدہ سرکاری افسروں کے لئے ’’کک بیکس‘‘ اکٹھا کررہا ہے۔بھاری سودوں کے عوض حاصل ہوئی رقوم کو مختلف ذرائع سے غیر ملکوں میں بھیج کر وہاں قیمتی جائیدادیں خریدلی گئی ہیں۔’’پانامہ‘‘ کے نام پر منکشف ہوئی دستاویزات نے اس کہانی کو ’’مستندثبوت‘‘ فراہم کردئیے۔ ’’عجب کرپشن کی غضب کہانیاں‘‘ عام افراد کی دانست میں درست ثابت ہوئیں۔ان کا ’’حساب‘‘ لینے کے نام پر ذاتی طورپر بہت ہی ایمان دار مشہور ہوئے عمران خان Imran Khan صاحب اگست 2018میں اس ملک کے وزیر اعظم Prime Minister بن گئے۔ انہیں اقتدار سنبھالنے سے قبل پاکستان Pakistan کی اعلیٰ ترین عدالت سے ’’صادق اور امین‘‘ پکارے جانے کی سعادت بھی نصیب ہوئی۔اگرچہ یہ اعزاز راولپنڈی کی لال حویلی سے اُٹھے بقراطِ عصر کو بھی حاصل ہوا۔ ان دو کے علاوہ پاکستان Pakistan کا ہر سیاست دان ایمان داری کے تناظر میں ’’مشکوک‘‘ شمار ہوتا ہے۔

سوال مگر اب یہ اُٹھ رہا ہے کہ سپریم کورٹ کی جانب سے صادق وامین ٹھہرائے اور ذاتی طورپر بہت ہی ایمان دار تصور کئے عمران خان Imran Khan صاحب پاکستان Pakistan کے معاشی محاذ پر رونق کیوں نہیں لگاپارہے۔

خان صاحب کے سیاسی مخالفین اگر یہ سوال اٹھائیں تو اسے تعصب ٹھہراکر نظرانداز کیا جاسکتا ہے۔ذاتی طورپر میرے لئے بہت ہی محترم مگر ڈاکٹر فرخ سلیم صاحب بھی ہیں۔ عمران حکومت نے انہیں اپنی معاشی پالیسیوں کے دفاع کا فرض سونپ رکھا ہے۔فرخ صاحب کئی برسوں سے پاکستان Pakistan کے ایک معروف انگریزی اخبار کے لئے ہفتہ وار کالم بھی لکھتے ہیں۔ اس کالم کے ذریعے وہ ٹھوس اعدادوشمار کی بنیاد پرگزشتہ حکومتوں کی معاشی پالیسیوں کے بارے میں لٹ گئے مرگئے کا تاثر دیتی کہانیاں بیان کرتے رہے ہیں۔انگریزی میں ان کہانیوں کو Doom and Gloom Storiesکہا جاتا ہے۔گزرے اتوار کے دن ڈاکٹر فرخ سلیم صاحب نے اپنے کالم کے اختتام پر اعتراف کیا کہ اسلام آباد Islamabad کے بازاروں کا غیر رسمی سروے کرنے کے بعد وہ ذاتی طورپر اس نتیجے پر پہنچے ہیں کہ اس شہر میں کاروبار اپنی عمومی اوسط سے تقریباََ 30سے 40فی صد تک کم ہوگیا ہے۔سادہ لفظوںمیں یوں کہہ لیں کہ اگر ایک دوکانداراس شہر میں روزانہ سو روپے کا دھندا کرتا تھا تو ان دنوں یہ 60سے 70روپے تک محدود ہوگیا ہے۔ڈاکٹر صاحب نے اس مندی کی وجہ کاروباری افراد کے ذہنوں پر چھاپے Confusionکو ٹھہرایا جس کی غالب وجہ امریکی ڈالر کے مقابلے میں پاکستانی روپے کی قدر کاحتمی تعین نہ ہونا نظر آرہی ہے۔معاشی امور کے بارے میں تقریباََ جاہل ہونے کے باوجود میں یہ دعویٰ کرنے کی جسارت کررہا ہوں کہ وجہ اتنی سادہ نہیں ہے۔عمران خان Imran Khan صاحب نے ’’ہر صورت احتساب‘‘ والے وعدے پر عمل کو یقینی بنانے کے لئے وزارتِ داخلہ بھی اپنے پاس رکھی ہوئی ہے۔ نیب والوں کو بھی اکثر وہ ’’سست روی‘‘ کے طعنے دیتے رہتے ہیں۔ تاثر یہ پھیل رہا ہے کہ شاید ہر کاروباری شخص کسی نہ کسی نوعیت کی بدعنوانی میں ملوث ہے۔ ریاستی اداروں کو یکسو ہوکر بدعنوانی کے تمام ممکنہ راستوں کا خاتمہ کرنا ہوگا۔بدعنوانی کی ہر ممکن شکل کی ہر صورت خاتمے کی تکرار نے بازار میں خوف کی فضا پیدا کردی ہے۔ اسی خوف کے باعث مجھے میکیاولی کا وہ قول یاد آیا ہے جس سے آج کے کالم کا آغاز کیا تھا۔

 190