کرتار پور سے آگے....

قلم کمان - حامد میر

29 نومبر 2018

kartar pur se agee...

پاکستان Pakistan میں ہر طرف یوٹرن کا شور تھا۔ مخالفین چیخ چیخ کر پوچھ رہے تھے کہ عمران خان Imran Khan کی حکومت نے اپنے پہلے تین مہینوں میں یوٹرن پر یوٹرن لینے کے سوا اور کیا ہی کیا ہے؟ وہ سب جن کے ادوارِ حکومت میں پاکستان Pakistan کو قرضے لے کر چلایا جاتا تھا وہ عمران خان Imran Khan کو پوچھ رہے تھے کہ تم تو کہتے تھے کہ میں غیرملکی قرضے لینے کے بجائے خودکشی کر لوں گا اب خود قرضوں کی خاطر ایک ملک سے دوسرے ملک کا چکر کیوں لگا رہے ہو؟ طعنہ زنی کے اس کھیل میں ہم نے بھی خوب مزے لئے اور عمران خان Imran Khan کی وہ سب پرانی تقریریں نکال لیں جن میں وہ غیرملکی قرضوں کے خلاف باتیں کیا کرتے تھے اور شاید اسی طعنہ زنی کے جواب میں خان صاحب کو یہ کہنا پڑا کہ میں نے یوٹرن نہیں لیا بلکہ حکمت عملی تبدیل کی ہے لیکن ہم کہاں ماننے والے تھے۔ ہم نے جھوم جھوم کر عمران خان Imran Khan کو یوٹرن کے طعنے دیئے اور سیاسی مخالفین نے بھی عمران خان Imran Khan سے ان سب وعدوں کا حساب پہلے سو دن میں مانگنا شروع کر دیا جن کو پورا کرنا پانچ سال میں بھی بہت مشکل ہے۔ عمران خان Imran Khan کے پہلے سو دن پورے ہونے میں چند ہی دن باقی تھے کہ 27نومبر کو واہگہ بارڈر کا دروازہ کھلا اور اس دروازے سے لمبا تڑنگا نوجوت سنگھ سدھو ’’واہ میرے یار عمران واہ‘‘ کے نعرے لگاتا ہوا لاہور پہنچا اور یہاں سے ہنستا مسکراتا ہوا کرتار پور صاحب پہنچا جہاں 28نومبر کو وزیر اعظم Prime Minister عمران خان Imran Khan نے کرتار پور امن راہداری کا افتتاح کیا۔ اس امن راہداری کو کھولنے پر دنیا بھر کے سکھ عمران خان Imran Khan کے شکر گزار ہیں اور نوجوت سنگھ سدھو بار بار یہ کہہ رہا ہے کہ عمران خان Imran Khan نے پوری کائنات ہماری جھولی میں ڈال دی ہے۔ 2013ءمیں مسلم لیگ (ن) کی حکومت نے بھی کرتار پور صاحب امن راہداری کھولنے کا اعلان کیا تھا۔ اس دوران بھارتی Indian وزیر اعظم Prime Minister نریندر مودی narendra modi پاکستان Pakistan آئے اور نواز شریف Nawaz Sharif کو ایک جپھی ڈال کر چلے گئے لیکن کرتار پور امن راہداری نہ کھل سکی لیکن عمران خان Imran Khan نے اپنی حکومت کے پہلے تین ماہ کے اندر اس امن راہداری کو کھول دیا ہے۔ اس امن راہداری کے افتتاح پر عمران خان Imran Khan کو دنیا بھر میں شاباش مل رہی ہے۔ عمران خان Imran Khan نے نریندر مودی narendra modi اور ڈونلڈ ٹرمپ کے ساتھ کسی اصول پر سمجھوتہ کیا نہ کوئی دبائو قبول کیا، کشمیریوں پر ہونے والے ظلم و ستم کے خلاف بھرپور آواز بھی بلند کی لیکن ساتھ ہی ساتھ کرتارپور امن راہداری کا افتتاح کر کے مہاتما گاندھی کے پوتے ڈاکٹر راج موہن گاندھی کو یہ کہنے پر مجبور کر دیا کہ میں عمران خان Imran Khan کو سلیوٹ کرتا ہوں۔ اس کارنامے پر عمران خان Imran Khan کو اپنے سیاسی مخالفین کی گواہی یا تائید کی کوئی ضرورت نہیں۔ اپوزیشن کی ایک اہم شخصیت نے آف دی ریکارڈ مجھے کہا کہ کرتار پور امن راہداری سے سکھوں کو نہیں بلکہ اہل پاکستان Pakistan کو بھی بہت فائدہ ہو گا کیونکہ پاکستان Pakistan میں سکھ یاتریوں کی آمد و رفت میں اضافے سے پاکستان Pakistan کی معیشت کو بہت سہارا ملے گا۔ مجھے یہ بھی بتایا گیا کہ ماضی میں پاکستان Pakistan کی حکومتوں نے بار بار اس راہداری کو کھولنے کی کوشش کی لیکن مودی حکومت نے اس معاملے میں دلچسپی نہ لی۔ اس مرتبہ مودی حکومت کے پاس فرار کا کوئی راستہ نہیں تھا کیونکہ بھارت India میں الیکشن قریب آ چکے ہیں اور نوجوت سنگھ سدھو نے کرتارپور صاحب کے معاملے پر بھارت India میں وہ ہاہاکار مچائی کہ مودی حکومت کو بھی خاموشی کے ساتھ سر جھکانا پڑا اور گورداسپور کی طرف سے بارڈر کھولنا پڑا۔

اس حقیقت میں کوئی شک نہیں کہ عمران خان Imran Khan کی تقریب حلف برداری میں آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ General Qamar Javeed Bajwa اور سدھو میں جپھی نہ پڑتی تو یہ معاملہ اتنا اجاگر نہ ہوتا اور کروڑوں سکھوں کا خواب اتنی جلدی حقیقت بھی نہ بنتا۔ اب آگے آگے دیکھئے ہوتا ہے کیا۔ کروڑوں سکھ عمران خان Imran Khan سے اندھی محبت کرنے لگے ہیں۔ برطانیہ کے سکھوں نے یہ پیشکش بھی کر دی ہے کہ اگر پاکستان Pakistan میں کسی ڈیم کو بابا گورو نانک کے نام سے موسوم کر دیا جائے تو وہ ڈیم کے لئے تمام رقم کا بندوبست بھی کر دیں گے۔ کرتار پور صاحب کی سکھوں کے لئے وہی اہمیت ہے جو مسلمانوں کے لئے مکہ اور مدینہ کی ہے لہٰذا کرتارپور امن راہداری کے کھلنے سے نوجوت سنگھ سدھو بھی دنیا بھر کے نانک نام لیوائوں کے ہیرو بن گئے ہیں۔ کرتار پور امن راہداری کی افتتاحی تقریب میں شرکت کے لئے آنے والی ایک بھارتی Indian صحافی کا کہنا تھا کہ سدھو نے ایک طرف عمران خان Imran Khan کے سیاسی مددگار کا کردار ادا کیا ہے تو دوسری طرف خود انہیں بھارت India کی سیاست میں بہت فائدہ ہو گا اور وہ بڑی آسانی سے بھارتی Indian پنجاب کے وزیر اعلیٰ بن سکتے ہیں۔ سدھو کے وزیر اعلیٰ بننے سے بھارتی Indian پنجاب میں کانگریس کی واپسی بھی ہو سکتی ہے کیونکہ 1984ء میں سکھوں کے خلاف آپریشن بلیو اسٹار اور پھر وزیر اعظم Prime Minister اندراگاندھی کے قتل کے بعد کانگریس پنجاب میں بہت کمزور ہو گئی تھی۔ نوجوت سنگھ سدھو نے اپنے سیاسی کیریئر کا آغاز بی جے پی BJP سے کیا تھا اور 2004 میں انہوں نے امرتسر سے پہلا الیکشن بی جے پی BJP کے ٹکٹ پر لڑا اور جیت گئے۔ سدھو کی زندگی میں بڑے اتار چڑھائو آئے۔ اُنہیں قتل کے ایک مقدمے میں پھنسا دیا گیا تھا جس کے باعث انہیں اپنی نشست بھی چھوڑنی پڑی لیکن بعد ازاں عدالت سے ریلیف لے کر وہ ضمنی الیکشن میں دوبارہ کامیاب ہو گئے۔ سدھو کو بی جے پی BJP نے 2016ء میں راجیہ سبھا میں بھیج دیا تاکہ وہ لوک سبھا سے بار بار جیت کر وزارت اعلیٰ پنجاب کے امیدوار نہ بنیں۔ بی جے پی BJP کے ساتھ بڑھتے ہوئے اختلافات کے باعث سدھو نے 2017ء میں بی جے پی BJP چھوڑ دی اور راجیہ سبھا کو بھی گڈبائے کہہ دیا۔ انہوں نے کانگریس جوائن کر لی اور ایک بڑا سیاسی خطرہ مول لیا لیکن کانگریس کے ٹکٹ پر بھی الیکشن جیت گئے۔ نوجوت سنگھ سدھو صرف پنجاب نہیں بلکہ پورے بھارت India میں کانگریس کا نیا چہرہ بن چکے ہیں۔ راہول گاندھی کو سدھو کی وجہ سے سکھوں کی حمایت واپس مل جائے تو وہ سکھوں اور مسلمانوں کی مدد سے بھارت India کی سیاست کا نقشہ بدل سکتے ہیں۔ بی جے پی BJP کی انتہا پسندانہ پالیسیوں نے مودی کو مضبوط لیکن بھارت India کو کمزور کیا۔ پنجاب میں کانگریس کی واپسی سے مودی کمزور لیکن بھارت India مضبوط ہو گا۔ کانگریس کو جموں و کشمیر Kashmir کے مسئلے پر بھی اپنی روایتی سیاست کو چھوڑ کر کوئی نیا راستہ تلاش کرنا ہو گا تاکہ کرتارپور اور گورداسپور کے درمیان راہداری کے بعد جموں اور سیالکوٹ میں بھی راہداری کو کھولا جائے اور مظفر آباد سرینگر راہداری کو بھی امن و خوشحالی کی راہداری بنایا جائے۔ علامہ اقبالؒ نے بابا گورو نانک کے بارے میں کہا تھا ؎

آہ! شودر کیلئے ہندوستاں غم خانہ ہے

درد انسانی سے اس بستی کا دل بیگانہ ہے

برہمن سرشار ہے اب تک مئے پندار میں

شمع گوتم جل رہی ہے محفل اغیار میں

بتکدہ پھر بعد مدت کے مگر روشن ہوا

نورِ ابراہیم سے آزر کا گھر روشن ہوا

پھر اُٹھی آخر صدا توحید کی پنجاب سے

ہند کو ایک مردِ کامل نے جگایا خواب سے

آج بابا نانک کے نام لیوا خوشی سے دیوانے ہوئے جاتے ہیں۔ نانک اور گوتم کے نام لیوائوں کا پاکستان Pakistan میں آنا جانا شروع ہو جائے تو صرف عمران خان Imran Khan کا نہیں ہم سب کا فائدہ ہے لہٰذا عمران خان Imran Khan کو کرتارپور صاحب سے مزید آگے بڑھنے کی ضرورت ہے۔ نیا پاکستان Pakistan بنانے کے لئے مزید امن راہداریوں کو کھولنے کی ضرورت ہے۔ جیلیں بھرنے سے نیا پاکستان Pakistan نہیں بنے گا امن راہداریوں سے نیا پاکستان Pakistan بنے گا۔

 502