کرتار پور اور چینی قونصل خانہ

ایک اور ایک - منیر احمد بلوچ

28 نومبر 2018

krtar poor aur cheeni consul khanah

بھارتی Indian وزیر خارجہ سشما سوراج اور وزیر اعلیٰ پنجاب کیپٹن امریندر سنگھ نے حکومت ِپاکستان Pakistan کی طرف سے آج28 نومبر کو کرتار پور بارڈر کھولنے کی تقریب میں شرکت کیلئے بھیجے گئے ‘خصوصی دعوت ناموں کو رد کر تے ہوئے‘ اس میں شرکت سے انکار کر دیا ہے ۔ سفارتی اور دفاعی ماہرین نے پہلے ہی کہہ دیاتھا کہ نریندر مودی narendra modi اور بھارتی Indian فوج اس تقریب کی اہمیت کو کم سے کم کرنے کی بھر پور کوشش کریں گے‘ کیونکہ اس وقت تک چینی قونصل خانہ پر حملے اور اورکزئی ایجنسی میں ''را‘‘ کی طرف سے کروائے گئے‘ مبینہ بم دھماکے سے37 پاکستانیوں کی شہا دت کا زخم ابھی مندمل نہیں ہوا‘لیکن جیسے ہی چینی قونصل خانے پر بھارت India کا متوقع تباہی پھیلانے کا حملہ نا کام ہو گیا‘ تو پھر سشما سوراج نے24 نومبراور وزیر اعلیٰ پنجاب کیپٹن امریندر سنگھ نے اگلے روز25 نومبر کو شاہ محمود قریشی کو علیحدہ علیحدہ خطوط میں کرتار سنگھ کی تقریب میں شرکت نہ کرنے پر معذرت کردی ۔

نریندر مودی narendra modi نے بھارتی Indian فوج اور پولیس سمیت دوسرے سکیورٹی اداروں میں بہادری کے جوہر دکھانے والے سکھوں کے مذہبی جذبات اور مقدس ترین مقامات کی رتی بھر پروا نہ کرتے ہوئے سکھ دھرم کے ہر ماننے والے کو بتا دیا ہے کہ جنتا پارٹی اور راشتریہ سیوک سنگھ کے انتہا پسند ہندوئوںکے نزدیک ان کے گرو بابا نانک کی آخری آرام گا ہ کی کوئی اہمیت اور وقار نہیں‘ اور انہیں سکھوں کے مذہبی جذبات کی بھی پروانہیں‘ بلکہ با با جی گرو نانک کیلئے کسی بھی قسم کا احترام نہ دکھاتے ہوئے اس تقریب کی اہمیت کو عالمی میڈیا اور رائے عامہ کی نظروں میں کم کرنے کیلئے ہائی پروفائل وفد بھیجنے کی بجائے فوڈ پراسیسنگ کی وزیر شریمتی سرمت کور بادل اور وزیر مملکت ہائوسنگ شری ہردیپ سنگھ پوری کو بھارت India کی نمائندگی کرنے کیلئے بھیجنے کا فیصلہ کیا ہے‘ جن کے نا موں سے بھارتی Indian پنجاب کے لوگ بھی واقف نہیں۔ سشما سوراج کی معذرت کے بعد بھارتی Indian پنجاب کے وزیر اعلیٰ کیپٹن امریندر دنگھ نے سکھ دھرم اور با با گرو نانک سے بے وفائی کرتے ہوئے اس تقریب میں شرکت سے معذرت کا بہانہ تراشتے ہوئے بھارتی Indian وزارت خارجہ کا وہی برسوں پرانا رٹا رٹایا ڈراما یہ کہتے ہوئے رچا ڈالا کہ آپ کے ملک کی فوج آئے روز لائن آف کنٹرول کی خلاف ورزی کرتے ہوئے فائرنگ کرتی رہتی ہے اور کوئی تین ماہ ہوئے لائن آف کنٹرول کی جانب سے آئے ہوئے آپ کے جہادیوں نے ایک جھڑپ میں ہماری بٹالین کے ایک میجر اور دو جوانوں کو قتل کر دیا ہے۔ بھارتی Indian پنجاب کے وزیر اعلیٰ کیپٹن امریندر سنگھ نے شاہ محمود قریشی کے نام 25 نومبر کے اپنے خط میں مزید لکھتے ہیں کہ اپنے وزیر اعظم Prime Minister کو بتا دیں کہ ان کی آئی ایس آئی بھارتی Indian پنجاب میں دہشت گردی کی کارروائیوں میں حصہ لے رہی ہے اور ابھی حال ہی میں بھارتی Indian پنجاب کے ایک گائوں میں کئے گئے بم دھماکے میں تین افراد قتل کر دیئے گئے ہیں‘ لہٰذاجب تک آپ کی جانب سے ایسی کارروائیاں روکی نہیں جائیں گی ‘میرے لئے آپ کی جانب سے اس قسم کی کسی بھی تقریب میں شرکت منا سب نہ ہو گا۔

واضح رہے کہ میرا تو شروع سے ہی خیال تھا کہ نریندر مودی narendra modi کی بھارتی Indian ہ جنتا پارٹی اور جنرل بپن راوت سمیت ''را‘‘ والے کسی صورت نہیں چاہیں گے کہ کرتار پور بارڈر کو با با جی گرونانک کی آخری آرام گاہ کی آزادانہ زیا رت کے نام پر بھارت India کے عام سکھوں کیلئے کھول دیا جائے‘ لیکن جب پنجاب اور چندی گڑھ کے سکھوں کی بے چینی اور ان تک پہنچنے والی اطلاعات کہ پاکستان Pakistan نے تو ہم سکھوں کے کرتار پور تک آنے جانے کیلئے اونچے نیچے رستوں کو ہموار کرنا شروع کر دیا ہے ‘تو پھر '' را‘‘ نے کرتار پور بارڈر کا قصہ ہی ختم کرنے کیلئے نئی دہلی کے میکس ہسپتال میں زیر علاج انتہائی سکیورٹی میں محبوس دہشت گرد تنظیم بلوچ لبریشن آرمی کے کمانڈر اسلم عرف اچھو کے فدائی لشکر کو استعمال کرتے ہوئے کراچی میں چین China کے قونصل خانے میں قتل و غارت کا خونی کھیل رچانے کا اشارہ کر دیا؛اگر یہ دہشت گرد قونصل خانے کی عمارت میں داخل ہو جاتے‘ تو جس قدر جدید اور تباہ کن بارود اور اسلحہ ان سے بر آمد ہوا ہے‘ اندازہ کیا جا سکتا ہے کہ کس قدر تباہی و بربادی ہو سکتی تھی؟اور اس کے آفٹر افیکٹس کیا ہونے تھے۔

اس خونیں کھیل سمیت چینی قونصل خانے کی تباہی کے بعد پاکستان Pakistan کا کرتار پور کا پروگرام دھرا کا دھرا رہ جا نا تھا۔ چینی قونصل خانے کے اس حملے سے ایک تو بھارت India کی دہشت گردی کا شرمناک چہرہ ‘ دنیا کے سامنے واضح ہو گیا ہے اور دوسرا بھارت India نواز چند ایک صحافیوں کا پاکستانی سکیورٹی ایجنسیوں کے خلاف مامے قدیر کے سگے بھانجے بن کر لاپتا افراد کے نام پرزہر اگلنے والے آئے روز کے ڈرامے کے ہر کردار کا چہرہ بھی شرم سے جھک گیاہے ۔رزاق اور بازل جیسے گھروں سے تین تین برسوں سے لاپتا ہونیوالے دہشت گردوں کی لاشیں چینی قونصل خانے کے باہر سے بازیاب ہو چکی ہیں۔ ما ما قدیر تو اس وقت افغانستان Afghanistan میں بیٹھا ‘پاکستان Pakistan کے خلاف جنگ کر رہا ہے‘ اس لئے ان تینوں دہشت گردوں کی لاشیں ان بھارت India نواز صحافیوں کو تدفین کیلئے پہنچا دی جائیں ‘تو شاید ان کو یہ جان کر قرار آ جائے کہ ان کے ما ما قدیر کی فہرست کے گم شدہ ساتھیوں میں سے تین کی کمی ہو گئی ہے ۔

ہندوستان کے مایہ ناز کرکٹر نوجوت سنگھ سدھو کی پاکستانی وزیر اعظم Prime Minister عمران خان Imran Khan کی بطورِ وزیر اعظم Prime Minister حلف برداری کی تقریب میں شمولیت کے موقع پر آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ General Qamar Javeed Bajwa اور عمران خان Imran Khan نے جب ان کی پاکستان Pakistan آمد پر شکریہ ادا کرتے ہوئے دنیا بھر کے سکھوں کو اس موقع پر اپنے نیک جذبات اور خیر سگالی کا پیغام دینے کیلئے نارووال- شکر گڑھ کے قریب با با جی گرونانک کی آخری آرام گاہ کی یاترا کیلئے آزادانہ آمد و رفت کی اجا زت دینے کی خواہش کا اظہار کیا ‘تو ایک لمحے کیلئے ایوان ِصدر میں کھڑے ہوئے سکھ کرکٹر نوجوت سنگھ سدھو کو اپنے کانوں پر یقین نہ آیا‘ لیکن جب جنرل باجوہ نے کہا کہ آپ اگر اپنے دوست عمران خان Imran Khan سے بات کریں ‘تو ہمارے لئے بھی یہ خوشی اور اطمینان کا باعث ہو گا ‘تاکہ سکھ دھرم کے لوگ گرو جی کے مقام آرام پر اپنا ماتھا ٹیک سکیں۔نوجوت سنگھ سدھو ابھی پاکستان Pakistan کی حدود میں ہی تھے کہ کیپٹن امریندر سنگھ اور ان کے سکھ ساتھیوں کے علا وہ انتہا ہندوؤں نے سدھو کے خلاف دیش دروہی کے نعرے لگاتے ہوئے اس کے سر کی قیمت مقرر کر دی اور ساتھ ہی ان کے خلاف مظاہروں اور دشنام ترازیوں کا ایک نہ ختم ہونے والا سلسلہ شروع کروا دیا گیا۔

کیپٹن امریندر سنگھ اور پرکاش سنگھ بادل سمیت ہندو انتہاپسندوں کا خیال تھا کہ نوجوت سنگھ سدھو خوف زدہ ہو جائے گا‘ لیکن وہ الٹا ان کے گلے پڑ گیا‘جب پنجاب اور چندی گڑھ کے سکھ جوان اور سکھ دھرم کے سنگھ نریندر مودی narendra modi کی انتہا پسند ہندو حکومت اور اس کی خفیہ ایجنسیوں کے خلاف خالصتان زندہ باد اور پاکستان Pakistan زندہ باد کے نعرے لگاتے ہوئے سڑکوں پر نکل آئے‘ جسے بھارت India ا ور دنیا بھر میں پھیلے ہوئے خالصتانی میڈیا اور سوشل میڈیا نے بھر پور کوریج دینا شروع کر دی‘ جس سے نئی دہلی پر ایک سناٹا سا چھا گیا۔ نوجوت سنگھ سدھو کو اگلے انتخابات میں بھارتی Indian پنجاب کی وزارت اعلیٰ کے خواب دکھاتے ہوئے کہا گیا کہ وہ ایک پریس کانفرنس میں کرتار پور بارڈر کھولنے کے مطا لبے سے فی الحال پیچھے ہٹنے کا اعلان کر دیں‘لیکن نوجوت سنگھ سدھو نے ان کے جھانسے اور دبائو میں آنے کی بجائے کرتار پور کے مطالبے سے ایک انچ بھی پیچھے ہٹنے سے انکار کر دیا ہے۔

 173