کرتار پورراہداری ایک نئے دور کا آغاز

بات یہ ہے - ارشاد محمود

25 نومبر 2018

Kartarpur rahadari ak naye dor ka aghaaz

دریائے راوی کے کنارے واقع سکھوں کا مقدس مقام گردوارہ دربار صاحب کرتارپور اب سکھ یاتریوں کے لیے کھولا جانے والا ہے۔سات دہائیوں کے بعد پاکستان Pakistan اور بھارت India تین کلومیٹر کا راستہ طے کرنے پرآمادہ ہوئے۔ نفرت، انتقام اور تاریخی زیادتیوں کے احساس نے امن ،ترقی اور خوشحالی کی بات کرنے او رمشترکہ ورثے کو بروئے کار لاکر مستقبل میں جھانکے کی صلاح دینے والوں کو احمق اور بسا اوقات غیر محب وطن قراردیاگیا۔ بالاخر دونوں ممالک میں عقل و خرد نے غلبہ پایااور اس مذہبی اور تاریخی مقام کو یاتریوں کے کھولنے کی اجازت دی گئی۔ اگلے چند دنوں میں وزیراعظم عمران خان Imran Khan کرتارپور میں سکھ یاتریوں کے لیے سرکاری سطح پر سہولتوں کی فراہمی کے انفراسٹرکچر کا افتتاح کریں گے۔ تقریب میں پاکستان Pakistan بھر کی سکھ برادری کو شرکت کے لیے مدعو کیا گیاہے۔ بھارتی Indian وزیراعظم نریندرا مودی نے کہا کہ دونوں ممالک کی سرکاروں اور افواج میں معلوم نہیں کب معاملات طے پائیں لیکن شہریوں کو ایک دوسرے سے ملنے سے نہیں روکاجانا چاہیے۔ وزیرِ اطلاعات فواد چوہدری نے بھارتی Indian کابینہ کی جانب سے کرتارپور سرحد کھولنے کی پاکستانی تجویز کی تائیدکو دونوں ممالک کی امن کی لابی کی فتح قراردیا۔ امید ظاہر کی کہ ایسے اقدامات سے سرحد کی دونوں جانب امن اور دانائی کی باتیں کرنے والوں کی حوصلہ افزائی ہو گی۔ کرتارپور کا گردوارہ دنیا بھر میں بسنے والے سکھوں کے لیے بہت اہم مذہبی مقام ہے۔ یہ سکھوں کے مذہبی لیڈربابا گرونانک کی رہائش گا ہ اور جائے وفات ہے۔ چنانچہ ہر سکھ کی خواہش ہوتی ہے کہ وہ زندگی میں کم ازکم ایک بار ضرور کرتارپور کادرشن کرے۔بھارت India میں لگ بھگ دوکروڑ سکھ بستے ہیں جنہیں دونوں ممالک میں خراب تعلقات کے باعث پاکستان Pakistan آنے اور کرتارپور جانے میں زبردست مشکلات کا سامنا رہتاہے۔ حالانکہ یہ گردوارہ پاک بھارت India سرحد سے چند کلو میڑ کی مسافت پر واقع ہے۔ کرتارپور راہداری کھلنے سے بغیر ویزے یا سفری دستاویزات کے سکھ درشن کے لیے کرتارپور آسکیں گے۔ حکومت پاکستان Pakistan نے پہل قدمی کرکے یہ ثابت کیا ہے کہ وہ ذہنی طور پرچابکدست ہے اور رجائیت پسند اقدامات کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔ یہ سمجھنے کی ضرورت ہے کہ بھارت India ایک اسٹیٹس کو پاور ہے جو سرحدوں میں کوئی تبدیلی نہیں چاہتا خاص کر کشمیر کے پس منظر میں۔ گزشتہ تیس برسوں میں اس نے اپنے عوام کو بھی مسلسل یہ باور کرایا کہ پاکستان Pakistan ان کا دشمن اوربھارت India کو ٹکرے ٹکرے کرنا چاہتاہے۔چنانچہ الیکشن میں پاکستان Pakistan کے برعکس لوگ پاکستان Pakistan مخالف جماعتوں کو ووٹ دیتے ہیں اور ان لیڈروں کی پذیرائی کرتے ہیںجو پاکستان Pakistan یا کشمیریوں کے تئیں سخت گیر لب ولہجہ اختیار کرتے ہیں۔ اس پس منظر میں بھارت India کے ساتھ ایک ہمہ پہلو سفارت کاری کی ضرورت ہے۔ پرویز مشرف کہا کرتے تھے کہ بھارت India کو مذاکرات کی میز سے بھاگنے نہیں دینا چاہیے۔ سکھ قوم خطے میں امن اور خوشحالی کی علمبردار بن سکتی ہے۔وہ مزاجاًوسیع القلب اور خوش مزاج لوگ ہیں۔ ماضی کی تلخیوں کو دفن کرنے پر آمادہ بھی ہیں ۔ آزادی کے بعد انہیں بھارتی Indian حکومت اور نظام سے بہت شکوے او رشکایات رہی ہیں۔ مشرقی پنجاب میں علیحدگی کی تحریک بھی ابھری۔ گولڈن ٹمپل پر حملے اور بعدازاں وزیراعظم انداگاندھی کے قتل کے بعد سکھوں پر بیتے والی قیامت کی یادیں بھی سکھ کمیونٹی کے دل ودماغ سے محو نہیں ہوئیں۔ دونوں ممالک کے درمیان تعلقات کا ایک نیا باب کھولنے میں سکھ بطور ایک قوم مدد دے سکتے ہیں۔لہٰذا ان کی خدمات سے فائدہ اٹھانے کی کوشش کرنی چاہیے۔ ایک طرف ہم کرتارپور راہداری کھول رہے ہیں تو دوسری طرف مقبوضہ کشمیر میں بھارت India کو قتل عام کی کھلی چھٹی ملی ہوئی ہے۔ الجزیرہ کی ایک رپورٹ کے مطابق محض اس سال چار سو افراد کو شہید کیاگیا ۔جاں بحق ہونے والوں میں نصف سے زیادہ نوجوان ہیں جن میں چار پی ایج ڈی سکالر بھی ہیں۔ گزشتہ ماہ برطانوی پارلیمنٹ کے ایک گروپ نے کشمیر پر انیس صفحات پر مشتمل طویل رپورٹ میں بھارتی Indian حکومت سے مطالبہ کیا کہ وہ کشمیر میں جاری انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں پر روک لگائے۔ کالے قوانین منسوخ کرے۔ گمنام قبروں کا فرانزک ٹیسٹ کرائے تاکہ حقائق معلوم کیے جاسکیں کہ ان قبروں میں کون لوگ دفن ہیں۔اس رپورٹ میںسیاسی گروہوں کی سرگرمیوں پر عائد پابندیوں کو بھی ہدف تنقید بنایاگیا اور بھارت India سے مطالبہ کیاگیا کہ وہ کشمیر پر پاکستان Pakistan سے مذاکرات کا سلسلہ شروع کرے۔ اوآئی سی کے سیکرٹری جنرل یوسف بن احمد نے گزشتہ ہفتے جدہ میں کشمیر پر پاکستانی قونصلیٹ کے اشتراک سے ہونے والی ایک نمائش کا افتتاح کیا اور بھارت India سے مطالبہ کیا کہ وہ کشمیر میں طاقت کا بے محابا استعمال بند کرے۔ وزیراعظم آزادکشمیر راجہ فاروق حیدر نے ای یو کشمیر کونسل کے سربراہ سیّد علی رضا بخاری کی دعوت پر برسلز کا دورہ کیا جہاں یورپی یونین پارلیمنٹ کے ارکان کے ساتھ کشمیر کے موضوع پر تبادلہ خیال کیاگیا۔ اس اجلاس میں بھی کشمیر میں جاری ہلاکتوں پر تشویش کا اظہار کیاگیا اور مذاکراتی عمل کی بحالی پر زور دیاگیا۔ ایک اور بڑی اہم پیش رفت جس پر پاکستانی میڈیا میں کوئی بحث نہیں ہوسکی وہ نیویارک میں ہوئی۔اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں پاکستانی مندوب ملیحہ لودھی کی حق خود ارادیت کی حمایت میں پیش کردہ قرارداد اتفاق رائے سے منظور کی گئی۔ ، ملیحہ لودھی نے کہا کہ اس قرارداد کی منظوری سے مقبوضہ کشمیراورفلسطین میں حق خودارادیت کی جدوجہدکوتقویت ملے گی۔ قراردادسے بیرونی تسلط میں جکڑ ے لوگوں کوباورکرایاہے کہ وہ بے یارومددگارنہیں۔بھارت India اور اسرائیل اس طرح کی قراردادوں کے سخت خلاف ہیں لیکن باوجود اس قرارداد کا پاس ہونا اس امر کی عکاسی کرتاہے کہ عالمی برادری میں حق خودارادیت کا تصورا بھی زندہ وجاوید ہے۔ کرتارپور رہداری کے کھلنے سے یادآیا کہ کنٹرول لائن پر بھی آمد ورفت کا میکانزم موجود ہے۔ جس میں مسلسل اصلاح کی ضرورت ہے۔ اس آمدورفت کو منقسم خاندانوں تک محدود رکھنے کے بجائے اب عام شہریوں کو بھی شریک کیاجانا چاہیے۔علاوہ ازیں سفری دستاویزات کے حصول کے پراسیس کو بھی آسان بنانے کی ضرورت ہے ۔ کشمیر کے دونوں حصوں میں لوگوں نے کرتارپور سرحد کھولنے کے فیصلے کو سراہا لیکن یہ مطالبہ بھی دہرایا کہ کنٹرول لائن پرشہریوں کی آمد ورفت کو مزید آسان بنایاجائے۔ دو کراسنگ پوائنٹس کے علاوہ کچھ اور راستے بھی کھولے جائیں۔سات دہائیوں سے بچھڑے ہوئے لوگوں ایک دوسرے سے ملنے کی سہولت ہو۔

 134