مسئلہ

ماجرا - بلال الرشید

24 نومبر 2018

masla

خدا نے جب انسان کو پیدا کیا اور اسے زمین پر اپنا نائب بنانے کا فیصلہ کیا‘ تو اس کے دماغ میں خصوصی طور پر تجسس کا مادہ رکھا۔ یہ تجسس کیا ہے ؟ ہر نئی چیز‘ ہر انجان شے کو جاننے کی خواہش ۔ آدمی میں یہ خواہش بہت شدید تھی ۔ اسی خواہش کا نتیجہ تھا کہ انسان پہلے دن سے ہی کرہ ٔ ارض پہ موجود ہر چیز کو کھوجتا رہا ۔ یہ صلاحیت اللہ کی طرف سے پہلے آدم کو عطا ہوئی تھی کہ وہ ہر چیز کا جائزہ لے کر اس کا ایک نام رکھ کر دوسروں کو اس کے بارے میں بتانے کا رجحان رکھتا تھا۔یہی وجہ ہے کہ آج بھی ‘جو دلچسپ وڈیو آپ کو فیس بک یا واٹس ایپ پہ ملتی ہے ‘ آپ دوسروں کوفوراً اس کے بارے میں بتانے لگتے ہیں ۔ یہ الگ بات کہ پانچ فیصد باتیں کام کی ہوتی ہیں اور پچانوے فیصد کھیل تماشا ۔دوسروں کو اپنی معلومات سے باخبر رکھنے کی اسی خواہش کا نتیجہ ہے کہ اگر کوئی بندہ اپنی بیماری بتائے تو ہر کوئی اپنی سمجھ کے مطابق اس کا علاج بتانے لگتا ہے۔

خیر‘ انسان کے سامنے جو جو چیز آتی رہی ‘ وہ اس کا جائزہ لے کر دوسروں کو اس کے بارے میں بتاتا رہا۔ اس نے مٹی کا جائزہ بھی لیا(مٹی پر ایک کالم ادھار ہے )۔ اسی تجسس کی وجہ سے انسان سوچنے لگا کہ مٹی کے نیچے شاید کوئی کام کی چیز موجود ہو۔ تو اس نے زمین کو کھودنا شروع کر دی ۔ انسان کے سامنے جو پودا آیا‘ اس نے اس کا بھی جائزہ لیا ۔ اسی تجسس کی وجہ سے اس نے ہر پودے کا پھل کھا کر دوسروں کو اس کے ذائقے اور تاثیر کے بارے میں بتایا ‘اسی تجسس کی وجہ سے انسان نے یہ بھی نوٹ کیا کہ کس پودے کی جڑیں کتنی گہری ہیں ۔ کون سا درخت کتنی تیزی سے اگتا ہے ۔ اس نے مختلف جانوروں پہ وزن رکھ کر دیکھا کہ کون کتنا وزن اٹھا سکتاہے ۔

یہ تجسس ہمہ گیر تھا ۔ اسی کھوج کے دوران انسان نے ایسے شیشے اور ایسے عدسے دریافت کیے ‘ جن کی مدد سے دور تک دیکھا جا سکتا تھا۔ انسان انہیں ایک دوسرے سے جوڑ کر مزید موٹا کرتا رہا‘ تاکہ زیادہ سے زیادہ دور تک دیکھا جا سکے۔ اس طرح وہ میلوں دور دیکھنے لگا۔چالیس پچاس ہزار سال کے اس سفر میں یکے بعد دیگرے ایجادات ہوتی رہیں ۔ انسان اس قابل ہو گیا کہ تاروں کی مدد سے اپنی آواز ہزاروں میل دور تک پہنچا سکے ۔ اسی طرح وہ اپنا لکھی ہوئی اطلاعات بھی دور پہنچانے پہ قاد ر ہوگیا۔ پرنٹنگ پریس ایجاد ہوا‘ جسے سٹیون ہاکنگ انتہائی عظیم پیش رفت کہتاہے ۔ انسان تاروں سے تاریں جوڑ تا رہا ۔ انٹرنیٹ وجود میں آیا ۔پرنٹنگ پریس اور انٹرنیٹ کی ایجاد میں ایک بڑا فرق تھا۔ پرنٹنگ پریس کے ذریعے زیادہ تر سنجیدہ لوگ کافی تحقیق کے بعد اپنے خیالات کتاب کی شکل میں دوسروں تک پہنچاتے تھے۔ انٹر نیٹ پر زیادہ تر غیر سنجیدہ ‘ کم تعلیم یافتہ لوگ زیادہ شاطر لوگوں کا پراپیگنڈا آگے پھیلاتے رہتے ہیں ۔ اس میں ہنسنے ہنسانے اور شغل میلے کا عنصر بہت غالب ہے ۔

خیر انسان اس قابل ہو گیا کہ پلک جھپکنے میں اپنا خیال اور اپنی معلومات دنیا کے ایک سرے سے دوسرے سرے تک پہنچا سکے ۔ انسان نے میزائل کے ذریعے خلا میں ایسے عدسے ‘ ایسی دوربینیں پہنچا دیں ‘ جو کہ دور موجود ستاروں ‘ ان کے سیاروں بلکہ پوری پوری کہکشائوں کی تصویر ہمارے سامنے رکھ سکیں ۔ انہی دوربینوں کی مدد سے انسان نے جب دوسری کہکشائوں کی شکل دیکھی تو پھر وہ اپنی کہکشاں کی شکل کو بھی سمجھ گیا‘ ور نہ وہ خلا میں کبھی اتنا دور نہیں جا سکا کہ نظر بھر کے اپنی کہکشاں کو دیکھ سکے ؛ البتہ انسان نے خلا سے پورے کرہ ٔارض کو ضرور دیکھ لیا۔ وہاں کافی سیٹیلائٹ ایسے بھی پہنچائے گئے‘ جن کا رخ زمین کی طرف تھا۔ زمین پر موجود چپہ چپہ اس وقت ان سیٹلائٹس کی نظر میں ہے ۔

تجسس انسان کی جبلتوں کے ساتھ تعامل کرتاہے اورمزید فیصلہ کن ہوجاتاہے‘ اسی تجسس کی ایک عجیب و غریب Dimensionیہ ہے کہ کبھی کبھار انسان اپنی حسین و جمیل بیوی کو چھو ڑ کر نسبتاً کم شکل و صورت والی عورت کا پیچھا کرنے لگتا ہے ۔ اس کی وجوہات میں نا معلوم کا تجسس بھی ایک بڑی Drive ہے ۔ اسی تجسس کی وجہ سے ابتدائی زمانوں میں انسان اپنی محفوظ پنا ہ گاہوں کو چھوڑ کر خطرات سے بھرپور سرزمینوں کا سفر کرتا رہا۔ وہاں ٹھوکریں کھاتا رہا۔ یہی تجسس ہے ‘ جس نے غلبے کی جبلت کے ساتھ تعامل کر کے دنیا کی دو بڑی عالمی طاقتوں امریکہ United States اور سویت یونین کو چاند فتح کرنے پہ اکسایا ۔ اس زمانے میں دونوں عالمی طاقتیں سالانہ چار پانچ مشن چاند کی طرف خلا میں روانہ کر رہی تھیں ۔ اس طرح یہ تجسس جب کسی دوسری جبلت کے ساتھ ملتاہے تو پھر یہ اور بھی فیصلہ کن بن جاتا ہے ۔

انسان نے تجسس سے فائدہ اٹھاتے ہوئے کرۂ ارض کے وسائل سے اتنا فائدہ اٹھایا کہ اس کی زندگی‘ زمین پر اس کا یہ وقت انتہائی پرتعیش بن گیا۔ آج ایک مزدور بھی انجن ‘ فریج ‘ پنکھے اور بجلی جیسی سہولیات سے فائدہ اٹھا رہا ہے ۔ یہ وہ چیزیں ہیں ‘ جو ماضی میں بادشاہوں کو بھی میسر نہیں تھیں ‘ جبکہ سوشل میڈیا بھی تقریباً سبھی استعمال کر رہے ہیں ۔ انتہائی دور درا ز کے دیہات میں رہنے والے عمر رسیدہ لوگ بھی ۔

انسان اس تجسس سے فائدہ تو اٹھاتا رہا‘ لیکن ایک دن اسے اس نعمت کا حساب بھی دینا ہوگا ۔ اس کی مثال کچھ یوں ہے کہ آپ اپنے ملازم کو ایک لینڈ کروزراور کافی ایندھن فراہم کرتے ہیں اور اسے دوسرے شہر جانے کا حکم دیتے ہیں ۔ اگلے روز معلوم ہوتاہے کہ وہ لینڈ کروزر لے کر نکلا اور راستے میں جو پہلا گائوں آیا‘ وہاں کھڑے ہو کر میلہ دیکھتا رہا ۔ اب جب آپ اس سے اس کی ذمہ داری کے بارے میں پوچھیں گے تو وہ آپ کو کیا منہ دکھائے گا۔ اسی طرح اللہ نے انسان کو عقل دی ‘ تجسس دیا تو اس کا بنیادی مقصد یہ تھا کہ انسان کائنات میں خدا کی نشانیاں دیکھتے ہوئے اس پہ ایمان لے کر آئے ۔ اگر انسان اپنی اس عقل کواپنی موت سے پہلے دنیا جہان کے فائدے اٹھانے کے لیے استعمال کرتا رہے لیکن خدا کے بارے میں نہ سوچے تو اس کی ساری زندگی مکمل خسارے کی نذر ہے ۔خدا کی یہ نشانیاں ہرطرف ہیں ۔ سب سے بڑھ کر تو انسانی عقل ہی خدا کے وجود کی سب سے بڑی نشانی ہے ؛ اگر آپ قرآن Quran کھول کر پڑھیں تو آپ کو ہر چوتھی آیت میں یہ الفاظ ملیں گے '' اس میں عقل والوں کے لیے نشانیان ہیں ‘‘ ۔ '' اس میں غور و فکر کرنے والوں کے لیے نشانی ہے ‘‘ ۔ بار بار خدا آپ کو یہ دعوت دیتاہے کہ آپ تخلیقِ کائنات پر غور کریں ‘ اگر آپ تعصبات سے اوپر اٹھ کر غور کریں‘ تو 92عناصر میں سے کچھ کا جڑ کر زندہ چیزوں کی شکل اختیار کرنا اور ان زندہ چیزوں میں سے ایک کے اس قدر عقل مند ہوجانے کا سبب سوائے خدا کی Existenceکے اور کچھ بھی نہیں ۔

لیکن غور تو بندہ تب کرے ‘ جب وہ نتائج پہ عمل درآمد کا متحمل بھی ہو۔حقیقت یہ ہے کہ خدا کا وجود سورج نہیں ‘بلکہ کہکشاں کے مرکز کی طرح جگمگا رہا ہے ‘لیکن مسئلہ یہ ہے کہ اگر آپ اس پر ایمان لے آئیں تو پھر آپ اپنی زندگی کو enjoyنہیں کر سکتے۔مسئلہ دلیل کا نہیں ہے ‘اصل مسئلہ enjoymentختم ہونے کا ہے !

 277