سپریم کورٹ کا نوازشریف کیخلاف العزیزیہ ریفرنس 3 ہفتے میں مکمل کرنے کا حکم

19 نومبر 2018

Supreme Court ka Nawaz Sharif kay khilaaf alazizya refrences 3 haftay mein mukammal karne ka hukum

اسلام آباد: سپریم کورٹ نے احتساب عدالت کو نوازشریف کے خلاف العزیزیہ ریفرنس تین ہفتے میں مکمل کرنے کا حکم دے دیا۔

نوازشریف کے خلاف العزیزیہ اسٹیل ملز ریفرنس کی مدت 17 نومبر کو ختم ہوچکی ہے جس کی مدت میں توسیع کے لیے احتساب عدالت کے جج ارشد ملک نے 16 نومبر کو سپریم کورٹ کو خط تحریر کیا تھا جس میں ٹرائل کی مدت میں توسیع کی درخواست کی گئی تھی۔

چیف جسٹس کی سربراہی میں 2 رکنی بینچ نے احتساب عدالت کے جج محمد ارشد ملک کی درخواست پرسماعت کی جس سلسلے میں نوازشریف کی طرف سے خواجہ حارث عدالت میں پیش ہوئے۔

عدالت نے العزیزیہ ریفرنس کا ٹرائل 3 ہفتے میں مکمل کرنے کا حکم دیا۔

چیف جسٹس پاکستان Pakistan نے کہا کہ العزیزیہ ریفرنس کا ٹرائل مکمل کرنے کے لیے مزید مہلت نہیں ملے گی۔

واضح رہےکہ سپریم کورٹ العزیزیہ اور فلیگ شپ ریفرنس میں ٹرائل کی مدت میں 6 مرتبہ پہلے ہی توسیع کرچکی ہے اور اس میں آخری توسیع 12 اکتوبر کو کی گئی جس میں عدالتِ عظمیٰ نے احتساب عدالت کو 17 نومبر تک کی مہلت دی تھی۔

نیب ریفرنسز کا پسِ منظر

سپریم کورٹ کے پاناما کیس سے متعلق 28 جولائی 2017 کے فیصلے کی روشنی میں نیب نے شریف خاندان کے خلاف 3 ریفرنسز احتساب عدالت میں دائر کیے، جو ایون فیلڈ پراپرٹیز، العزیزیہ اسٹیل ملز اور فلیگ شپ انویسٹمنٹ سے متعلق ہیں۔

نیب کی جانب سے ایون فیلڈ پراپرٹیز (لندن فلیٹس) ریفرنس میں سابق وزیراعظم نواز شریف، ان کے بیٹوں حسن اور حسین نواز، بیٹی مریم نواز Maryam Nawaz اور داماد کیپٹن ریٹائرڈ محمد صفدر کو ملزم ٹھہرایا گیا تھا۔

اس کیس میں احتساب عدالت کی جانب سے 6 جولائی کو نواز شریف، مریم نواز Maryam Nawaz اور کیپٹن (ر) صفدر کو سزا سنائی گئی تھی اور وہ اڈیالہ جیل میں قید تھے، تاہم 19 ستمبر کو اسلام آباد ہائیکورٹ نے تینوں کی سزائیں معطل کرکے انہیں رہا کرنے کا فیصلہ سنا دیا۔

ایون فیلڈ ریفرنس میں نواز شریف Nawaz Sharif اور دیگر کی سزا معطلی اور بریت کی درخواستوں پر اسلام آباد ہائیکورٹ میں بھی اپیلیں زیرِسماعت ہیں۔

العزیزیہ اسٹیل ملز اور 15 آف شور کمپنیوں سے متعلق فلیگ شپ انویسٹمنٹ ریفرنس میں نواز شریف Nawaz Sharif اور ان کے دونوں بیٹوں حسن اور حسین نواز کو ملزم نامزد کیا گیا ہے، جو اس وقت زیرِ سماعت ہیں۔

نواز شریف Nawaz Sharif کے صاحبزادے حسن اور حسین نواز اب تک احتساب عدالت کے روبرو پیش نہیں ہوئے جس پر عدالت انہیں مفرور قرار دے کر ان کا کیس الگ کرچکی ہے جبکہ نواز شریف Nawaz Sharif ٹرائل کا سامنا کر رہے ہیں۔

سپریم کورٹ نے پاناما کیس کے فیصلے میں احتساب عدالت کو 6 ماہ میں ریفرنسز پر فیصلہ سنانے کی ہدایت کی تھی تاہم عدالت کی مقرر کردہ مدت میں ریفرنسز مکمل نہ کیے جاسکے۔

 65