بھارتی Indian الیکشن سٹنٹ کا ہائی الرٹ

ایک اور ایک - منیر احمد بلوچ

19 نومبر 2018

Bharti election stnt ka high alert

انڈین نیوی اور کوسٹ گارڈز‘جو 7517 کلو میٹر وسیع بھارتی Indian سمندری حدود کے حفاظتی فرائض انجام دے رہی ہے‘ اس میں گوا کی سمندری سرحد151km‘ مہاراشٹر653km‘ کرناٹک280km‘ کیرالہ569km‘ تامل ناڈو974km ‘ آندھرا پردیش971km ‘اڑیسہ476km ‘مغربی بنگال157km‘ گجرات کی سمندری سرحد 1215 ‘کلومیٹر ہے ‘جبکہ جزائر انڈیمان ‘ پانڈی چری اور نکوبر اس کے علاوہ ہیں‘ جن کے متعلق انتہائی مضحکہ خیز الرٹ ‘یہ کہتے ہوئے جاری کیا گیا ہے کہ ایک پاکستانی عسکری تنظیم والے یہاں حملہ آور ہونے والے ہیں۔ بھارت India کے اندر سے ہی آوازیں اٹھنا شروع ہو گئی ہیں کہ نریندر مودی narendra modi ٹولے کا یہ الرٹ سوائے‘ 2019ء کے آمدہ الیکشن سٹنٹ کے کچھ نہیں۔ مودی ٹولے نے ‘مضحکہ خیز الرٹ جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ ان کے پاس جولائی سے ہی اطلاعات آ رہی تھیںکہ پاکستان Pakistan کی ایک کالعدم جہادی تنظیم کسی بھی وقت گجرات یا بھارت India کی کسی دوسری بندر گاہ یا پھر کارگو کے لیے استعمال ہونے والے بحری جہازوںاور سمندر میں کھڑے تیل بردار آئل ٹینکروں کو نشانہ بناسکتی ہے ۔ان خفیہ رپورٹس کا حوالہ دیتے ہوئے بھارتی Indian حکومت نے الزام عائد کیا ہے کہ اس تنظیم کو اس قسم کی دہشت گردی کیلئے پاکستان Pakistan کی ایک خفیہ ایجنسی نےSea Strike Capabilities میں ماہر کرنے کیلئے خصوصی طور پر اس کے لوگوں کی تربیت دینا شروع کر رکھی ہے اور امسال جون میں یہ سب جہادی‘ اس فیلڈ میں انتہائی مہارت حاصل کر چکے ہیں۔ اس کے علا وہ ایک اور جہادی تنظیم کے کارکنوںکو بھی پاکستان Pakistan کی زیر نگرانی انتہائی سخت قسم کی تیراکی اور سمندر کی گہرائیوں میں رہتے ہوئے غوطہ خوری کی تربیت دی جا رہی ہے۔ بھارتی Indian حکومت کا کہنا ہے کہ ان کی خفیہ رپورٹس کے مطا بق؛ یہ تنظیم کافی عرصے سے سمندری ماحول اور اس کی سختیوں سے نبرد آزما ہونے میں مصروف ہے۔

دوسری طرف بھارت India کی حزب اختلاف سیاسی جماعت کانگریس کا کہنا ہے کہ مودی نے آنے والے عام انتخابات کیلئے ایک مرتبہ پھر ہندو انتہا پسندوں کے ووٹ حاصل کرنے کیلئے یہ الرٹ ڈراما رچایا ہوا ہے ‘ جبکہ بھارتی Indian سرکار کا دعویٰ ہے کہ یہ رپورٹس بھارت India کی ان خفیہ ایجنسیوں کے افسران کی طرف سے حاصل کردہ معلومات پر مبنی ہیں‘ جو عرصے سے پاکستانی ڈیسک پر کام کر رہے ہیں۔ان افسران میں کچھ نے اپنا نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر ہندوستان ٹائمز کو بتایا کہ26/11 ممبئی حملوں کے سلسلے میں امریکی ایف بی آئی کے ہاتھوں گرفتار کئے جانے والے ڈیوڈ ہیڈلی کو جب 2010ء میں بھارت India کے حوالے کیا گیا ‘تو اس سے پہلے تو نیشنل انویسٹی گیشن ایجنسی کی تفتیش سے یہ بات سامنے آئی تھی کہ پاکستانی سکیورٹی فورسز اب بھارت India کے خلاف زمینی نہیں ‘بلکہ اس کی سمندری حدود کو استعمال کرتے ہوئے اسے کوئی بڑا نقصان پہنچانے کی کوششوں میں مصروف ہیں اور دوسرے لشکر طیبہ اور جیش محمد کے جن جہادیوں کو سمندری میرینز کمانڈوطرز کی تربیت دی گئی ہے‘ ان کے کمانڈر کے بارے میں کہا جاتاہے کہ اس کا نام یعقوب ہے‘ جسے بھارت India کی کوسٹل حدود کے کسی بھی حصے پر حملے کی کمان کرنے کیلئے ان کا امیر مقرر کیا گیا ہے ۔( بھارت India میں کچھ حلقے کہنا شروع ہو چکے ہیں کہ لگتا ہے کہ اب جلد ہی یعقوب نام کا کوئی پاکستانی اجمل قصاب کی طرح سامنے لایا جائے گا‘ جسے انہوں نے نیپال یا کسی اور جگہ سے گرفتار کر رکھا ہے) ممبئی نیول انٹیلی جنس کے مطا بق سٹیٹ2 الرٹ جاری کرتے ہوئے مغربی سمندرکے علا وہ بھارت India کی دوسری سمندری حدود کی نگرانی کرنے والی تمام فورسز کو ہر قسم کے جہاز اور کشتیوں کی مکمل چیکنگ اور تلاشی کے سخت ترین احکامات جاری کر د یئے گئے ہیں۔

مودی سرکار کے ٹولے نے یہ الرٹ تو نا جانے کن اطلاعات کی بنا پر جاری کیا ہے‘ لیکن بھارت India کے اندر سے کچھ دانشور اور میڈیا سے تعلق رکھنے والوں کے علا وہ سیا سی جماعتوں کے سرکردہ رہنما‘ اسے نریندر مودی narendra modi کی جانب سے اگلے سال آنے والے عام انتخابات کیلئے ہندو انتہا پسندوں کے ووٹرز کو اپنی جانب ایک بار پھر کھینچنے کا فریب قرار دے رہے ہیں۔ہیومن رائٹس تنظیموں اور اپوزیشن سے تعلق رکھنے والے سیا ستدانوں کا کہنا ہے کہ اسی قسم کے سمندری ریڈ الرٹ کی خبر بھارت India کے انگریزی اخبار ٹائمز آف انڈیا نے بھی دو سال شائع کی تھی۔ سات مارچ2016 ء کو ٹائمز آف انڈیا نےWestren Sea Board کی جانب سے خطرات کا اشارہ دیتے ہوئے لکھا تھا کہ بھارت India نے الرٹ جاری کرنے سے پہلے سر کریک کی مکمل ناکہ بندی اور پاکستان Pakistan کی گجرات کی حدود کی جانب رخ کرنے والی تمام کشتیوں پر نظر رکھنے کا حکم دے دیا ہے ‘بلکہ اس کیلئے جہازوں کی پٹرولنگ کے ساتھ ساتھ سمندری سورٹیز بھی شروع کردی گئیں ہیں‘ لیکن جب پاکستان Pakistan کی سمندری حدود کی جانب سے انہیں کسی قسم کی موومنٹ نظر نہ آئی‘ تو تھک ہار کر یہ پیچھے ہٹ تو گئے‘ لیکن ان کی سمندری گشت‘ اسی طرح جاری رہی۔کہا جاتا ہے کہ 2016 ء کا یہ الرٹ بھارتی Indian پنجاب کے 4 فروری2017ء کو ہونے والے انتخابات میں پاکستان Pakistan دشمنی کو ہوا دینے کیلئے استعمال کیا گیا تھا‘ کیونکہ بھارتی Indian اسٹیبلشمنٹ سمجھتی تھی کہ پنجاب کے انتخابات میں اکالی دل کی کامیابی ان کیلئے اہم ہے ۔ دفاعی امور سیا ست اور بین الاقوامی معاملات پر نظر رکھنے والے‘ اگر کبھی گجرات میں نریندر مودی narendra modi کی2009ء میں بطور وزیر اعلیٰ دوبارہ شاندار کامیابی کے محرکات کا جائزہ لینے کی کوشش کریں‘ تو اس کیلئے گودھرا ٹرین اور26/11 کا نائن الیون فلیش کرتا ہوا سامنے آجائے گا۔

پٹھان کوٹ کے فضائی اڈے پر کئے گئے دہشت گردوں کے حملے کا حوالہ دیتے ہوئے چندی گڑھ میںبھارت India کی ویسٹرن کمانڈر کے لیفٹیننٹ جنرل کے جے سنگھ کہنے لگے کہ ہم تک پہنچنے والی کچھ انتہائی مصدقہ اطلاعات کے مطابق پاکستانی دہشت گرد نئی دہلی میں پارلیمنٹ کے اجلاس یاSHIVRATRI FESTIVAL کو نشانہ بنا سکتے ہیں‘ اس لئے ہم نے'' ایکسٹرا کیئر‘‘ کا حکم دے دیا ہے‘ کیونکہ اس سے پہلے دو جنوری2016ء کو پٹھان کوٹ ائیر بیس پر ممکنہ حملے کی اطلاعات تو تھیں‘ لیکن ہائی الرٹ جاری نہیں ہوسکاتھا ‘جس کا جیش محمد والوں نے فائدہ اٹھاتے ہوئے‘ ہمیںمعمولی سا نقصان پہنچادیا تھا۔نریندر مودی narendra modi ٹولے نے الرٹ تو جاری کر دیا ہے‘ لیکن کیا اس کی ایجنسیوں کی اطلاعات کے مطا بق؛ پاکستان Pakistan نے ایک جہادی تنظیم کے میرین کمانڈوز کا بریگیڈ تشکیل دے دیا ہے‘ جو اس کی سمندری حدود کے چاروں جانب سے حملہ آور ہو سکے گا؟ کیا بھارت India نہیں جانتا کہ اس کی اس وقت12 بڑی بڑی بندرگاہوں اور لاتعداد187 Unmanned Jettiesچھوٹی بندر گاہوںکے علاوہ‘ لاتعداد فشنگ پورٹس اور Harbours ہیں ‘جبکہ بھارت India کی میری ٹائم بائونڈریز پاکستان Pakistan کے علا وہ مالدیپ‘ میانمار‘سری لنکا‘ انڈونیشیا‘ تھائی لینڈ اور بنگلہ دیش سے ملتی ہیں‘جبکہ بھارتی Indian سمندری حدود میں کل1197 جزیرے ہیں ‘ان میں سے 572 جزیرے انڈیمان عرف کالا پانی میں واقع ہیں۔بھارتی Indian اخبار ہندوستان ٹائمز‘ اس سمندری بریگیڈ کی خبر دینے سے پہلے؛ اگر نریندر مودی narendra modi کو یہ مشورہ دیتے ہوئے بتاتا کہ جناب پاکستان Pakistan کا واحد سمندری راستہ گجرات کی جانب سر کریک سے نکلتا ہے‘ اس کی تو ہم نے نظروں میں رکھا ہوا ہے‘ اب دو ہی رستے باقی بچتے ہیں ؛ایک تامل ناڈو کی PALK STRAIT اور دوسری بنگلہ دیش‘کیا پاکستانی جہادی ان دو جگہوں سے بھارت India پر حملہ آور ہو سکتے ہیں۔

بہر حال بھارتی Indian سرکار کا ہائی الرٹ اپنی جگہ‘لیکن پاکستان Pakistan کو بھی اس صورت حال میں جلد ہی آنے والے کسی عدالتی فیصلے کے نتیجے میں نریندر مودی narendra modi کے ممکنہ غصے کا سامنا کرنے کیلئے انتہائی الرٹ رہنا ہو گا۔

 116