نیب قانون میں ترمیم کی جانی چاہیے، سپریم کورٹ

18 نومبر 2018

neb qanoon mein tarmeem ki jani chahiye, Supreme Court

اسلام آباد: سپریم کورٹ نے قانون سازوں کو تجویز دی ہے کہ قومی احتساب آرڈیننس (این اے او) 1999میں ترمیم پر غور کریں تاکہ ملزم کو احتساب عدالت سے ضمانت لینے کا اختیار حاصل ہوسکے۔

سپریم کورٹ کے جسٹس آصف سعید کھوسہ نے طلعت اسحٰق کی درخواست پر فیصلے میں لکھا کہ ’موجودہ حالات میں قانون ساز، اگر چاہیں تو قومی احتساب آرڈیننس 1999 میں ترمیم کرسکتے ہیں تاکہ کوئی بھی ملزم متعلقہ عدالت سے ضمانت حاصل کرسکے‘۔

واضح رہے کہ قومی احتساب ادارے (نیب) کی جانب سے سیکشن 18 (جی) اور سیکشن 24 (بی) کے تحت کرپشن ریفرنس میں طلعت اسحٰق کو گرفتار کیا تھا اور بعدازاں ان کی ضمانت کی درخواست بلوچستان ( Balochistan )ہائی کورٹ نے مسترد کردی تھی۔

جسٹس کھوسہ نے تجویز دی کہ ٹرائل کے لیے احتساب آرڈیننس کے سیکشن 16 اے میں دیا گیا 30 دن کا وقت بھی غیر حقیقی ہے اور اس پر بھی نظر ثانی ہونی چاہیے۔

طلعت اسحٰق پر الزام ہیں کہ انہوں نے کوئٹہ ڈویژن کے ڈائریکٹر ڈویلپمنٹ میں سپرنٹنڈنٹ کو عہدے پر آمدن سے زائد اثاثے اپنے، اپنی اہلیہ اور دیگر افراد کے نام پر بنائے تھے۔

استغاثہ کے مطابق انہوں نے 9 کروڑ 30 لاکھ روپے کی 17 غیر منقولہ جائیدادیں اور 6 گاڑیاں خریدی تھیں۔

اس ہی طرح کا سوال سابق وزیر اعظم ( Prime Minister ) کے وکیل خواجہ حارث نے بھی اپنے موکل اور ان کی صاحبزادی مریم نواز ( Maryam Nawaz )کے دفاع میں عدالت عظمیٰ میں، نیب کی جانب سے اسلام آباد ( Islamabad )ہائی کورٹ کے 18 دسمبر کو سزا معطلی کے فیصلے کے خلاف دائر کی گئی اپیل میں اٹھایا تھا۔

اس کیس میں سپریم کورٹ نے ضمانت دیے جانے پر آئینی دائرہ اختیار جاننے کے لیے لارجر بینچ تشکیل دیا تھا۔

لارجر بینچ کرمنل پروسیجر کوڈ کے سیکشن 426 کے تحت نیب کیسز میں سزاؤں کی معطلی کے حوالے سے بھی عدالت عظمیٰ کے دائرہ اختیار کے حوالے سے غور کرے گا۔

اپنے فیصلے میں جسٹس کھوسہ کا کہنا تھا کہ طلعت اسحٰق کی جانب سپریم کورٹ میں جائیدادوں کے حوالے سے اپنائے گئے موقف میں تضاد ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ طلعت اسحٰق کا معاملہ کیس میں شریک ملزم، جنہیں ہائی کورٹ نے ضمانت دی ہے، سے الگ ہے کیونکہ وہ اس کیس میں مرکزی ملزم ہیں جبکہ شریک ملزم پر صرف مبینہ بے نامی دار کا الزام ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ ’ان کے ٹرائل کو ختم کرنے میں تاخیر کی کوئی وجہ نہیں بتائی گئی اور نہ ہی اس کا کوئی ذمہ دار ہے‘۔

 33