آتی ہے صدائے جرسِ ناقۂ ِلیلیٰ

اپنی عدالتوں کو جو معاشرہ پامال کر دے‘ اس کے پاس باقی کیا بچے گا۔ وہ کس قدر مفلس‘ درماندہ اور کھوکھلا ہو گا۔ خدا کی پناہ‘ خدا کی پناہ! لاہور اور ملتان کے چند سو وکلاء کا خیال اگر یہ ہے کہ عدالتوں کو ہتھیار ڈالنے پر وہ مجبور کر دیں گے اور خود اپنی خاموش اکثریت کو بلیک میل کرنے میں کامیاب رہیں گے تو وہ ایک عظیم خود فریبی کا شکار ہیں... خود شکن! ہیجان اور برہمی میں کیے جانے والے فیصلے ناکامی پہ منتج ہوتے ہیں۔ راتوں رات بنائی جانے والی دیواریں ناپائیدار ہوا کرتی ہیں۔ پہلی آندھی اور پہلی بارش ہی انہیں اکھیڑ کر پھینک سکتی ہے۔ محترمہ عاصمہ جہانگیر‘ علی ظفر‘ سلیمان اکرم راجہ‘ فواد چوہدری اور بیرسٹر سعد رسول کی ممبرشپ ختم کرنے کا فیصلہ کیا کہتا ہے؟ یہی کہ کچھ لوگ ہوش و خرد کو تیاگ چکے۔ تشدد کے حامیوں اور پرامن وکلاء کے درمیان دراڑ موجود ہے۔ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ‘ بڑھتی جائے گی۔ طوفان تھمے گا تو خس و خاشاک باقی بچیں گے اور ایک شرمندہ ٹولہ۔ مدتوں تک اسے معذرت خواہانہ روّیہ اختیار کرنا ہو گا۔ وکلاء نے اپنی قوت 2007-08ء کی تحریک میں دریافت کی۔ قطعاً کوئی شبہ نہیں کہ‘ عدلیہ کو بااختیار بنانے میں ایک تاریخ ساز کردار انہوں نے ادا کیا۔ اسی نے بعض کو غلط فہمی میں مبتلا کر دیا۔ وہ یہ سمجھتے کہ ان کی یہ قوّت مستقل اور اٹل ہے۔ جس طرح چاہیں‘ وہ اسے برت سکتے ہیں۔ ایک اصول کی حمایت سے حاصل کی جانے والی طاقت بے اصولی اور بدقسمتی میں کیسے برقرار رہے گی؟ جمہوری حکمرانی کی تمنا پانے والے ایک معاشرے میں‘ طاقت کے بہت سے مراکز ہوتے ہیں‘ کوئی ایک نہیں۔ مقننّہ‘ انتظامیہ‘ عدلیہ‘ وکلاء جس کا حصہ ہیں اور آزاد میڈیا۔ ان اداروںکے درمیان توازن ہی جمہوری زندگی کی ضمانت مہیا کرتا ہے۔ کسی ایک گروہ کی مستقل بالادستی اگر ممکن ہوتی تو ایک کے بعد دوسرا فوجی ڈکٹیٹر رسوا نہ ہوتا۔ ایک کے بعد دوسری منتخب حکومت من مانی کا ارتکاب کرنے پہ خاک نہ چاٹتی۔ آزادی رواداری کا مطالبہ کرتی ہے اور اتنا ہی ڈسپلن کا۔ مکمل آزادی‘ پورے ڈسپلن کے ساتھ ہی ممکن ہوتی ہے۔ ڈسپلن اگر نہ رہے تو آزادی بھی نہیں رہتی۔ طاقت اور تشدد کے بل پر‘ ایک گروہ‘ اگر دوسروں پہ مسلط ہونے کی کوشش کرے تو ظاہر ہے کہ ردعمل پھوٹتا ہے۔ کبھی اس میں تاخیر بھی ہو جاتی ہے‘ مگر جوابی قوت کو لازماً بروئے کار آنا ہوتا ہے۔ کبھی تو ایسا بھی ہوتا ہے کہ ردِّعمل میں ابھرنے والی قوت‘ زیادتی پہ تل جانے والوں کو یکسر پامال ہی کر دے۔ کائنات کا صرف ایک ہی پروردگار اور خالق ہے‘ باقی سب مخلوق ہے۔ بندِ شب و روز میں جکڑے ہوئے بندے! وحشت میں مبتلا‘ یہ تحریک ادنیٰ لوگوں کے ہاتھوں میں ہے۔ ملتان ڈسٹرکٹ بار ایسوسی ایشن کے صدر شیر زماں کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ عدالتی پریکٹس نہیں بلکہ ذاتی کاروبار‘ ان کا اصل ذریعہ آمدن اور بنیادی شناخت ہے۔ اس تحریک کے دوسرے لیڈروں میں بھی ایسا کوئی نہیں‘ جسے کوئی عظیم قانون دان مانا جاتا ہو۔ پیر اور منگل کی شام‘ ہونے والے ٹی وی مباحثوں میں وکلاء کے جو نمائندے نمودار ہوئے‘ ان کی اکثریت کے دلائل بودے اور بعض اوقات تو بالکل ہی بے معنی تھے۔ مقدمہ ان کا کمزور ہے‘ اس قدر کمزور کہ ٹھنڈے دل سے اگر وہ خود اس کا جائزہ لیں‘ دیانت داری سے‘ باہم مشورہ کریں تو ''آپ بھی شرمسار ہو‘ مجھ کو بھی شرمسار کر‘‘ کی فضا پیدا ہو۔ دانا بھی کچھ ایسے نہیں۔ آخری کارڈ انہوں نے سب سے پہلے برت ڈالا۔ اس کارڈ کی ناکامی کے بعد وہ کیا کریں گے؟ کب تک مزاحمت کریں گے۔ عاصمہ جہانگیر‘ علی ظفر‘ سلیمان اکرم راجہ‘ فواد چوہدری اور بیرسٹر سعد رسول کی رکنیت انہیں بحال کرنا پڑے گی۔ اس سے ان کی تکریم‘ وزن اور وقار میں کتنا اضافہ ہو گا؟۔ پانچ بار لاہور ہائی کورٹ کے پانچ رکنی معزز بنچ نے شیر زماں کو پیش ہونے کا موقع دیا۔ اس آدمی کو‘ جس نے جسٹس قاسم خان کے ساتھ بدتمیزی کا ارتکاب کیا۔ جن کے ساتھیوں نے ان کے نام کی تختی اکھاڑی اور اس پر فاتحانہ رقص کیا‘ گویا شیر کا شکار کر لیا ہو۔ لاہور ہائی کورٹ میں پیشی سے گریز کس چیز کا مظہر بنے؟ یہی کہ اپنے حق میں کوئی دلیل وہ نہیں رکھتے۔ وکلاء کے مقدمات میں جج حضرات نرمی کا رویہ اختیار کرتے ہیں۔ 2008ء سے اور بھی زیادہ۔ ایسے لوگ ہی سامنا کرنے سے انکار کر سکتے ہیں‘ جن کے جیب و دامان خالی ہوں۔ جنہیں کوئی دلیل نہ سوجھتی ہو۔ اخلاقی اور ذہنی طور پر ایسے مفلس حضرات کی حمایت میں جو قانون دان بروئے کار آئے ہیں‘ غور کرنا چاہیے کہ کس قدر دانش و بصیرت کے وہ حامل ہیں۔ کس معزز جج کے خلاف وہ اٹھے ہیں اور کس آدمی کو گندی گالیاں انہوں نے دی ہیں؟ نیک نام کئی تھے مگر پچھلے کئی عشروں میں جسٹس منصور علی شاہ کے مرتبے کا آدمی‘ لاہور ہائی کورٹ کا چیف جسٹس نہیں بنا۔ وہ آدمی‘ جس کی جرأت اور فہم ہی نہیں‘ ذاتی شرافت اور نجابت کی کہانیاں کہی جاتی ہیں۔ مدتوں بعد‘ جس نے ماتحت عدالتوں کی نگرانی پر توجہ دی۔ منصور علی شاہ ہائی کورٹ کے جج بنائے گئے تو ان کے خیرخواہوں نے پوچھا: آپ کو اس کی ضرورت کیا تھی؟ آمدن بہت‘ تکریم بہت‘ زندگی میں اور کیا چاہیے؟ ان میں سے ایک نے سوال کیا: ہر ماہ اتنی آمدن سے ایک مکان آپ بنا سکتے یا ایک قیمتی گاڑی خرید سکتے ہیں‘ اس منصب کی حاجت آپ کو کیا تھی؟ ایسے لوگ زمین کا نمک معاشرے کا جوہر ہوتے ہیں۔ انہی کے بل پر سماج جمے جڑے رہتے اور مستقبل کی امیدیں پاتے ہیں۔ لاہور ہائی کورٹ کے احاطے میں مستقل وکلاء کا ایک گروہ‘ جب انہیں غلیظ گالیاں دے رہا تھا تو کارکنان قضا و قدر سوچتے ہوں گے کہ اس قوم کا کیا بنے گا۔ حیف ہے ان پر جو بہترین کو مسترد کرتے اور کمترین کو بالا کرتے ہیں۔ وکلاء کے نجیب اور معزز لوگ اس وقت کہاں تھے؟ میں پا شکستہ جا نہ سکا قافلے تلک آتی اگرچہ دیر صدائے جرس رہی حامد خان کہاں ہیں؟ وہ خاموش کیوں ہیں؟ علی ظفر‘ اعتزاز احسن اور دوسرے وکلاء کو آگے بڑھنا چاہیے۔ ناتجربہ کار نوجوانوں اور نمودونمائش کے آرزومند لیڈروں کو سمجھانا چاہیے کہ صریح تخریب تعمیر اور عزت و توقیر کی راہ کبھی نہیں کھولتی۔ یہی وہ وقت تھا کہ ممتاز قانون دان آگے بڑھتے۔ لیڈر وہی شخص ہوتا ہے‘ جو مشکل حالات میں قندیل بنے۔ دوسرے جب دبائو‘ کنفیوژن اور مصلحت کا شکار ہوں تو وہ سچائی کی آواز بلند کرے۔ شورش پسند اگر معقولیت اختیار کرنے سے انکار کر دیں تو وہ خاموش اکثریت کو آواز دیں۔ دم سادھے کیوں پڑے ہیں‘ متامل اور مجبور کیوں نظر آتے ہیں۔ آتی ہے صدائے جرسِ ناقۂ ِلیلیٰ افسوس کہ مجنوں کا قدم اٹھ نہیں سکتا شورش پسند اقلیت نہیں بلکہ اقوام‘ خاموش اکثریت کی وجہ سے برباد ہوتی ہیں‘ تاریخ کے چوراہے جو لمبی تان کر سو جائے۔ انصاف تو ہوتا ہی وہ ہے‘ جو طاقتور کے ساتھ کیا جائے۔ کمزور ہی کو ہدف کرتا ہے‘ اگر وہ پسند اور ناپسند رکھتا ہے تو انصاف نہیں وہ ناانصافی ہے۔ ریاکاری‘ دکھاوا‘ ڈھونگ‘ تماشا اور شعبدہ بازی ہے۔ بتایا گیا ہے کہ لاہور ڈسٹرکٹ بار اور لاہور ہائی کورٹ بار کے عہدیدار‘ شیر زماں ایڈووکیٹ کے ایما پر بار بار حاضری کا پیمان کرتے رہے۔ کیسے لوگ ہوتے ہیں‘ اپنے وعدوں کی جو پاسداری نہیں کرتے‘ پروا نہیں کرتے۔ بتایا گیا ہے کہ شورش پسندوں کی تعداد کم تھی لیکن پھر عدلیہ کو پامال کرنے کے آرزومند نون لیگ کے حامی‘ ان کے پشت پناہ ہو گئے۔ اگر یہ درست ہے تو بڑی ہی شرمناک بات ہے۔ اپنی عدالتوں کو جو معاشرہ پامال کر دے‘ اس کے پاس باقی کیا بچے گا۔ وہ کس قدر مفلس‘ درماندہ اور کھوکھلا ہو گا۔ خدا کی پناہ‘ خدا کی پناہ









کھنڈر

پورا ملک ہی کھنڈر ہو گیا‘‘۔ میں نے سوچا‘ جب تاجر حکمران ہو جائیں۔ ہر چیز کو صرف اور صرف ‘نفع و نقصان کی نگاہ سے دیکھنے والے تو اس کے سوا کیا ہو۔ کچھ دیر وہاں کھڑا رہا۔چشمِ تصور سے وہ دل گداز منظر دیکھنے کی کوشش‘ جب وہ نحیف و نزار مگر نجیب اور شاندار آدمی‘ مصیبت کے ماروں سے ملنے آیا تھا۔ قائداعظم محمد علی جناحؒ‘ ہماری تاریخ جس کا قرض نہیں چکا سکتی۔ تمام گزرے زمانوں کاسب سے بڑا ‘1947ء میں والٹن روڈ لاہور کامہاجر کیمپ۔ بے نوا‘ بے دست و پا لوگ‘ جن کے لیے کوئی بندوبست نہ کیا گیا تھا۔ اس طوفان کا کسی کو اندیشہ ہی نہ تھا۔ستر اسی فٹ چوڑی اور لگ بھگ اڑھائی سو فٹ طویل‘ سرخ رنگ کی یہ عمارت تب بھی یہیں تھی۔ کسی جاں بلب بڑھیا کی طرح‘ کہنہ اور مضمحل نہیں بلکہ کھلے میدان میں تعمیراتی شوکت کا ایک لہکتا ہوا استعارہ۔ برصغیرپاک و ہند میں بوائے سکائوٹس کا مرکزی دفتر۔ سرخ اینٹوں کی عمارت اب اپنے جلال سے محروم ہو چکی۔اب اپنے ماضی کا مرثیہ ہے۔حکمرانوں کی بے حسی کا ایک اور مظہر۔